19 دسمبر 2011 - 20:30

سعودی عرب پر حاکمیت کا دعوی / قطر کے امیر شام میں امریکی ایجنڈے کے ایگزیکٹو/ امریکہ نے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے قطر کو کیوں چنا؟/ ــ قطر اور اسرائیلی ماڈل / عرب لیگ امریکہ اور اسرائیل کا گُھڑ جُھولا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امیرقطر نے دعوی کیا ہے کہ ان کے خاندان کو یہ حق حاصل ہے کہ آل سعود کو اقتدار سے ہٹا کر خود اس ملک میں اقتدار سنبھالے/ آل سعود کا شدید غصہ۔ امیر قطر نے فرانسیسی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ان کے خاندان (آل ثانی) کو سعودی عرب پر حکومت کرنے اور آل سعود کو اقتدار سے ہٹانے کا پورا پورا حق حاصل ہے چنانچہ ایک فرانسیسی سفارتکار نے ان کا یہ دعوی سعودی حکام کے گوش گذار کیا ہے جس سے آل سعود خاندان آل ثانی خاندان سے سخت ناراض ہے۔پیرس میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ امیر قطر نے نے دو فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ ایک ضیافت میں کہا ہے کہ ان کا خاندان "آل ثانی" یہ حق رکھتا ہے کہ سعودی عرب میں اقتدار سنبھالے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے آباء و اجداد نجد کے رہنے والے تھے اور حمد آل ثانی نے نجد سے ہجرت کی ہی چنانچہ ان کی اولاد اور پوتوں پڑپوتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ہر ممکنہ روش سے سعودی عرب کا اقتدار حاصل کریں۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ آل سعود کے حکمران قطری شیخ کے دعوؤں پر غضبناک ہوئے ہیں اور انھوں نے قطر کے اندر ہی آل ثانی خاندان کے لئے اشتعال انگیز اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ دریں اثناء آل سعود کے اندرونی حلقوں میں بعض سعودی شہزادوں پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی علالت سے ناجاائز فائدہ اٹھا کر امریکہ کے اشاروں پر قطر کے آل ثانی خاندان کی پیروی کررہے ہیں۔ادھر چند روز قبل آل ثانی خاندان کے امیر نے محمد بن عبدالوہاب کے نام پر مسجد کا افتتاح کرتے ہوئے وہابیت کی پیروی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد نے وہابیت کے فروغ میں محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ تعاون کیا تھا جس سے ظآہر ہوتا ہے کہ گویا آل ثانی کے امیر سعودی عرب سے اس کا ہتھیار یعنی "وہابیت" بھی چھین لینا چاہتے ہیں اور سعودی عرب کے لئے جو خواب انھوں نے دیکھا ہے اس کے لئے بھی ان کو وہابی مفتیوں اور مولویوں کی حمایت چاہئے چنانچہ انھوں نے وہابیت کی پیروی کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک سعودی شہزادے نے کہا تھا کہ قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اور اس کو اس حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے:اہم انکشافات:[قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے / طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافات]آل ثانی خاندان کے قطری شیخ نے آخرکار ایک بڑے راز سے پردہ اٹھا ہی لیا اور وہ یہ کہ آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش ہیں۔[ل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش / اہم واقعہ]ـ قطر کے امیر شام میں امریکی ایجنڈے کے ایگزیکٹوانٹرنیشل لاء کے ایک استاد نے کہا: شام کا مسئلہ بین الاقوامی کرنے میں ناکامی کے بعد عرب لیگ کا منصوبہ امریکی تحریک پر سامنے آيا جس میں ایگزیکٹو کا کردار قطری شیخ کو دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق قطر کا بحران بین الاقوامی کرنے کی سازش روس اور چین کی مخالفت کی بنا پر ناکام ہوئی تو امریکہ نے عرب لیگ کو شام کے خلاف منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا جس میں امیر قطر کا کردار نافذ کرنے والے شخص کا ہے۔ کیونکہ قطر اس وقت عرب لیگ پر پوری طرح مسلط ہے اور اس نے عرب لیگ کے اجلاسوں کو قاہرہ سے دوحہ منتقل کررکھا ہے اور ان کے اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کے بحران میں اصل کردار ان ہی کو سونپا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: امریکہ کو عراق میں اپنے تمام اہداف کے حصول سے قبل ہی اس ملک سے پسپا ہونا پڑا اور اب اس نے باقیماندہ اہداف کے حصول کے لئے پیچیدہ اور خطرناک منصوبے بنا رکھے ہیں جن میں خطے میں مذہبی فتنہ انگیزی اور شام کے خلاف اقدمات شامل ہیں۔ حسن جونی نے شام کے حوالے سے ترکی کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس وقت ترکی کو شام کے حوالے سے اپنے پرانے موقف سے پسپا ہوتا دیکھ رہے ہیں؛ کیونکہ ترکوں نے ابتداء میں شام کو ہمہ جہت جنگ اور اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی لیکن وہ ایسا نہ کرسکا اور اب یقین سے کہا جاسکتا کہ ترک حکومت اپنے موقف پر نظر ثانی کررہی ہے۔واضح رہے کہ ترکی یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنا پر شام میں یورپ اور امریکہ نیز اسرائیل کے کہنے پر بنیادی کردار ادا کررہا تھا لیکن عرب لیگ نے اس وقت خلافت عثمانیہ کے دور دراز کے خواب دیکھنے والے ترک حکمرانوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور گویا امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے کے حوالے سے عرب لیگ نے ترکوں کے ساتھ اس مسابقت میں کامیابی حاصل کرلی ہے چنانچہ یہ بات بھی ترکوں کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی طرف توجہ دینے پر مجبور کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا: عراق سے امریکہ کے آخری دستے بھی نکلنے لگے ہیں اور اسی اثناء میں عراقی حکومت نے صلح و آشتی کی غرض سے شام کے مسئلے میں مداخلت کرلی ہے جو سیاسی لحاظ سے بہت اہم قدم ہے اور عراق اس لحاظ سے ترکی اور قطر کی جگہ لے سکتا ہے۔انھوں نے شام میں بھی لیبیا کے منظر نامے کے نفاذ کے بارے میں کہا: شام متعدد دلائل کی بنا پر لیبیا کے ساتھ شباہت نہیں رکھتا؛ بشار اسد اپنی قوم کے ہردلعزیز ہیں اور انھوں نے اپنی قوم کی عزت و قار کو محفوظ رکھا ہے؛ وہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت تحریک کے حامی ہیں اور صہیونی ریاست کے خلاف ایک طویل المدت اور دائمی جنگ کی حالت میں ہیں؛ شام ایک اعتقادی ملک ہے اس کے عوام اعتقادات میں کھرے ہیں اور حکومت نے اپنی قوم کو حب الوطنی اور ملت دوستی کا سبق خوب سکھایا ہے۔ انھوں نے کہا: شام معاہدات اور متحدین کے لحاظ سے بھی لیبیا کی مانند نہيں ہے؛ لیبیا امریکی فورسز کی جولانگاہ تھا اور قذافی اٹلی سمیت یورپی ممالک کے قریبی دوست تھا۔

ــ امریکہ نے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے قطر کو کیوں چنا؟قطر ایک نہایت چھوٹی ریاست کا نام ہے، اس کے تعلقات اور ممالک کے ساتھ برابری کے حوالے سے اس کی حیثیت اور خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر اس کے وجود، محل وقوع اور سیاسی و سماجی کردار کا جب اس کے موجودہ کردار اور دوڑ دھوپ سے موازنہ کرایا جاتا ہے تو متعدد سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔قطر کی موجودہ کوششوں کے حوالے سے یہ سوال خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس چھوٹی ریاست میں بڑے بڑے فیصلے ـ جو عام طور پر اس ملک کے جغرافئے سے کہیں بڑے ہوتے ہیں ـ کون کررہا ہے؟ اور وہ لوگ کون ہیں جو پس پردہ بیٹھ کر امیر قطر سے سفارت کاری کروارہے ہیں؟مبصرین کے خیال میں عربی انقلابات سے قبل، ان کے دوران اور انقلابات کے بعد امیر قطر کا کردار مشکوک تھا اور مشکوک ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہيں کہ قطر کے امیر کا کردار درحقیقت وہی کردار ہے جو امریکہ نے انہیں سونپ رکھا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ انقلابی تحریکوں کو اس کے حقیقی راستے سے منحرف کردیں کیونکہ امریکہ اپتداء میں انقلابات کا شعلہ بجھانے سے عاجز ہوگیا تھا۔ [واضح رہے کہ عرب ممالک میں انقلابات کو سعودی عرب، قطر اور بیشتر عرب حکمرانوں کی شدید مخالفت کا سامنا تھا لیکن ان ہی عربوں نے لیبیا میں علامتی کردار ادا کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ کا ساتھ دیا اور قطر کے شیخ اب بھی لیبیا میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں اور عجیب تر یہ کہ امیر قطر نے اردن کے بادشاہ، سعودی کے بادشاہ اور خلیج فارس کی ننھی ریاستوں کے شیوخ سے مل کر شام میں بغاوت شروع کروا دی کیونکہ شام اسرائیل مخالف ملک ہے اور عرب ممالک میں انقلابات کی کامیابی کی صورت میں یہ ممالک بھی شام کے ساتھ مل کر اسرائیل کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتے ہیں چنانچہ امریکہ اور یورپ نے شام کو غیرمستحکم کرنے کا ٹاسک عربوں کو تھما دیا اگرچہ ترکی کے اردوغان نے بھی اس حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کی خوشنودی کما لی ہے گوکہ عرب ممالک نے انہیں عثمانی سلطنت کے جانشین کی حیثیپ سے تسلیم کرنے کی بجائے شام کا مسئلہ عالمگیر بنانے کے لئے اردوغان کی رائے پوچھنے کی ضرورت محسوس کئے بغیر خود ہی یہ سازش انجام تک پہنچانے کا کا فیصلہ کیا ہے]۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکہ نے اتنے سارے عرب وفاداروں بالخصوص آل سعود کے ہوتے ہوئے امیر قطر کو اپنی تزویری پالیسیوں کے نفاذ کے لئے منتخب کیا ہے؟اس سوال کے جوابات یہ ہوسکتے ہیں: 1۔ امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت اور آل سعود اور وہابیت کی جانب سے عربی انقلابات کی شدید مخالفت کی بنا پر سعودی حکمران امریکی ایجنڈے کے نفاذ سے عاجز ہیں اور پھر چونکہ یہ منصوبے امریکہ کے مجرمانہ اہداف سے تعلق رکھتے ہيں لہذا عرب قومیں سعودی عرب کے کردار پر اعتماد نہیں کررہی تھیں کیونکہ سعودی عرب کا اپنا کردار بھی عرب اقوام کے حوالے سے متنازعہ ہے [جبکہ شاید قطر اس حوالے سے عرب قوموں کے نزدیک کچھ زیادہ جانے پہچانے بھی نہيں ہیں اور ان کے ملک کو ایک ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا اور قطر کے عوام میں بھی شاید امریکہ اور آل ثانی خاندان نے مل انقلاب کا عنصر ہلاک کردیا ہے چنانچہ آل ثانی کے امیر کو اپنی قوم کی طرف سے کسی انقلابی تحریک کی توقع بھی نہیں ہے چنانچہ قطر کے امیر کچھ بھی کرسکتے ہیں امریکہ کے لئے]۔2۔ عرب ملکوں میں قطر کے حوالے سے منفی تصور نہیں پایا جاتا [جس کی وجہ یہ ہے کہ اس ریاست کا کوئی کردار ہی نہيں رہا ہے جس کو مثبت یا منفی قرار دیا جاسکے]۔ 3۔ جب سے قطر کے موجودہ امیر نے اپنے والد کا تختہ الٹ کر اس ریاست کی حکومت سنبھالی اس ریاست کے حکومت اونچی اڑان اڑنے لگے اور علاقے نیز دنیا کی سطح پر کردار ادا کرنے کے لئے کوشاں ہوئے چنانچہ وہ ذاتی اور بین الاقوامی تقاضوں اور آل سعود کے تسلط سے چھٹکارا پانے کے لئے کوشاں ہیں اور ان کی یہ خواہش امریکیوں کے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے بہت اہم تھی۔4۔ گوکہ قطر نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے اسرائیل کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور دوحہ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے باقاعدہ دفتر موجود ہے اور اسرائیلیوں کا اعتراف ہے کہ قطر کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات سفارتی تعلقات سے کہیں وسیع تر اور مؤثر تر ہیں [جبکہ علاقے میں کسی بھی امریکی منصوبے کے نفاذ سے قبل اس کی کیفیت کے حوالے سے اسرائیل سے مشورہ کیا جاتا ہے اور اسرائیل موجودہ کردار قطر کو سونپنے پر خوشنود ہے]۔

ــ قطر اور اسرائیلی ماڈلقطر امریکہ کے نہایت خطرناک منصوبے نافذ کررہا ہے اور امریکہ کے آہنی پنجے کے لئے دستانے کا کردار ادا کررہا ہے اور یہ سب قطر کے نہایت محدود وسائل سے مطابقت نہیں رکھتا لیکن امیر قطر نے اپنی مصروفیات کے ذریعے امریکہ اور صہیونی ریاست کی مدد اور گندے نقشے یا گندے منصوبوں (Dirty Plans) پر کار