2 جولائی 2011 - 19:30

انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت عوام اپنے لئے حکومت کا جواز ڈھونڈرہی ہے اور مذاکرات کی پیشکش کا مقصد بھی یہی ہے/ مذاکرات میں انقلابی قوتوں کو نو فیصد نمائندگی دی گئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا: عوامی سطح پر ان مذاکرات کا خیر مقدم نہیں ہوا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک نمائش ہے؛ بحرینی عوام کے مطالبات استقامت اور پامردی کے نتیجی میں ہی پورے ہوسکتے ہیں کیونکہ آل خلیفہ کے بادشاہ کے مذاکرات کی تجویز غیر سنجیدہ ہے اور اور وہ ان مذاکرات کے ذریعے دنیا والوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ گویا بحرین میں شیعہ اور سنی عوام کے درمیان اختلافات ہیں اور مذاکرات سنی اور شیعہ عوام کے درمیان ہورہے ہیں جن میں حکومت ثالثی کررہی ہے۔انھوں نے کہا: خلیفی حکومت ان نمائشی مذاکرات کے ذریعے بحران سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے کہا عوام کی اکثریت ان مذاکرات کی مخلفت کررہی ہے وہ بھی ایسے حال میں کہ نصف سے زیادہ مخالف راہنما جیلوں میں پڑے ہیں۔ انھوں نے کہا: اگر یہ مذاکرات حقیقی ہوتے تو جمعیةالوفاق کے قائدین کو ان میں شرکت کرنی چاہئے تھی لیکن خلیفی حکومت نے حتی انہیں جیلوں سے رہا نہیں کیا ہے اور یوں حکومت ابتداء میں ہی اپنی دعوت سے منحرف ہوگئی ہے اور اس نے مذاکرات کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے کہا: ان مذاکرات میں بنیادی مسائل پر بحث کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور پھر جمعیةالوفاق کو ـ جس نے پارلیمانی انتخابات میں 60 فیصد سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں ـ صرف دو فیصد نشستیں دی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خلیفی حکومت نے 37 فیصد نشستین سیاسی جماعتوں کو دی ہیں جن میں اکثریت ان جماعتوں کی ہے جو آل خلیفہ حکومت کی حامی ہیں اور مخالفین کو 15 فیصد سے بھی کم نشستیں دی گئی ہیں۔ یادرہے کہ مذاکرات کے لئے 300 نشستوں کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں 63 فیصد نشستیں حکومت کے مندوبین کے لئے مختص ہیں، اور باقی نشستوں میں بھی تقریبا اٹھائیس فیصد نشستیں خلیفی خاندان کے حامی گروپوں کو دی گئی ہیں۔ 300 نشستوں میں صرف 25 نشستیں مخالف جماعتوں کے لئے ہیں۔ رجب نے کہا: حکومت نے اعلان شدہ مذاکرات میں غیر واضح تبدیلیاں کی ہیں اور مذاکرات میں شریک افراد عوام کے نمائندے نہیں ہیں۔ اکثر افراد وہ ہیں جنہیں خلیفی خاندان نے بلوایا ہے اور ان کا انقلابی قوتوں سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ان مذاکرات میں عوامی مسائل حل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا پرامن مظاہروں کو جبر کی قوتوں کے مکمل انخلاء اور عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں نیز ان کے مقدس مقامات کو منہدم کرنے والوں پر مقدمہ چلائے جانے تک جاری رہنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: ہم بحرینی عوام پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری رائے یہ ہے کہ اگر عوام اپنا احتجاج جاری رکھیں تو قومی مطالبات ضروری پوری ہونگے؛ جیسا کہ آج بحرینی عوام اپنی فریاد دنیا والوں کی سماعتوں تک پہنچانی میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ حقیقت ہے کہ ان مذاکرات کا طرز درست نہیں ہے اور یہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے لیکن ہم مذاکرات میں شرکت کو درست یا نادرست قرار نہیں دینا چاہتے۔ نبیل رجب نے مذاکرات میں جمعیةالوفاق کی شرکت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: اس جمعیت کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں خودمختار ہے اور پھر یہ جمعیت ایسے اقدامات کا تجربہ کررہی ہے جن کو خلیفی نظام نے مذاکرات کا نام دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110