13 مارچ 2021 - 12:23
حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا شعر و ادب کمیشن / 1۔ عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات؛ پیشکش: احمد براریان

علوم دینی کے محقق جناب براریان نے کہا: حضرت ابو طالب (علیہ السلام) عربی ادب میں اعلی مقام رکھتے ہیں اور اس سلسلے کے نقائص میں سے ایک یہ ہے کہ ادباء اور شعراء ابوطالب(ع) کی شاعری کا جائزہ لیں اور ان کے بارے میں تحقیق اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں کی تشریح کریں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کا تیسرے کمیشن بعنوان "شعر و ادب کمیشن" کا اجلاس بروز منگل بمورخہ 9 مارچ 2021ء، بمقام امام خمینی اعلی تعلیمی کمپلیکس کے شہید صدر آڈیٹوریم میں، منعقد ہؤا۔
یہ اجلاس آیت اللہ محمد سعید نعمانی کی صدارت میں منعقد ہؤا، تہران کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن ڈاکٹر باقر قربانی زرین نے بطور ریفری شرکت کی تھی اور حجت الاسلام و المسلمین ولی اللہ معدنی پور سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
نیز عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل و نائب سیکریٹری جنرل برائے ثقافتی امور حجت الاسلام و المسلمین احمد احمدی تبار اور اسمبلی کے تحقیقات امور کے ڈائریکٹر حجت الاسلام سید محمد رضا آل ایوب بھی اجلاس کے شرکاء میں شامل تھے۔
اس اجلاس کے آغاز میں احمد براریان نے اپنے مقالے "عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس مقالے میں عربی کی اہم کتابوں میں قصیدہ لامیہ سے مستند اقتباسات کو اکٹھا کیا گیا ہے؛ اور یہ وہ کام ہے جو ابو طالب (علیہ السلام) کی پوری شاعری کے سلسلے میں بھی انجام پانا چاہئے۔
انھوں نے کہا: گوکہ ہمارا کام قصیدہ لامیہ سے استناد کرنے والے اقتباسات تک محدود ہؤا، لیکن عربی ادب کے چار شعبوں "صرف، نحو، بلاغت اور لغت" کو مد نظر رکھا؛ اور مقالہ "عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات" میری اور جناب سید محمد علی ہاشمی کی مشترکہ کاوش ہے اور اس مقالے پر 150 گھنٹے تک کام ہؤا ہے؛ اس طویل وقت کا کچھ حصہ تمہیدی مطالعے پر صرف ہؤا اور دیوان ابو طالب(ع) اور دوسری کاوشوں کا بھی موضوع کے تناسب سے مطالعہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: مقالہ "عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات" کی تالیف و تحقیق کے لئے کتاب "العین"، کتاب "اساس البلاغہ"، کتاب "شرح النظام" سمیت ادب و لغت کے 50 مصادر کا بغور جائزہ لیا گیا؛ وقت کے لحاظ سے اس کاوش کے مصادر و منابع محدود نہیں تھے اور ہم نے مقالے میں نامی گرامی مصنفین و مؤلفین کی عمدہ کتابوں کا حوالہ دیا۔ یہ مقالہ 6680 الفاظ اور 9 اجزاء میں مرتب کیا گیا ہے۔  
براریان نے مقالہ "عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات" کی تالیف کے محرکات اور مقاصد کے بارے میں کہا: امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ابو طالب (علیہ السلام) کے اشعار کو سیکھ لو، یاد کرو اور اپنے فرزندوں کو سکھاؤ اور یاد کروا دو"۔ یہ حدیث اہل بیت اطہار (علیہم السلام) کے نزدیک حضرت ابو طالب(ع) کی شاعری کی اہمیت و منزلت کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہی مسئلہ اس موضوع کی طرف ہماری خاص توجہ کا باعث و محرک بنا۔ یہ کاوش حضرت ابوطالب(ع) کے نام گرامی کی بلندی اور عظمت کی راہ میں ایک چھوٹا قدم ہے۔ اس کام کے لئے ہمارا ایک علمی محرک بھی تھا وہ یہ کہ حضرت ابوطالب (علیہ السلام) عربی ادب میں خاص مقام و مرتبت کے مالک ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ حضرت ابوطالب (علیہ السلام) کی شخصیت کے علمی پہلو تشنۂ تحقیق ہیں اور ان کا حق ادا نہیں ہؤا ہے۔ حضرت ابو طالب (ع) عربی ادب میں اعلی مقام رکھتے ہیں اور اس سلسلے کے نقائص میں سے ایک یہ ہے کہ ادباء اور شعراء ابوطالب(ع) کی شاعری کا جائزہ لیں اور ان کے بارے میں تحقیق اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں کی تشریح کریں۔
انھوں نے کہا: ابوطالب(ع) کی شاعری عربی ادب کے آئینے میں، نحوی استشہادات کا نمونہ، صرفی استشہادات کا نمونہ، لغوی استشہادات کا نمونہ اور بلاغت کے حوالے سے ہونے والے استشہادات کا نمونہ، مقالہ "عربی ادب میں ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استشہادات" کے مختلف حصے ہیں۔
براریان نے مزید کہا: ادباء نے حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری کے مقام و مرتبت سے غفلت کی ہے؛ اور اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری کا ادبی پہلو، مشہور ادیبوں کے ہاں قابل قبول ہے یا نہیں؟
آیت اللہ نعمانی نے اس اجلاس کے ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے کہا: حضرت ابوطالب(ع) ایک مظلوم شخصیت ہیں اور بہت سارے لوگوں نے اس عظیم شخصیت کی شاعری کے ادبی پہلؤوں سے استشہاد نہيں کیا ہے لیکن ان کی شخصیت کا ادبی پہلو اس قدر نمایاں ہے، کہ انھوں نے آپ کو ادباء سے منوا لیا ہے اور جاراللہ زمخشری جیسے مشہور ادباء ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ سے استناد و استشہاد کرنے پر مجبور ہوئے۔
انھوں نے کہا: تاریخ، انساب، اور رجال کی کتب میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار سے استشہاد ہؤا ہے اور ان کا حوالہ دیا گیا ہے اور ان کے اشعار سے استشہاد و استناد ادبی کتب تک محدود نہیں ہؤا ہے اور اس کا سبب حضرت ابوطالب(ع) کے ادبیات کا اعلی مقام و مرتبہ ہے۔
انھوں نے زور دے کر کہا: مختلف کتب میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار سے ہونے والے استشہادات کو جمع کرکے مقالات اور کتب کی تالیف ضروری ہے۔

واضح رہے کہ "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) سیمینار"، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، کے زیر اہتمام اور "حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت"، "عالمی تقریب مذاہب اسمبلی"، "دفتر تبلیغات اسلامی"، حوزات علمیہ"، "جامعۃ المصطفی العالمیہ"، "حوزات علمیہ کے زبان سیکھنے کے مرکز"، "بین الاقوامی اہل بیبت یونیورسٹی"، "میراث نبوی ثقافتی انسٹی ٹیوٹ"، "جامعۃ الزہراء(س)"، "الذریۃ النبویہ انسٹی ٹیوٹ"، "قاسم بن الحسن(ع) ثقافتی-مذہبی انسٹی ٹیوٹ"، "ابناء الرسول(ص) ثقافتی-ہنری انسٹی ٹیوٹ" اور بعض دیگر دینی اور ثقافتی اداروں کے تعاون سے، حضرت ابو طالب(ع) کے ایام وفات کے موافق  25، 26، 27 رجب المرجب 1442ھ (9 سے 11 مارچ 2021ء تک) منعقد ہوا ہے۔
"حضرت ابوطالب(ع) کے حوالے سے شاعری کی ملک گیر کانفرنس"، "حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلہ"، اور "حضرت ابوطالب(ع) کے سلسلے میں بچوں اور نونہالوں کا میلہ"، اس سیمینار کے موقع پر منعقدہ دوسرے پروگرز ہیں۔ نیز اس سیمینار کے سیکریٹریٹ نے سیمینار کے انعقاد کے موقع پر، دوسرے ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا ہے جن میں "حضرت ابوطالب(ع) کے لئے خطاطوں کی ہم نویسی" اور "تکریم ابوطالب(ع) کے لئے محفل مشاعرہ"، جیسے پروگرام شامل ہیں۔

حضرت ابو طالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کی پانچ زبانوں - فارسی، عربی، انگریزی، ترکی استنبولی اور اردو - پر مشتمل ویب گاہ http://www.ahl-ul-bayt.org/ur/abutalib کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰