اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے دنیائے اسلام کی موجودہ دلخراش صورتحال کو اسلام و مسلمین کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مسلمان ممالک کی حکومتیں دشمن قوتوں کی سیاسی آلہ کاری سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے عوام کی سیاسی خواہشات اور دین وملت کے مفادات کی حفاظت کیلئے سنجیدہ نہیں ہوجاتیں صورتحال میں مثبت تبدیلی کے امکانات معدوم رہیں گے۔آغا صاحب نے کہا کہ فلسطین، یمن ، عراق، شام ، بحرین وغیرہ کے سلگتے مسائل صرف اور صرف اسلام دشمن مغربی قوتوں کے پیدا کردہ ہیں اور ان ممالک میں مغرب کی خود غرضانہ مداخلت قیام امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیائے اسلام کے محفوظ مستقبل کیلئے اسلامی ممالک کا آپسی اتحاد از حد ضروری ہے۔ اگر اسلامی ممالک مغربی قوتوں کے اثرو نفوذ سے آزاد ہوکر خلوص نیت کے ساتھ اسلام اور ملت اسلامیہ کی خواہشات و احساسات اور قرآنی تعلیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سر جوڑ کر آپسی مسائل پر سنجیدگی سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے تو ان تمام مسائل کا قابل قبول حل نکل آتا۔آغا صاحب نے کہا کہ یمن کے برہنہ پا عوام پر سعودی اتحاد کی ایک سالہ فضائی جارحیت میں ہزاروں نہتے عوام خاک و خون میں غلطان ہوچکے ہیں وہاں کی بنیادی تنصیبات کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ایک سنگین انسانی المیہ پیدا ہوا ہے۔عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کا نظارہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ملک خود اپنے برادر مسلمانوں پر جارحیت کیلئے راتوں رات اتحادبنا کر ان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں لیکن فلسطینی مظلوم عوام کی مدد کیلئے انہیں ایسا اتحاد بنانے کی آج تک توفیق حاصل نہیں ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ اب دنیائے عرب کے عوام اپنے حکمرانوں کی امریکہ اور اسرائیل نواز پالیسیوں سے تنگ آکرمزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیائے عرب کی جمہوری تحریکوں کے خاتمے کیلئے خود عرب ممالک کی حکومتوں اور بدترین دہشت گرد تنظیموں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔آغا صاحب نے نائجیریا کی عوامی تحریک کے قائد آیت اللہ شیخ زکزاکی ، سعودی عربیہ میں جمہوری تحریک کے نقیب شہید آیت اللہ شیخ باقر النمر کے قریبی ساتھیوں ، بحرین کی عوامی تحریک کے قائد آیت اللہ شیخ علی سلمان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲