اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب «عبداللطیف موسی» المعروف «ابو النور المقدسی» نے رفح شہر کے محلے «البرزیل» میں واقع «مسجد شیخ ابن تیمیہ» میں نماز جمعہ کے خطبوں میں بیت المقدس اور غزہ کو طالبان کی طرز پر «اسلامی امارت» کا نام دیا اور «امیرالمؤمنین» کا لقب اختیار کرکے فلسطین پر اپنی حاکمیت کا اعلان کیآ جس کے بعد انصار جندالله کےارکان نےبیعت کرکےاس کی امارت کو تسلیم کیا.
ابو النور المقدسی نے کہا: «حماس کی حکومت اگر اپنی موجودہ صورت میں باقی رہے تو یہ ایک سیکولر گروہ کے مترادف ہوگی. اور یہ کہ اس حکومت نے اپنے آپ کو زبردستی اسلام سے جوڑ رکھا ہے جبکہ یہ حکومت بالکل ترکی میں رچب طیب اردوغان کی حکومت جیسی ہے».
المقدسی کا اعلان در حقیقت حماس کے خلاف اعلانیہ چیلنج اور دھمکی کے زمرے میں آتا تھا جو عرصۂ دراز سے غزہ میں درپیش اس قسم کی چیلنجوں کا مقابلہ کررہی ہے. ان گروہوں کی سوچ درحقیقت دہشت گرد ٹولے القاعدہ سے مماثلت رکھتی ہے.
حماس حکومت کے وزیرداخلہ نے غزہ میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: «ابو النور المقدسی عقلی اور ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور حماس کے نقطۂ نظر کے مطابق قانون کی ہرگونہ مخالفت اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال بگاڑنے کی نیت سے ہتھیاروں کی نمائش ، کا بہر صورت مقابلہ کیا جانا چاہئے اور ایسے اقدامات قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان اقدامات کے مرتکبین قابل گرفت ہیں».
حماس کے ترجمان «سامی الزہری« نے کہا کہ ابوالنور کے خیالات فکری انحرافات کا نتیجہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اس کو باہر سے ہدایات مل رہی ہیں.
ادھر ہفتہ کے روز سہ پہر کو ہونے والی شدید جھڑپوں میں وہابی ٹولے «انصار جنداللہ» کے سربراہ ابوالنور المقدسی کی ہلاکت اور اس ٹولے کے منتشر ہونے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ وقتی طور پر بند ہوگیا ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے کے علاقے بلن میں اسرائیلی رکاوٹوں کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے آنسو گیس کے شیل برسائے ۔
یاد رہے کہ فلسطینی ہر جمعے اپنی سرزمین پر اسرائیلی رکاوٹوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ رکاوٹیں اسرائیل کے رقبے کو توسیع دینے کے لئے بنائی جارہی ہیں۔ جبکہ سیکڑوں فلسطینیوں کی رہائشی اور زرعی اراضی ان تعمیرات کی زد میں آرہی ہے۔
غزہ میں المقدسی کا کردار عراق میں زرقاوی اور افغانستان میں اسامہ بن لادن سے ملتا جلتا تھا اور عرصۂ دراز سے حماس کی اسلامی حکومت کے خلاف برسر پیکار تھا اور عالم اسلام میں فرقہ واریت کے بڑے حامیوں میں شمار ہوتا تھا.