10 اکتوبر 2015 - 19:56
شام میں روس کے مقابلے میں امریکہ کی حکمت عملی کیا ہو گی؟

روس کے ہوائی حملوں کے باوجود مسلح گروہوں کے حامیوں کی حکومت کو بدلنے کی کوشش جاری رکھنے کی پہلی علامت گذشتہ ہفتے ظاہر ہوئی کہ جب سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اپنے مغربی منصبداروں کے بر خلاف شام کو دھمکی دی کہ وہ زبردستی حکومت کو بدلنے کے لیے لمبی جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گذشتہ ہفتے کے بدھوار کے دن کو شام کے چار سال کے بحران میں قطعا تاریخی موڑ قرار دیا جا سکتا ہے ،جب روس کے جنگی طیاروں نے پہلی بار شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ۔

شام میں روس کی آمد کے بارے میں کئی ہفتوں کے اندازوں اور تخمینوں کے بعد آخر کار ولادیمیر پوتین نے دہشت گردوں کو روس کی طرف واپس جانے سے روکنے کے لیے حملے کا حکم دے دیا  تا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار ماسکو اور واشنگٹن مشترکہ میدان میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجائیں ۔

 پوتین نے پچھلے سال  اقتصادی پابندیوں کو مول لے کر عملی طور پر کریمہ کے اسٹریٹیجیک علاقے کو روس کے ساتھ ملا لیا اور اب مشرق وسطی میں بھی اس کا ارادہ ہے کہ شام میں بازی کو پلٹ کر علاقے میں او باما کی حکومت کے سیاسی اعتبار کو خاک میں ملا دے ۔ روس  کہ جو مغربی ملکوں کے اتحاد کے مقابلے میں اپنی طاقت کی نمائش کرنے  کا کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہ جانے دے اس نے پہلے ہی اقدام کے طور پر امریکہ کو خبر دار کیا ہے کہ  شام کے آسمان کو چھوڑ دے  اور اس کے بعد اس نے ان گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا کہ جنہوں نے امریکہ میں ٹرینینگ کی تھی تا کہ واشنگٹن کو اس کی حد بتا دے ۔

اس کے مقابلے میں مغرب کہ جس کو امید تھی کہ ایران کی جوہری فایل کو بند کرنے کے بعد شام کی فایل کھولے گا اور ڈیپلومیسی کے ذریعے اس چیز کو حاصل کر لے گا کہ جس کو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر پایا  لیکن اب وہ دیکھ رہا ہے کہ اب شام میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے ۔

اگر ہوائی حملے اسی شدت کے ساتھ جاری رہے اور ساتھ ہی ان کی زمینی حمایت بھی عمل میں آئی تو شام میں میدانی حالات یقینا بدل جائیں گے ۔اور یہ وہ چیز ہے کہ امریکہ کی رہبری والا اتحاد گذشتہ ایک سال میں بعض کے بقول نہ چاہنے کی وجہ سے ، بعض کے نزدیک معینہ حکمت عملی نہ ہونے کی بنا پر اور بعض کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر  اس تک نہیں پہنچ پایا ہے ۔

شام میں امن کی بحالی اور حالات کا بحران سے پہلے والی حالت پر آ جانا اور بشار اسد کو حکومت سے الگ کرنے کی مغربی ملکوں کی انتھک کوششوں کے باوجود اس کا حکومت پر باقی رہنا شام کی حکومت کے مسلح گروہوں کے حامیوں کی اتنی بڑی شکست ہے کہ جس سے بچنے کے لیے سارے ملک اپنا پورا زور لگا دیں گے ۔

 روس کے ہوائی حملوں کے باوجود مسلح گروہوں کے حامیوں کی حکومت کو بدلنے کی کوشش جاری رکھنے کی پہلی علامت گذشتہ ہفتے ظاہر ہوئی کہ جب سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اپنے مغربی منصبداروں کے بر خلاف شام کو دھمکی دی کہ وہ زبردستی حکومت کو بدلنے کے لیے لمبی جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہے ۔

ساتھ ہی رجب طیب اردغان  ترکی کے وزیر اعظم نے بھی ویسی ہی دھمکی دی ہے اور شام میں روس کے فوجی اقدام کو عظیم غلطی قرار دیا ہے ۔

لیکن فوجی میدان کی واقعیت یہ ہے کہ نہ صرف سعودی عرب اور ترکی بلکہ امریکہ بھی موجودہ حالات میں شام کی حکومت کو ساقط کرنے کے لیے براہ راست فوجی مداخلت کی جرائت نہیں رکھتا ۔ان ملکوں کے سامنے صرف ایک راستہ باقی بچتا ہے اور وہ وہی حکمت عملی ہے جو افغانستان میں ایک بار اس جیسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے اپنائی تھی ، اور وہ ہے نیم فوجی دستوں کو مسلح کرنا ،

شام میں نیابتی جنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے شروع سے ہی خواہ مغربی ملک ہوں یا ترکی ہو ان سب نے حکومت کے مخالف گروہوں کو مسلح کیا ہے  اور یہاں تک کہ سرکاری طور پر ان افراد کو ٹرینیگ دے کر ان کو شام بھیجنے کے لیے انہوں نے کیمپ قائم کیے تھے ۔

اس نوعیت کے تازہ ترین اقدامات کا نمونہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کا منصوبہ اعتدال پسند شام کے مخالفین کو مسلح کرنا تھا کہ جن کو رسوا کن شکست ہوئی ہے ۔ ۵۰۰ میلین ڈالر کا منصوبہ کہ جس کے تحت ۵۰۰۰ افراد کو ٹرینیگ دی گئی ،اور آخر کار صرف سو افراد کو شام بھیجا گیا جن میں سے ۵ یا ۶ افراد کو چھوڑ کر باقی سب یا القاعدہ کے قیدی بن گئے یا امریکی ہتھیاروں سمیت ان گروہوں کے ساتھ مل گئے  باقی ۵ یا ۶ لوگوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ  مارے جا چکے ہیں یا بھاگ گئے ہیں یا کسی دوسرے مسلح گروہ کے ساتھ مل گئے ہیں ۔

لیکن اب تک واشنگٹن خود شام میں روس کے ساتھ دست و گریباں  نہیں تھا  بلکہ کم سے کم ظاہر داری کا خیال رکھے ہوئے تھا  اسی وجہ سے اس کی کوشش تھی کہ نیم فوجی دستوں کو ہتھیار فراہم کر کے شام میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھے تا کہ حالات قابو سے باہر نہ ہوں ۔

لیکن افغانستان کے تجربے نے یہ بتا دیا ہے کہ امریکہ حالات کو بدلنے کے لیے اور اپنے دیرینہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے ۔

واشنگٹن کہ جس کے عملی طور شام میں زیادہ حیاتی مفادات نہیں ہیں ،ممکن ہے کہ اپنے طریقہء کار کو بدلتے ہوئے مخالفین کو بڑے پیمانے پر ترقی یافتہ ہتھیاروں سے لیس کرے ،اس امید کے ساتھ کہ روس فوجیوں کو جانی نقصان پہنچا کر اور اس ملک کے طیاروں کو سرنگوںکر کے نفسیاتی فضا کو ماسکو کے  لیےضرر رساں بنا دے ۔

امریکہ شام کی فایل کو روس کے سپرد کر کے اور اس کے مقابلے میں مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنا کر بڑا جوا کھیل رہا ہے ۔اس لیے کہ اگر روس علاقائی اتحاد تشکیل دے کر شام میں داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو واشنگٹن کو نہ صرف مشرق وسطی میں بڑی ہزیمت ہوگی  بلکہ دوسرے ملک کہ جن کو دہشت گردی کا سامنا ہے وہ ماسکو کو تعاون کی خاطر زیادہ بھروسے مند شریک  سمجھیں گے اور امریکہ کی پوزیشن دوسرے علاقوں میں بھی کمزور پڑ جائے گی جیسا کہ مثال کے طور پر مصر نے گذشتہ چند ماہ  میں کم سے کم یہ جتا دیا  ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعاون کو زیادہ کرنے پر مایل ہے ۔

لیکن اس قمار بازی میں دوسری جانب امریکہ کو شاید یہ امید ہو کہ جنگ کو لمبی اور تھکا دینے والی بنا کر مخالفین کی لگاتار تقویت کرکے اور پہلے سے زیادہ پیسہ اور ہتھیار فراہم کر کے روس کی طاقت کو کہ جس پر پہلے سے اقتصادی پابندیاں ہیں  اس کی وہ حالت بنا دے جو ۸۰ کی دہائی کے اواخر میں شوروی کی تھی ۔

امریکہ نے اس روش کو ایک بار افغانستان میں اپنایا ہے اور اس نے نیم فوجی دستوں کی حمایت کی تھی کہ بعد میں جن کے اندر سے طالبان اور القاعدہ نے جنم لیا تھا ۔

روز نامہ گارڈین اپنی اس ہفتے کی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی شاید ابھی سے اس طریقہء کار کے بارے میں سوچ رہے ہیں  اور سعودی عرب اور دوسرے عرب ملک شام بھیجے جانے والے ہتھیاروں کی مقدار میں اضافہ کر رہے ہیں ۔

 اسی رپورٹ میں یورپین فارین افئیرزکمیٹی  کے اعلی رکن جولین بارنس ڈینسی  نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ روس کے حملوں کی وجہ سے سعودی عرب ، قطر اور ترکی ایک محاذ پر آگئے ہیں ،پیشین گوئی کی ہے کہ اگر ریاض اور شام کے مخالف دوسرے ملک یہ محسوس کریں گے کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ مخالفین کو جدید ترین ہتھیار دے دیں ۔

سعودیوں نے کہ جو کئی ماہ سے خود کو یمن کے محاذ پر الجھا رکھا ہے وہ شام میں فوج بھیجنے کے اعتبار سے کمزور پڑ گئے ہیں ان کے سامنے جو بہترین راستہ ہے جیسا کہ گارڈین نے بھی لکھا ہے وہ ہے شام میں نیم فوجیوں کی حمایت میں اضافہ کرنا ،اور طاقت کا توازن بڑھانا ،

مذکورہ بالا موارد کے پیش نظر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اس وقت سب سے اہم فیکٹر ،وقت ہے اور اگر روس چاہتا ہے کہ موجودہ بحران کو ختم کرے تو جو تیزی اس نے اختیار کی ہے اسے باقی رکھے اور بلکہ اس میں اضافہ کرے ۔

اس کے علاوہ گھس پیٹھ والی جنگوں کے تجربے نے یہ بتایا ہے کہ شام میں نبرد آزما ،داعش ، النصرہ محاذ اور دیگر گروہوں کا مقابلہ کرنا صرف ہوائی حملوں پر اکتفا کرنے سے ممکن نہیں ہے ۔ ایک طاقتور زمینی فوج کے نہ ہوتے ہوئے ہوائی حملوں سے وہ نابود نہیں ہوں گے بلکہ صرف ان پر دباو پڑے گا ۔

اسی وجہ سے شام کی فوج اور اسکا ساتھ دینے والے گروہوں کی تقویت میدان جنگ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تلاش کرنا  اور ان کے ساتھ آمنے سامنے کی جنگ کرنا  ایسی چیزیں ہیں جو روس کی موجودہ کاروائی میں کامیابی کا لازمہ ہیں ۔

دہشت گردوں کا خارجی سرحدوں منجملہ  ترکی کی سرحد سے رابطہ کاٹنا اور ان تک ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا بھی ایک مسئلہ ہے کہ جس کو روس کی وہ حالت بننے سے روکنے کے لیے حل کرنا ضروری ہے  جو اس کی افغانستان میں بنی تھی ۔

بہر حال جیسا کہ بشار اسد نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کا مستقبل کافی حد تک  اتحاد  والے کیا کرتے ہیں اس پر منحصر ہے کہ جو اس وقت روس ایران عراق  اور شام میں وجود میں آ رہا ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲