اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے امامیہ مسجد پشاور کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 60 نمازیوں کے شہادت اور 200 سے زائد زخمی ہونے کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور خودکش حملوں کی زد میں ہے، حکمران لانگ مارچ اور عدم اعتماد سے نمٹنے کیلئے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کی بجائے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ اپنے مذمتی بیان میں محمد حسین محنتی نے کہا کہ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد فاٹا، بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر دہشتگردی کی آگ بھڑک اٹھی ہے، عوام مہنگائی، بھوک بدحالی اور بیروزگاری کے بعد اب شدید دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں، لیکن حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے دن رات مخالفین کو شکست دینے کیلئے اتحادیوں کو منانے اور اپنے ارکان کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
محمد حسین محنتی نے کہا کہ امامیہ مسجد میں دھماکہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن، اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے سیکورٹی الرٹ جاری ہونے کے باوجود حکومت نے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے، دشمن نے کسی بارڈر پر نہیں بلکہ پشاور کے وسط میں حملہ کیا ہے، حکومت کیخلاف اپوزیشن کی تحریک کے بعد ملک بھر میں اچانک دہشتگردی کے واقعات شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنے اداروں اور سیکورٹی چیک پوسٹوں کے باوجود دہشتگرد کیسے اور کہاں سے آجاتے ہیں۔ صوبائی امیر نے کہا کہ دشمن نے کھلے عام اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان کو کمزور کریگا، ہمارا سوال ہے کہ حکومت اور سیکورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں، تخریب کاروں اور دہشتگردوں کو روکنے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔
صوبائی امیر نے کہا کہ اگر دہشتگرد اسی طرح ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بناتے رہے، تو لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے، وہ حکمرانوں کے خلاف نکلیں گے اور انہیں گریبانوں سے پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور دہماکہ سوچی سمجھی سازش اور ملک کے امن وامان کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش ہے، وفاقی، صوبائی حکومتیں اور سیکورٹی ادارے معصوم عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کریں اور ملوث دہشتگردوں کو فوری گرفتار کریں۔ صوبائی امیر نے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت کی دعا، لواحقین کیلئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحتیابی کی بھی دعا کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242