6 ستمبر 2015 - 13:23
شمالی افغانستان میں مینی بس پر حملہ، ہزارہ شیعہ برادری کے ۱۳ افراد شہید+ تصاویر

افغانستان کے صوبہ بلخ کے علاقے زارع میں اقلیتی طبقے ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے ۱۳ افراد کو مسلح افراد نے ایک مینی بس کے اندر گولیوں سے بھن ڈالا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان کے صوبہ بلخ کے علاقے زارع میں اقلیتی طبقے ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے ۱۳ افراد کو مسلح افراد نے ایک مینی بس کے اندر گولیوں سے بھن ڈالا۔
صوبہ بلخ کی سکیورٹی پولیس کے عہدہ دار عبد الرزاق قادر نے بتایا: زارع علاقے کے مضافات میں ایک مینی بس پر سوار ۱۳ افراد کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔
اس سکیورٹی افسر کے کہنے کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز ظہر کے بعد رونما ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس بس پر کی گئی فائرنگ کے بعد صرف ایک خاتون زندہ بچی باقی سب لوگ مار دئے گئے۔
صوبہ بلخ کے علاقے زارع سے تعلق رکھنے والے سید جعفر حیدری نامی شخص نے بتایا ہے کہ مینی بس پر کئے گئے حملے میں تمام لوگ شہید ہو گئے ان افراد کا تعلق ہزارہ شیعہ برادری سے تھا۔
تاہم کسی گروہ نے اس دھشتگردانہ کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ادھر دھشتگرد ٹولے طالبان نے صوبہ بلخ میں شیعوں پر کئے گئے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کی بنا پر ہو سکتا ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلاف کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ طالبان نے ایک بیانیہ جاری کر کے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی چھان بین کریں گے اور اس کے عاملین پر شرعی حدود جاری کریں گے!!
واضح رہے کہ دھشتگرد ٹولہ طالبان ایسے حال میں اس واقعہ کی مذمت کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ۲۰۱۵ کے پہلے چھے مہینوں میں افغانستان کے اندر طالبان کے ہاتھوں پانچ ہزار غیر مسلح افراد مارے گئے ہیں جن میں شیعہ سنی سب شامل ہیں۔
طالبان ۱۹۹۶ سے ادھر ہزارہ شیعوں کے شدید مخالف رہے ہیں اور ان پر مختلف طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲