30 نومبر 2021 - 03:15
آیت اللہ رئیسی اور الہام علیوف کی ملاقات / داعشی و صہیونی دہشت گردی سے نمٹنے پر اتفاق

اشک آباد میں پندرہویں ایکو صدارتی اجلاس کے موقع پر صدر سید ابراہیم رئیسی اور صدر الہام علیوف کی ملاقات / دو ممالک کے درمیان ہمسایگی اور قرابت کا رشتہ ہے / دشمن ہمارے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے / داعشی اور صہیونی دہشت گردی علاقے کے لئے دو خطرناک عناصر ہیں جن سے مشترکہ طور پر نمٹ لیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اشک آباد میں پندرہویں ایکو صدارتی اجلاس کے موقع پر صدر آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ ملاقات کے دوران دو ملکوں کے درمیان دیرینہ تہذیبی، ثقافتی اور دینی تعلقات کی تاریخی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دو ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور گہرے دوستانہ تعلقات پائے جاتے ہیں اور ہم اپنے دشمنوں کو ان تعلقات پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے آذربائیجان کے استقلال، سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اجنبی قوتوں کو علاقے کے ممالک میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے اور ہمارا تجربہ گواہ ہے کہ خطے کے ممالک نے جب بھی اپنے باہمی مسائل مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے حل کئے ہیں اجنبیوں کی فتنہ انگیزی اور مداخلت کا راستہ بن ہؤا ہے۔
صدر رئیسی نے خطے میں علاقے میں بدامنی اور اجنبی دشمنوں کی موجودگی سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا: داعشی اور صہیونی دہشت گردی علاقے کے لئے خطرے کے دو بڑے عوامل ہیں جن سے ہمیں نمٹنا پڑے گا۔
انھوں نے ایران اور آذربائیجان کے برادرانہ تعلقات میں خلل اندازی سے امریکی اور صہیونی اہداف کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اجنبیوں کی مداخلت خطے کے ممالک کے لئے نقصان دہ ہے اور ان کی سازشوں سے نمٹنے کے لئے ہمیں ہوشیار رہنا پڑے گا۔
آیت اللہ رئیسی نے آذری صدر کی طرف سے دو طرفہ معاشی روابط کی تقویت اور ایرانی کمپنیوں کی شراکت سے ٹرانزٹ کے راستوں کی توسیع و ترقی کی درخواست کا خیر مقدم کیا۔
جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے اس ملاقات میں جمہوریہ آذربائیجان کے استقلال کے تئیں اسلامی جمہوریہ ایران کی بے دریغ حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: باکو، تہران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، اور ہم ان تعلقات کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں کی پیروی اور ان پر عمل درآمد کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام کا ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے۔
آذربائیجان کے صدر نے دونوں ممالک کے درمیان بعض غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بات چیت اور رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم سرحدی علاقوں کی سلامتی کے لئے پرعزم ہیں اور کسی ملک کو بھی اپنے دو طرفہ تعلقات میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
الہام علیوف نے کہا: جمہوریہ آذربائیجان نے ٹرانزٹ اور روڈ ٹرانسپورٹ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: ہم ٹرانزٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور آذربائیجان میں ایرانی کمپنیوں کی موجودگی اور کام کے لئے ماحول فراہم کریں۔
علیوف نے مزید کہا: یہ ملاقات دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور ہم خود کو اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی مفادات کے تحفظ کا پابند سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور آذربائیجان کے سربراہوں کے ملاقات کے اختتام پر ترکمانستان اور آذربائیجان کے درمیان گیس کے تبادلے (swap) پر دستخط کئے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰