17 جنوری 2013 - 20:30

اس قسم کی اطلاعات پہلے ہی سے موجود تھیں لیکن اس وقت آ گیا جب دہشتگردوں نے کراچی اورنگی ٹاون کے ایم پی اے منظر امام کو نشانہ بنایا۔

ابنا: کوئٹہ میں علمدار روڈ پر بم دھماکے میں شہید ہونے والے مومنین سے اظہار یکجہتی کے لیے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر دھرنوں کا آغاز ہوگیا تھا جس میں سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ کچھ معتدل سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تھا۔دھرنوں کی حمایت کے جرم میں کالعدم سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے شیعہ مسلمانوں کے حوالے سے معتدل سوچ رکھنے والے دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔اس قسم کی اطلاعات پہلے ہی سے تھی مگر یقین اس وقت ہوگیا جب دہشتگردوں نے کراچی اورنگی ٹاون ایم پی اے منظر امام کو نشانہ بنایا۔ منظر امام اورنگی ٹاون دھرنے میں انتظامی حوالے سے انتہائی سرگرم تھےجس کی سزا اُنھیں کالعدم تکفیری دہشتگردوں نے گولیوں کا نشانہ بناکر دی۔شیعہ مسلمانوں کے حقوق کو ہر طرح سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، چاہے وہ ایم پی اے رضا حیدر کی شہادت کی صورت میں ہو یا پھر شیعہ مسلمانوں سے ہمدردی کے جرم میں منظر امام کی شکل میں ہو۔علاوہ ازیں وہابی لابی کے ذریعے فیصل رضا عابدی کو خاموش کروانے کی صورت میں ہو یا پھر عدلیہ میں متعصب ججز کا راج قائم کرنے کی صورت میں ہو۔دیکھنا یہ ہے کہ، کیا یہ واقعات پاکستان کے ریاستی اداروں کو جگاپائے گے؟ دہشتگردوں کے حوالے سے Good اور Bad کا تصور رکھنے والے مذہبی اور سیاسی رہنما کب تک سعودی فرمان برداری کی خاطر ان دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے رہیں گے؟ کیا ہزاروں شیعیان اہل بیت (ع)، سنی مسلمانوں، بے نظیر، بشیر بلور اور منظر امام کا خون پاکستان کو جگانے کے لیے کافی نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔/110