اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی اخبار لوفیگارو نے لکھا ہے کہ شام حکومت کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کئے گئے ہیں اور ان ہتھیاروں کی قیمت سعودی عرب اور خلیج فارس کی بعض دوسری ریاستوں نے ادا کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عرب ریاستیں ان ہتھیاروں کی قیمت ادا کرتی ہیں اور انہیں ترکی منتقل کرتی ہیں اور امریکی مرکزی انٹیلجنس ایجنسی CIA کی نگرانی میں شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ لوفیگاروں کے رپورٹر جارج مالبرونو (Georges Malbrunot) نے ایک دہشت گرد گروپ کے رکن کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کے متعلقہ دہشت گروپ کے 40 افراد ان ہتھیاروں کو خفیہ طور پر وصول کرنے کے لئے ترکی گئے تھے اور انہیں ٹینک شکن ہتھیاروں سمیت مختلف قسم کا اسلحہ ملا ہے۔ اس شخص نے لو فیگارو کے نامہ نگار سے کہا: آرپی جی نائن راکٹ سعودی عرب کے گولہ بارود کے گودام سے اٹھائے گئے اور انہیں ایک طیارے کے ذریعے ترکی کے ہوائی اڈے "اضنہ" میں منتقل کیا گیا۔مذکورہ دہشت گرد نے کہا: ہم شام میں ان علاقوں اور مقامات کے بارے میں ترک حکام کے ساتھ مشورہ کرتے ہیں جنہیں نشانہ بنانا ہوتا ہے اور اس وقت شام کے باہر ہمارے متعدد نمائندے بھی ہیں جو عسکری مشیروں کے عنوان سے کام کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں ـ جو لبنانی اخبار "الجمہوریہ میں بھی شائع ہوئی ہے ـ زور دے کر کہا گیا ہے کہ شام کے لئے اسلحہ اسمگلنگ کا مسئلہ خفیہ ہے۔ مالبرونو کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین سے وابستہ دہشت گردوں کے پاس ہتھیار وصول کرنے کے لئے خاص قسم کے ذرائع ہیں اور اخوان المسلمین یہ ہتھیار شام میں اپنے لئے لڑنے والے دہشت گردوں تک پہنچانے کے لئے تمام تر راستے استعمال کرتی ہے تاکہ شام کی جنگ کی قیادت کو اپنے تک محدود کرے۔ لو فیگارو نے لکھا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کو ہتھیار پہنچانے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کو مجبور کیا جائے کہ ملک کا بحران یمن کے طرز پر حل کرنے کے لئے تیار ہوجائے [اور اقتدار سعودی عرب اور اخوان المسلمین کے حمایت یافتہ گروپوں کے سپرد کرے!]۔ مالبرونو نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دے کر لکھا ہے: ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ہتھیار وصول کرنے والے گروپوں کے تعین کے لئے امریکی جاسوسوں سے مشورہ کیا جاتا ہے لیکن مغربی ممالک ـ جو قبل ازیں شام کے مخالفین کو ہتھیار منتقل کرنے کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھے ـ آج کل ان ہتھیاروں کے استعمال کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دے رہے ہیں۔ لو فیگارو کے نامہ نگار نے بعض مسلح دہشت گرد تنظیموں ـ منجملہ فری سیرین آرمی ـ کے اراکین کے حوالے سے لکھا ہے کہ مغربی ممالک اور ان کے کٹھ پتلی علاقائی عرب حکومتوں کا خیال ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل حکومت شام سے عوام کی جدائی کے عمل کی رفتار کو تیز کردیتی ہے! واضح رہے کہ مغرب اور عرب ریاستوں کی ڈھائی سالہ دہشت گردانہ اقدامات اور اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی ترسیل شام کی حکومت اور عوام کے درمیان شدید یکجہتی کا سبب ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مغربی حکمران اور ترکی و عرب ریاستیں نیز اسرائیل کی طرف سے ہتھیاروں کی ترسیل کا واحد مقصد شام کو تباہ و برباد اور اسرائیل مخالف علاقائی اسلامی مزاحمت محاذ کو کمزور کرنے، کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لوفیگارو نے فرانسیسی وزیر خارجہ "لاورن فائبوس" (Laurent Fabius) کے اس قول کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ "ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہتھیار شام میں پہنچ کی جاتے ہیں لہذا مغربی ممالک ہتھیاروں کی ترسیل کی مخالفت نہيں کرسکتے کیونکہ حکومت شام کی سرنگونی ابھی تک دسترس سے کہیں دور ہے"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شامی فضائیہ کے اڈے میں دھماکے کا اسرائیلی دعوی
امریکی اعتراف: شام مخالف گروپوں میں شدید اختلافات
کربلائےمعلی کو ہم نشانہ بنایا تھا/ محرم الحرام میں لبنان اور عراق کےلئےسعودیوں کا مذموم منصوبہ