اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آبادآزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب خان نے کہا ہے کشمیری امن پسند قوم ہے۔ بھارت حقوق کے حصول کیلئے بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔ حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ بھارتی جمہوریت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوئی وجود نہیں بلکہ یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ آزادی کشمیر نوشتہ دیوار ہے ۔ بھارت طاقت کے بل بوتے پر تحریک کو دبا نہیں سکتا ۔ ممتازکشمیری رہنما ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ کشمیر آج دنیا کی توجہ چاہتا ہے۔پاکستان ، بھارت اور افغانستان کا امن مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر ممکن نہیں۔حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے جنوبی اشیاء میں امن کے خطرات لاحق ہیں۔ کشمیر کی تین نسلیں لاکھوں انسانوں کی جانیں اپنے حقوق کی جدوجہد کیلئے قربان ہو چکیں، کشمیر میں بھارتی جارحیت اور دہشتگردی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار بھارتی سرکار کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ وائس چانسلر اور میزبان ڈاکٹر راجہ حبیب الرحمن نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ سب مہمانوں کو کانفرنس میں شرکت پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس طرح کی کانفرنسز منعقد کر کے مجھے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ ماس طرح کی کانفرنسز سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مدمد ملے گی ۔ دونوں اطراف کے لوگوں کے روابط کو فراغ ملے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد ملے گی ۔ ان خیالات کا اظہارمقررین نے گذشتہ روز اسلام آباد میں جاری دورہ روزہ بین الاقوامی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کشمیر سیمینا ر کے موقع پر صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان ، حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی،امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی ،ممتاز کشمیر رہنما ظفر اکبر بٹ، قاید ایوان سینٹ وچئیرمین مسلم لیگ راجہ ظفر الحق، وائس چانسلر ڈاکٹر حبیب الرحمن ، کنوینئر حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ غلام محمد صفی ، ممبر یورپین پارلیمنٹ امجد رشید، سینئر حریت رہنماء آغا حسن موسوی نے کیا۔ اس موقع پرسینئر حریت رہنما آغا سید حسن موسومی،ممتاز پاکستانی سیاستدان عطیہ عنایت اللہ، کنوینئر اے پی ایچ سی آزاد کشمیر شاخ غلام محمد صفی،حریت رہنما الطاف احمد بٹ ،مشال ملک ، ڈائیریکٹر کے ایم ایس ،غلام نبی نوشہری ، مشتاق الاسلام چیئرمین انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس،ڈاکٹر محمد خان ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آئی آر ڈیفنس یونیورسٹی موجود تھے۔کانفرنس میں میاں نواز شریف کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی ۔اپنے خطاب میں صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان نے کہا کہ کشمیری پرامن لوگ ہیں۔ اس کانفرنس سے ذریعے ہم عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ ہمیں متحد ہو کر اپنی منزل کے حصول کے لیے ہر سطح پر جدو جہد کی ضرورت ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی ، اخلاقی ،سفارتی حمایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں دوبارہ بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کریں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے امن کے خواہاں ہیں ۔اب ہم اس قابل نہیں رہے کہ مزید ظلم و جبر برداشت کرسکیں بھارت ہر ظلم کی حد پار کر چکا ہے ہم مٹ جائیں گے یا مکمل آزادی حاصل کریں گے ۔انٹر نیشنل کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ بھارت گذشتہ 69برسوں سے مقبوضہ ریاست پر بندوق کے زور پر قابض ہے اس نے ہماری زمین اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر غصب کر رکھی ہے ۔ گزرے 69برسوں میں 6لاکھ لوگ شہید ہو چکے ہیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں گمنام قبریں آج بھی وادی کے طول و عرض میں بربریت کے نشان کے طور پر موجود ہیں ۔ حریت سربراہ نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کا موازنہ اس وقت دنیا میں صرف فلسطین سے کیا جا سکتا ہے جہاں اسرائیلی جارحیت اپنی پوری وحشت کے ساتھ فلسطینیوں کے حقوق سلب کر چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ جب تک آخری کشمیری سر زمین کشمیر پر زندہ ہے بھارتی قابض فوج کے خلاف اپنی جدو جہد ہر سطح پر جاری رکھیں گے ۔ سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم عالمی دنیا پاکستان اور بھارت کو یہ بات باور کراتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت سرحدی تنازعہ نہیں یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے پیدائشی حق حق خود ارادیت کا سوال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں بھرپور طریقہ سے اٹھائے ۔ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانہ متحرک ہو کر کشمیر کے مسئلہ پر عالمی برادری کو آگاہ کریں ۔ آج ہماری عزتوں ، عصمتوں اور مال و اسباب کو ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد کیا جا رہا ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی ہے ۔

سینئر حریت رہنماء و جموں کشمیر سالویشن مؤمنٹ کے چئیرمین اور کانفرنس کے مہمان خصوصی ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ کشمیری مائوں بہنوں نے حق خود ارادیت کے لیے لا تعداد قربانیاں پیش کیں ۔ میں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ میدان کار زار میں گزارا ہے میرے حوصلے آج بھی جواں ہمت اور بلند ہیں ۔ ہماری سیاسی جدو جہد اپنی قوت کے ساتھ بھارتی جارحیت کے خلاف جاری ہے اور رہے گی ۔ دہلی حکومت اور جموں کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی و دیگر قائدین حریت کو کانفرنس میں شرکت سے روک کر بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ۔ پاکستانی قوم اور آزاد کشمیر کی عوام کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان اپنی سیاسی ، سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کو جلد آزادی دلائے گا۔اس طرح کی کانفرنسز کا انعقاد جاری رہنا چاہیے ۔ کانفرنس سے چئیرمین مسلم لیگ ن و قائد ایوان سینٹ راجہ ظفر الحق نے خطاب مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے جنوبی ایشیاء کے امن کو خطرات لاحق ہیں ۔ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ۔ کشمیری طلبہ کو امتیاز ی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ازم کی وجہ سے بھارت میں انتہاء پسندی کو فروغ مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک روپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔ اکیس جولائی 2015ء کو ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی فوج کی طرف سے سیکڑو ں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کو منظر عام پر لایا ۔ پاکستان کے اندر تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر بلکل متفق ہیں ۔ ہم کشمیریوں کے بنیادی حق حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی ہر محاذ پر جاری رکھیں گے ۔ انٹر نیشنل کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی نے خطاب میں کہا کہ حریت رہنمائوں کو پاکستان آمد پر خیر مقدم کرتے ہیں ۔ کشمیری قربانیاں پیش کرکے تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کشمیر نوشتی دیوار ہے ۔ بھارت ظلم و ستم کر کے کشمیری عوام کو غلام نہیں بنا سکتا ۔ مسئلہ فلسطین کے بعد مسئلہ کشمیر دنیا میں فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے غیر مربوط جدو جہد کو منظم کر کے منزل کے حصول کے لیے کردار ادا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کو بھارت کے عزائم کے خلاف جامع حکمت عملی اپنانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت کا ایک فوجی کشمیر میں موجود رہے گا تب تک کشمیری اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے ۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے اقوام متحدہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔ اس موقع پر کانفرنس سے ممبر یورپین پارلیمنٹ امجد رشید نے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر دو ملکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے ۔ ہمیں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری رکھنی چاہیں ۔ اقوام متحد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم کو بنیادی حق حق خود ارادیت دیا جائے ۔ اس موقع پر انسانی حقوق کی معروف کارکن و سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ نے خطاب میں کہا کہ کشمیر زمینہ جھگڑا نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کا مسئلہ ہے ۔ ہم کشمیر میں دی جانے والی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ اس موقع پر کانفرنس سے مشعال ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پنڈتوں کی واپسی کے خلاف نہیں بلکہ انہیں الگ کالونیوں میں بسانا کشمیریوں کو منظور نہیں ہے ۔ اس موقع پر ڈائیریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل اسلام نے خطاب میں کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف وزریوں میں ملوث ہے گذشتہ پندروہ روز میں کم از کم بیس بے گناہ کشمیریو کو شہید کیا گیا ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی ایک مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲