اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یہ عشورائے حسینی کے کہے جانے والے ان کہے تاریخی اور تشریحی حقائق کا ایک گوشہ ہے۔
پانچویں صدی ہجری کے عظیم شیعہ عالم دین، بزرگ ثقۂ جلیل القدر، فقیہ اور محدث علامہ ابوالفتح محمد بن علی بن عثمان کَراجُکی ان اکابرین میں سے ہیں جن کی علمی اور ذاتی عظمت شیعیان اہل بیت(ع) کے علاوہ اہل سنت کے ہاں بھی تسلیم شدہ ہے۔ ان کا مدفن لبنان کے شہر صور میں واقع ہے۔ انھوں نے متعدد کتابیں تالیف کی ہیں جن میں ایک رسالہ بھی شامل ہے جس کا عنوان "التعجب" ہے۔ انھوں نے اس رسالے میں تلخ اور عبرت آموز واقعات کو اکٹھا کر لیا ہے۔
لکھتے ہیں:
واقعۂ عاشورا کے بعد کچھ گھرانے شام میں نئے القاب سے مشہور ہوئے۔ جیسے "بنو السراویل"، "بنو السرج"، بنو اسنان"، "بنو المکبری" اور "بنو الطشتی"، "بنو القضیبی" اور "بنو الدرجا":
- بنوالسراویل ان لوگوں کی نسل سے تھے جنہوں امام حسین (علیہ السلام) کا لباس لوٹ لیا تھا؛
- بنو السرج ان لوگوں کی نسل سے تھے جنہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کے جسم مبارک پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ امام حسین (علیہ السلام) اور شہدائے کربلا کے جسموں پر گھوڑے دوڑانے والوں میں سے کچھ وہ بھی تھے جو اپنے گھوڑوں کے نعل بھی ساتھ لائے تھے اور بڑی قیمت پر لوگوں کو فروخت کرتے تھے۔ ان نعلوں کے خریدار، انہیں اپنے گھروں کے دروازوں پر نصب کرتے تھے، اور ان پر فخر کرتے تھے!
- بنو اسنان ان شقیوں کی اولاد میں سے تھے جو امام حسین (علیہ السلام) کے سر مبارک کا حامل نیزہ اٹھائے ہوئے تھے۔
- بنو المکبری ان اشقیاء کی اولاد میں سے تھے جو سر حسین(ع) کے نیزہ بردار کے پیچھے پیچھے تکبیر کے نعرے لگاتے رہے تھے, وغیرہ وغیرہ
- کراجکی نے لکھا ہے کہ یہ رسم ان کے زمانے (پانچویں صدی) تک جاری تھی۔
اس سوال کا جواب قارئین کرام کے تلاش کرنا چاہئے کہ واقعۂ عاشورا کیوں بپا ہؤا؟ اس کا پس منظر کیا تھا؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ اس واقع کے اصل بانی کون تھے؟ کیا ہؤا کہ امت اسلام میں یہ واقعہ رونما ہؤا؟ وصال رسول کے صرف پانچ عشرے کے بعد کیا ہؤا کہ لوگ اتنی پستی اور رذالت سے دوچار ہوئے اور اتنے تشدد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت کا بدلہ آپ کے فرزندوں سے لیا، یہاں تک کہ ان کے بےجان جسموں تک کو گھوڑے دوڑا کر پامال کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
......
110