سی سی پی او لاہور اسلم ترین کا کہنا ہے کہ لاہور دھماکوں میں ابھی کسی کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تاہم ہمسایہ ملک کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ٹھوکر نیازبیگ لاہور میں میڈیا سے گفت گو میں سی سی پی او کا دعوی تھا کہ بھاٹی گیٹ اور داتا صاحب میں دھماکوں کی تفتیش جاری ہے اور بہت جلد کام یابی ملے گی!انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اس وقت حالت جنگ میں ہے، دھماکوں کے تانے بانے پڑوسی ملک سے جا ملتے ہیں کیونکہ دہشت گرد تنظیموں کو بھارت کی جانب سے مالی امداد دی جارہی ہے۔واضح رہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نامی دہشت گرد ٹولے نے لاہور میں بوم علی علیہ السلام کے جلوس پر دہشت گرد کاروائی کی ذمہ داری قبول کرلی ہے مگر جناب اسلم ترین ان کو بری الذمہ قراردینے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں؛ کیونکہ ان کی بھی مجبوری ہے جب ایک صوبے کا وزیر اعلی طالبان کا حامی اور دہشت گردوں کو جیلوں سے رہا کرنے پر اصرار کرتا ہو اس صوبے میں ایک پولیس افسر کی حیثیت ہی کیا ہے کہ وہ وزیراعلی کی رائے سے اختلاف کریں؟ اگر ہم مان بھی لیں کہ ہمسابہ ملک ان واقعات میں ملوث ہے تو کیا اس سے پہلے جھنگ شہر مین پولیس کو ایسی دستاویزات نہیں ملی تھیں جن سے پاکستان کے دہشت گرد ٹولوں کے بھارت اور اسرائیل سے قریبی تعلق کے واضح اشارے ملے تھے؟ کیا ان دستاویزات میں بھارت اور اسرائیل سے موصولہ فارن کرنسی چیک نہیں ملے تھے؟.........
/110