اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العہد خبر رساں ویب گاہ نے اپنی یادداشت میں سعودی عرب کی خفیہ ادارے کے اعلی اہلکار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سلسلہ میں سعد الجبری کے بعض انکشافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ واشنگٹن نے الجبری کو ایم بی ایس کے بارے میں راز افشا کرنے کے لئے واشنگٹن کا گرین سگنل دے دیا ہے۔
الجبری نے حال ہی میں سی بی ایس نیوز چینل کے پروگرام "Sixty Minutes" میں کہا: میرے پاس ایسے راز ہیں جو آج کے بعد محمد بن سلمان کے خوابوں کو پریشان کرتے رہیں گے۔
لگتا ہے کہ الجبری زیادہ سے زیادہ راز افشا کرے گا اور اس کی اجازت اسے امریکی خفیہ اداروں نے دے دی ہے؛ اور افشائے راز کا یہ سلسلہ رفتہ رفتہ شدت اختیار کرے گا اور ہر مکالمے میں افشا ہونے والے رازوں کی سطح کا تعین امریکی ایجنسیاں ہی کریں گی کیونکہ وہ پورے کے کارڈ ایک دفعہ نہیں جلانا چاہتے۔
امریکیوں کو امید ہے کہ وہ افشائے راز کے مختلف مراحل کے ذریعے سعودی شہزادے سے زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کریں گے جن میں سب سے اہم رعایت یہ ہوگی کہ سعودی حکمران اعلانیہ طور پر غاصب یہودی ریاست کو تسلیم کریں، جس کے بعد الجبری کے رازوں کا صندوق مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور ایم بی ایس کے امریکی آقا آخرکار بن سلمان کے کارڈ کو کوئلے میں تبدیل کریں گے۔
الجبری نے کہا: مشرق وسطی کی ایک خفیہ ایجنسی میں میرے ایک ساتھی نے مجھے بتایا ہے کہ بن سلمان مجھے جمال خاشقجی کی طرز پر مرا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔
سورس: النجباء اسلامی مزاحمتی تحریک کی ویب گاہ
.............
واضح رہے کہ الجبری کے ابتدائی اعلان کے بعد افشائے راز کا یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے؛
سی بی ایس کے ساتھ الجبری کے انٹرویو کی تفصیل:
ایم بی ایس شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز پر قاتلانہ حملے کے لئے منصوبہ بندی کررہا تھا!
ایم بی ایس نے فخریہ انداز سے کہا: میں شاہ عبداللہ کو قتل کرسکتا ہوں تاکہ میرا باپ تاج و تخت تک پہنچ سکے!
سعودی عرب کے سابق خفیہ اہلکار - جس نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں امریکیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کیا ہے - سعد الجبری نے کہا کہ سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے باپ کی تاج پوشی سے قبل سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کے سلسلے میں اپنے منصوبے کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔
الجبری - جو ولی عہد کے خوف سے بھاگ کر کینیڈا میں سکونت پذیر ہؤا ہے - نے کہا: ایم بی ایس نے 2014 میں ایک دن فخریہ انداز سے کہا کہ وہ شاہ عبداللہ کو قتل کرکے اپنے باپ سلمان بن عبدالعزیز کی بادشاہت کے لئے ماحول فراہم کرسکتا ہے!
الجبری نے سی بی ایس کو بتایا: حکومت میں ایم بی ایس کا کوئی کردار نہيں تھا اور صرف اپنے باپ کی خدمت میں مصروف رہا کرتا تھا جو جنوری 2015 میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد بادشاہ بنا۔
سعد الجبری نے سی بی ایس کے اینکر پرسن کو ایک ویڈیو کلپ دکھایا اور دھمکی دی کہ اس کے پاس ایسا ویڈیو کلپ ہے جو اگر نشر کیا جائے تو سعودی بادشاہی خاندان اور حتی کہ امریکہ کے بارے میں بعض اہم راز فاش ہوجائیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ الجبری کے ان اقدامات کا ذاتی سبب یہ ہے کہ اس خاندان کے دو افراد سعودی قیدخانوں میں پابند سلاسل ہیں اور ایم بی ایس ان کی قید کے ذریعے سعد الجبری اور اس کے گھر والوں کو بلیک میل کرکے ملک واپس آنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
سعد الجبری (62 سالہ) کا کہنا ہے کہ ایم بی ایس کی طرف سے میری جان کو خطرہ لاحق ہے اور جب تک کہ وہ میری مردہ لاش نہیں دیکھے گا چین سے نہیں بیٹھے گا کیونکہ وہ میرے پاس محفوظ معلومات سے خائف ہے۔
الجبری نے کہا: محمد بن سلمان ایک نفسیاتی مریض اور خونخوار قاتل ہے۔
الجبری نے ایسے حال میں بنی سعود کے راز افشاء کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے کہ آج سے تین سال قبل سعودی عرب کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ بےدردی سے قتل کیا گیا۔
الجبری کے بقول، محمد بن سلمان نے 2014 میں کہا تھا: میں شاہ عبداللہ کو قتل کرنا چاہتا ہوں؛ میں روس جاکر ایک زہریلی انگوٹھی لاؤں گا جس کے بعد بس اتنا ہی کافی ہے کہ میں شاہ عبداللہ کے ساتھ مصافحہ کروں!
الجبری کے بقول اس زمانے میں اس سلسلے میں تحقیق ہوئی اور مسئلہ خاندان کے اندر ہی حل ہؤا۔
واضح رہے کہ سعد الجبری کا شمار برخاست شدہ ولی عہد محمد بن نائف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے جو 2017 میں گرفتاریوں کی وسیع لہر کے دوران گرفتاری سے بچنے کی غرض سے کینیڈا میں پناہ گزین ہؤا تھا۔
۔۔۔۔۔
الجبری کے انٹرویو پر سعودی حکومت کا رد عمل
سعودی حکومت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الجبری ایک غیر معتبر سرکاری اہلکار ہے جس نے برسوں تک جعلی سازی کی ہے اور اپنی بدعنوانیاں چھپانے کے لئے جھوٹی خبریں پھیلاتا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔
ریاض نے اب تک کئی مرتبہ کینیڈا کی حکومت سے اس کی سعودی عرب واپسی کا مطالبہ دہرایا ہے اور دعوی کیا ہے کہ وہ مالی بدعنوانی کی بنا پر سعودی پولیس کو مطلوب ہے۔ لیکن الجبری کہتا ہے: میری دولت سعودی دربار کی سخاوت کا ثمرہ ہے کیونکہ میں نے بڑے خلوص کے ساتھ خاندان بنی سعود کی خدمت کی ہے۔
الجبری نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایم بی ایس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن مارچ 2020 میں اس کے بیٹے عمر اور بیٹی سارا کی گرفتاری کے بعد یہ اس کا یہ پہلا ٹیلی ویژن انٹرویو تھا۔ دریں اثنا سعودی عرب کی عدالت نے دعوی کیا ہے کہ عمر اور سارا کو منی لانڈرنگ کے جرم میں پکڑ کر بالترتیب 9 اور ساڑھے چھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس سے پہلے الجبری کا ایک قریبی رشتہ دار کسی اور ملک سے زبردستی لوٹایا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قیدخانے میں ڈال دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔
الجبری کی بیٹی کا انٹرویو:
بن سلمان مجھے خاشقجی کی طرح مروانا چاہتا تھا۔
سعودی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار سعد الجبری کی بیٹی حصہ الجبری نے سی این این کو بتایا ہے کہ سعودی حکومت مجھے بھی ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ بلا کر مشہور و مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی (خشوگی) کی طرح قتل کروانا چاہتے تھے۔
حصہ الجبری نے کہا: میں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف باضابطہ شکایت نامہ تیار کرلیا ہے اور میں اسے اپنے والد کے خلاف اقدام قتل کا ملزم ٹہرایا ہے۔
حصہ نے کہا: محمد بن سلمان نے میرے والد کو بلیک میل کرکے سعودی عرب لوٹانے کے لئے میرے شوہر کو بھی اغوا کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ حصہ کے شوہر کو 2017 میں گرفتاریوں کے لہر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جہاں اس نے ٹارچر ہوکر اپنی پوری دولت محمد بن سلمان کے نام کر دی ہے۔
۔۔۔۔۔
ایم بی ایس کے خلاف اقدام کا مطالبہ!
انسانی حقوق کے سلسلے میں سرگرم عمل تنظیم "عرب دنیا کے لیے جمہوریت اب "ڈان" (Democracy for the Arab World Now [DAWN]) نے سعودی عرب کے جاسوسی ادارے کے سابق اہلکار سعد الجبری کی طرف سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے جرائم سے پردہ اٹھائے جانے - بالخصوص سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کے منصوبے کے منکشف ہونے - کے بعد، سعودی ولی عہد کو سزا دینے اور اس کے تشدد آمیز رویوں کو لگام دینے اور اندرون و بیرون ملک غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا سد باب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی لیکس نامی ویب گاہ نے لکھا ہے: 'تنظیم عرب دنیا کے لیے جمہوریت اب' "ڈان" نے اعلان کیا کہ جو کچھ سعد الجبری نے سی بی ایس چینل کے پروگرام "Sixty Minutes" میں کہا وہ محمد بن سلمان کی سزا کے لئے ایک فوری بین الاقوامی اقدام" کا تقاضا کرتا ہے۔
ڈان تنظیم نے سعودی ولی عہد کی مسلسل دھونس دھمکیاں، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم سعودی سیاسی و سماجی شعبوں میں سرگرم کارکنوں، حکمران خاندان کے افراد اور سابق سرکاری اہلکاروں کو ہراساں کرنے پر مبنی اقدامات مذکورہ ممالک کی سالمیت اور امن و امان کے لئے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔۔۔ پروگرام سکسٹی منٹس میں الجبری کے ساتھ بات چیت نے واضح کیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان تشدد پسند اور نفسیاتی طویر پر بیمار شخص ہے جور غیر قانونی واور وحشیانہ جرائم کا مرتکب ہؤا ہے۔
ڈان تنظیم کی انتظامی ڈائریکٹر سارا لی ولسن نے کہا کہ مذکورہ ٹی وی پروگرام میں شاہ عبداللہ کو زہر دینے کے محمد بن سلمان کے منصوبے کا انکشاف ہؤا ہے جو نہ صرف سعودی عرب میں ایک ہولناک غدارانہ اقدام سے پردہ اٹھاتا ہے بلکہ اس چیز کی تصدیق کرتا ہے جو ہم عرصے سے جانتے ہیں اور وہ یہ کہ محمد بن سلمان ایک تشدد پسند انسان ہے جو سعودی عرب کے اندر بھی اور عالمی سطح پر بھی، عدم استحکام کا سبب ہے۔
سارا لی وتھسن (Sarah Leah Whitson) نے کہا: محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل سے بری کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ اور سعودی لابیوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہونگی کیونکہ بن سلمان کی بے احتیاطیاں اور انسان حقوق کی پامالی پر مبنی اقدامات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
لی وتھسن نے مزید کہا کہ ہمارے [امریکی] سیاسی راہنما بیرونی حملوں کے مقابلے میں اپنی آبادی اور قومی سلامتی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے پسپا ہو گئے ہیں۔
ڈان کے بیان میں مزید آیا ہے کہ حکومت کے مخالفین اور سیاسی و سماجی کارکنوں کے خلاف سعودی ریاست کے حملوں اور تشدد آمیز و ہلاکت خیز اقدامات کے خلاف سادہ ترین اقدام یہ ہے کہ امریکی حکومت ان لوگوں کی حفاظت کرے جو سعودی عرب میں پرامن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
سعودی عرب نے ابھی تک سابق سعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کے سلسلے میں بن سلمان کے منصوبے کے انکشاف پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ سعودی قوانین کے مطابق اس جرم کی سزا پھانسی ہے۔
محمد بن سلمان نے سینکڑوں کو اغوا کروایا، قتل کروایا، بہت سوں کے سرمایوں کو ضبط کیا، بہت سوں پر سفری پابندیاں لگائیں، بہت سوں کو لاپتہ کروایا لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اس کے ہاتھوں سابق بادشاہ کے قتل کا منصوبہ، فاش ہورہا ہے۔
وتھسن نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سابق کے قتل کے منصوبے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کرکے دنیا والوں کو ثابت کرکے دکھا دے کہ اس ریاست کے انتظام و انصرام قانون پر استوار ہے!
۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا حقائق اور مطالبات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بساط بچھی ہوئی جس کا مالک امریکہ ہے اور جو کچھ بھی ہورہا ہے بساط کے مالک کی مرضی سے ہورہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یہ نورا کشتی امریکی خزانہ بھرنے کے لئے سعودی پٹرو ڈالر بطور رشوت وصول کرنے کے لئے ہے یا پھر محمد بن سلمان کی افادیت ختم ہوچکی ہے اور کسی نئے ولی عہد کو سامنے لانے کے ارادے ہیں۔ بہر صورت اس قصے کے تمام فریق بساط کے مالک کی اجازت سے یہ کھیل کھیل رہے ہیں! اب انسانی حقوق تنظیموں کی باری ہے کہ امریکی و مغربی مفادات کے لئے میدان میں آئیں اور ان کے لئے راستہ ہموار کریں۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈان نامی تنظیم فعال ہوچکی ہے اور اب باقی تنظمیں بھی میدان میں آئیں گی۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بالادست عالمی قوتوں کی باندیوں کا کردار ادا کرتی ہیں اور جہاں بھی مداخلت کا منصوبہ ہو یہ تنظمیں بھی فعال ہوجاتی ہیں اور انسانوں کے حقوق چھیننے میں ان قوتوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110