17 نومبر 2012 - 20:30

اطلاعات کے مطابق امیر قطر حالیہ دورہ غزہ کے دوران در حقیقت اسرائیل کے لئے جاسوسی مشن پر تھے جہاں انھوں نے حماس کے کئی راہنماؤں خاص طور پر مسلح ونگ کے کمانڈروں کو گھڑیاں اور قلم تحفے کے طور پر دیئے تھے اور اسی سفر کے دوران امیر قطر اور ان کی بیوی موزہ نے کئی حساس مقامات کا دورہ بھی کیا تھا اور اس دورے کے فورا بعد صہیونی افواج نے ان مقامات اور ٹھکانوں نیز حماس سے کے اہم لیڈروں اور کمانڈروں کا سراغ لگایا اور حالیہ حملے کے دوران ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی جریدے المنار نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امیر قطر نے غزہ کے دورے میں دورے میں حماس کے اہم لیڈروں کو گھڑیاں اور قلم بطور تحفہ دیئے تھے جن میں صہیونی سیٹلائٹ کو اطلاعات فراہم کرنے والے حساس الیکٹرانک آلات نصب ہیں اور ان کے ذریعے ان لیڈروں کا تعاقب کیا جاسکتا ہے اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ ان اطلاعات کے مطابق شہید عزالدین قسام بریگیڈز کے نائب کمانڈر شہید احمد الجعبری کو بھی امیر قطر کی قاتل گھڑی کے توسط سے صہیونی طیارے نے نشانہ بنا کر شہید کیا ہے اور اب واضح طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ دوحہ میں محمد بن عبدالوہاب مسجد بنانے کے بعد وہابی دنیا کی قیادت سعودیوں سے لینے کا اعلان کرنے والے امیر قطر 2008 کی طرح اب بھی اسرائیل جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ان اطلاعات کے مطابق قطر کے امیر کی حالیہ نقل و حرکت کا ایک مقصد یہ تھا کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ کرے اور وہ غزہ کے عوام کو اردن کے بادشاہ کا تختہ الٹ جانے کے بعد، اس ملک میں بسائیں جس کے بادشاہ عبداللہ دوئم کے خلاف عوامی تحریک زوروں پر ہے اور گویا امیر قطر اردن کے بادشاہ کے خلاف بھی برسرپیکار ہیں۔المنار نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ قطر کی مدد سے احمد الجعبری کے قتل سے 12 گھنٹے قبل صہیونی ریاست نے امریکی صدر اوباما سے غزہ پر حملے کی منظوری لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی فوج غزہ میں ایک اہم نشانے کو ٹارگٹ کرنا چاہتی ہے اور اوباما نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا۔ الجعبری کی شہادت کے بعد صہیونی وزیر اعظم کے دفتر نے امیر قطر حمد بن خلیفہ اور وزير خارجہ و وزیر اعظم حمد بن جبر کو فون کیا تھا اور ان سے غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ گویا صہیونی ریاست کو توقع تھی کہ غزہ میں حماس کے مجاہدین قطر کے شیشے میں اترچکے ہونگے اور جو بھی قطر کے امیر یا وزیر خارجہ ہدایت دیں گے وہ تعمیل کریں گے ۔ الجعبری کی شہادت کے بعد نیتن یاہو کے دفتر سے امیر قطر کو کہا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لئے سرگرم عمل ہوجائيں ورنہ جنگ جاری رہنے کی وجہ سے علاقے میں آگ بھڑک سکتی ہے ۔ اس یورپی سفارتکار نے ہفت روزہ المنار کو بتایا کہ یاہو کے دفتر سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد امیر قطر نے مصر کے بعض حکام اور حماس کے راہنماؤں سے رابطہ کیا اور کہا: "جو کچھ ہوا سو ہوا اور ختم ہوا اب جنگ بند ہونی چاہئے اور حماس کو کوئی رد عمل ظاہر نہيں کرنا چاہئے ۔ لیکن عزالدین قسام بریگیڈز کے کمانڈرز نیز حماس کے بعض سیاسی راہنماؤں نے امیر قطر کی تجویز سختی سے مسترد کردی اور حتی بعض راہنماؤں نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے بقول قطر کے حکام اسرائیل کے کٹھ پتلی اور صہیونیوں کی پالیسیوں کے نفاذ پر مامور ہیں۔ایک اور رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امیر قطر نے حالیہ دورہ غزہ کے دوران اسمعیل ہنیہ سے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کریں، اسرائیل کو تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کا سلسلہ بھی ختم کردیں۔فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ نے امیر قطر کی امیر قطر کی تجاویز مسترد کردیں جس کی وجہ سے دو روزہ دورے پر جانے والے امیر قطر نے اپنا دورہ چند گھنٹوں میں ہی ختم کردیا اور حماس کو دیئے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر کی امداد کے وعدے سے مکر گئے اور کہا کہ وہ حماس کو صرے پینتیس کروڑ ڈالر دے سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دو روزہ دورہ چند ہی گھنٹوں میں ختم کرنے کا ایک مفہوم یہی ہے کہ قطر کے امیر اپنا مقصد حاصل کرچکے تھے اور غزہ میں اہم راہنماؤں کے ٹھکانوں کا سراغ لگا چکے تھے چنانچہ وہ چند ہی گھنٹوں میں یہودی ریاست کے حملے کے لئے راستہ ہموار کرچکے تھے۔ یاد رہے کہ لیبیا کے آمر معمر قذافی کے سینے میں بہت اہم راز تھے اور جب مسز ہلیری کلنٹن نے سنا کہ "غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق قذافی زندہ پکڑے گئے ہیں" تو ان کو شدید تشویش لاحق ہوئی اور کہنے لگیں "اوہ مائی گاڈ ۔۔۔ قذافی پکڑے گئے"۔ اس کے بعد ہلیری کلنٹن نے کرنل کی گرفتار کی تصویریں دیکھ لیں تو گھبراہٹ کا شکار ہوئیں اور دہرا دہرا کر کہنے لگیں: "واو ۔۔۔ غیر مصدقہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ قذافی گرفتار ہوگئے ہیں ۔۔۔ غیر مصدقہ اطلاعات۔۔۔"۔وہ آشفتہ حال ہوگئيں اور کٹے کٹے اور نامکمل جملے بولنے لگیں اور پھر خود کو تسلی دینے کے لئے "غیر مصدقہ اطلاعات" کو دہرانے لگیں گویا وہ ان آخری الفاظ کا سہارا لے رہیں تھیں۔ اور پھر انہیں اچانک اطلاع ملی کہ قذافی قتل ہوچکے ہیں تو انھوں نے سکون کا سانس لیا اور آرام سے بیٹھ گئیں اور اب عرب ذرائع بتاتے ہیں کہ اس کے بعد قطر کے امیر نے اپنے ذرائع سے قذافی کو قتل کروادیا جبکہ ان کے پاس اپنے بہنوئی اور قطر کے مفتی اعظم شیخ یوسف قرضاوی کا فتوی بھی تھا جس میں انھوں نے قذافی کے قتل کا حکم سنا دیا تھا۔ لنک ملاحظہ کریں:تصویر - لیبیا / معتصم قذافی بھی زندہ پکڑا گیا تھا لیکن ۔۔۔ / ھلیری کارد عمل؛ ویڈیولنکامیر قطر نے غزہ کے دورے کے دوران اسمعیل ہنیہ سے کہا تھا کہ اگر انہیں مالی اور معاشی تعاون چاہئے تو اسے ایران کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کرنا ہوگا۔ کیونکہ امیر قطر کے بقول ایران اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ملک ہے؛ وہی نعرہ جو اسرائيل کے کٹھ پتلی اسرائیل کے کہنے پر، عرب دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے مسلسل دہرا رہے ہیں جبکہ وہ خود اسرائیل کے دوست ہیں اور اسرائیل اسلام کا ازلی اور ابدی اور بدترین دشمن ہے اور دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے جبکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے اور اسرائیل اسلام کا دشمن ہے اور دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ امیر قطر نے دورہ غزہ کے دوران فلسطینی وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ سے کو تجویز دی تھی کہ:1۔ ایران کے ساتھ اتحاد کا خاتمہ2۔ اسرائيل کے ساتھ پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کا آغاز3۔ اسرائيلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرنا4۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے عنوان سے تسلیم کرنا5۔ مسلح جہاد ختم کرنا

...............

/110