اصغریہ تحریک کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی نے کہا کہ اسلامی معاشرے کی اصلاح میں حضرت امام خمینیؒ نے ابتدائی اقدام کے طور پر دینی افکار اور تصورات کو دوبارہ زندگی عطا کی۔

2 دسمبر 2018 - 16:10

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کا تیسراسالانہ مرکزی احیاء کردار حسینی کنونشن ثقافتی مرکز بھٹ شاھ میں شروع ہوگیا ہے، سندھ بھر سے قافلے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، کنونشن کا آغاز ۳۰نومبر بروز جمع کو شام ۵ بجے شرکائے کنونشن کی رجسٹریشن سے ہوا، سندھ بھر سے آنے والے افراد کو رجسٹریشن  کارڈ کے ساتھ رہائش الاٹ کی گئی ہے۔

کنونشن پہلی نشست سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے اصغریہ تحریک کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی نے کہا کہ اسلامی معاشرے کی اصلاح میں حضرت امام خمینیؒ نے ابتدائی اقدام کے طور پر دینی افکار اور تصورات کو دوبارہ زندگی عطا کی، لوگوں کے اذہان میں دینی حکومت کا نظریہ مردہ ہوچکا تھا، دین کی جامعیت کی فکر ناپید ہوچکی تھی؛ ایسے میں انہوں نے اسلامی متون سے نکال کر دینی حکومت کا نظریہ پیش کیا اور اسے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیا۔ دین کو صرف چند اذکار اور اوراد کا مجموعہ سمجھنے والی فکر کی حقیقت کو طشت از بام کرکے دین کی جامعیت کا نظریہ لوگوں تک پہنچایا، دین اور سیاست کی عدم جدائی کو استدلال سے ثابت کرکے دنیا کو باور کرنے پر مجبور کر دیا اور نظریہ انتظار کو نیامفہوم عطا کیا جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ ظلم و ستم کو برداشت کرنے، آواز کو گلے میں دبا کر رکھنے اور مختصر الفاظ میں غیب سے ایک ہاتھ کے نکلنے کے انتظار میں ایک  جگہ پر جامد پڑے رہنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس دفعہ انتظار کو معاشرے کی  باغی روح کو سلا کر رکھنے والے عنصر کی حیثیت سے نہیں بلکہ موجودہ حالات کو دگرگوں کرتے ہوئے آنے والے "مہدی موعود ؑ" کی طرف حرکت کے ایک وسیلے کے طور پر بروئے کار لایا گیا ہے۔

انہوں نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اصلاح کے عمل میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔قرآن مجید نے اصلاح کی ذمہ داری اٹھانے اور برائیوں کی روک تھام کرنے کو امت مسلمہ کی خصوصیت کے طور پر بیان فرمایا ہے، حضرت امام خمینیؒ نے اپنے قیام کی ابتداء سے ہی اس فریضے کو پیش نظر رکھا اورمعاشرے میں ایک اصل کے طور پر اس فریضے کو متعارف کرایا۔

احیاء کردار حسینی کنونشن انتظامات کے  چئیرمین برادر قمر عباس غدیری نے اتنظامات  کے حوالے سے آگاہ کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲