9 ستمبر 2013 - 19:30
شام پر حملے کے منصوبے میں امریکہ تذبذب کا شکار کیوں؟

شام کے بارے میں دو عرب سفارتکاروں اور اخضر ابراہیمی کے مذاکرات اور ان کے نتائج سے 40 فیصد تک ظاہر ہوا کہ شام پر امریکی حملے کا امکان کمزور ہے جبکہ ایران کے طرف سے اعلان ہوا کہ کسی بھی امریکی حملے کا نہایت سخت جواب دیا جائے گا جس نے امریکیوں کو اپنے فیصلے میں تذبذب سے دوچار کیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنانی اخبار "الاخبار" نے شام کے مسئلے میں اقوام متحدہ کے ایلچی اخضر ابراہیمی کے ساتھ دو عرب سفارتکاروں کے مذاکرات کی تفصیل شائع کیا ہے اور لکھا ہے: ابراہیمی نے کہا ہے کہ امریکی حملے کا امکان پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ سن پیٹرز برگ میں جی 20 سمٹ کے آغاز پر بارک اوباما نے شام پر حملے پر زور دیا تھا لیکن اس سمٹ کے بعد مسائل پیچیدگی کا شکار ہوئے اور گذشتہ ہفتے کے آخر میں عرب سفارتکاروں نے الابراہیمی سے بات چیت کی اور الابراہیمی نے کہا کہ متعدد دلائل کی بنا پر شام پر امریکی حملے کا امکان پچاس فیصد سے بھی کم ہوچکا ہے اور اس دلائل میں سے بعض کچھ یوں ہیں: امریکہ کے اندر حکومت پر شدید عوامی دباؤ جو ابتداء ہی سے بہت مؤثر انداز میں ظاہر ہوا اور کیتھولک کلیسا نے اس منظم احتجاج کا خود ہی منظم کیا تھا اور معلوم ہوا کہ کیتھولک پادری اور کارڈینلز شام پر امریکی حملے کا سد باب کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر فعال ہوگئے ہیں۔ اور ان کا دباؤ کانگریس کے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کے اندر بھی جنگ مخالف تحریک مزید وسیع اور مؤثر ہوسکتی ہے۔ الابراہیمی کے مطابق اوباما نے اعلان جنگ کے بعد بعض اہم رابطے کئے ہیں۔ 21 اگست کو غوطہ میں کیمیاوی حملوں کے دعوے کے بعد اوباما نے جی 20 سمٹ تک جنگ پر زور دیا اور روس نے کچھ دن خاموشی اختیار کی کیونکہ وہ امریکہ کے سامنے آکر لڑنے کے بجائے جنگ کو روکنے کی پالیسی پر کاربند تھا اور اس کا خیال تھا کہ شام پر حملے کی صورت میں ماسکو کو 48 گھنٹوں تک خاموش رہنا چاہئے اور اس کے بعد جواب دینا چاہئے لیکن ایران نے موقف اپنایا کہ شام پر حملہ خواہ چند گھنٹوں کے لئے ہو یا چند روزہ ہو، بہرصورت جارحیت سمجھا جائے گا اور اسی وجہ سے علاقے میں مختلف قسم کے رد عمل اور جنگ کی وسعت کو پیش نظر رکھنا چاہئے جس سے پورا علاقہ متاثر ہوگا۔ روس نے بھی ایران کے موقف کے بعد اپنا موقف تبدیل کیا اور کہا کہ وہ شام کے عسکری سہولیات کو تقویت پہنچائے گا اور اگر حملہ ہوا تو تباہ شدہ ہتھیاروں کی قیمت شام کو ادا کرے گا اور ہر قسم کے حملے کی صورت میں اپنے تزویری حلیف کی امداد کرے گا۔ روس نے اس کے بعد ایک بحری جہاز بھی شام کے ساحل کی طرف بھجوایا ہے جو مختلف قسم کے ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں یا پھر ایس 300 میزائل دفاعی سسٹم کو شام منتقل کرچکا ہے۔ تیسرا اہم سبب امریکی سیکورٹی اداروں کی یہ رپورٹ ہے کہ شام کے پاس امریکی مفادات پر داغنے کے لئے میزآئلوں کا ایک بہت عظیم ذخیرہ موجود ہے جو ریڈ الرٹ کی حالت میں ہے اور پھر امریکی مطمئن ہوچکے ہیں کہ روس نے شام کے اطراف میں کامیاب میزائل شکن و میزآئل شکن دفاعی نظام کامیابی کے ساتھ متعین کیا ہے اور یہ وہ مسئلہ ہے جس نے شام پر حملے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دیرینہ حلیف ملک شام کی حمایت میں ایران کی سنجیدگی اس قدر تھی کہ روس کو اطمینان ہوا کہ اگر جنگ ہوئی تو ایران ہمہ جہت طور پر اپنے حلیف کا ساتھ دے گا اور اگر ماسکو پسپائی اختیار کرے تو حلیفوں کے درمیان اس کے لئے کوئی عزت و آبرو نہ رہے گی چنانچہ روس نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرکے اعلان کیا کہ شام پر حملے کی صورت میں عالمی جنگ چھڑے گی اور اعلان کیا کہ وہ میزائلوں کو نشانے سے منحرف کرنے والے لیزر آلات اور الیکٹرک و الیکٹرانک وار فیئر کے متعلقہ ہتھیار شام منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ادھر شام کی حکومت نے باضابطہ طور پر اپنے کیمیاوی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی کے لئے کھولنے کا اعلان کیا ہے اور وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے ایٹمی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آج منگل کے روز ولید المعلم نے روسی پارلیمان "دوما" کے سربراہ سرگئی نارشکین" سے ملاقات کے وقت کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی روسی تجویز سے اتفاق کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔٭

شام پر امریکی حملہ نہ ہونے کا سب سے بڑا ہارنے والا ابوالفتنہ بندر بن سلطان آل سعود

جان کیری کے موقف میں تبدیلی، امریکہ کی پسپائی