تحریک حسینی نے قرارداد کے ذریعے یہ باتیں حکومت کے گوش گزار کرائیں کہ انکے خلاف دھماکے کرانے والے اور پھر ذمہ داری قبول کرنے والے دشمنوں کا انہیں بخوبی علم ہے، دشمن کو اس حوالے سے خبردار کیا گیا کہ جتنا چاہیں دھماکے کرتے رہیں، یہ سب کچھ انکے کھاتے میں لکھا جائے گا، جبکہ کوئی بھی ظالم انتقام سے نہیں بچ سکتا۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سالہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی تحریک حسینی کے زیر اہتمام 3 شعبان المعظم کو سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ایک عظیم الشان جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں علاقے کی تمام مذھبی اور سیاسی تنظیموں، کے علاوہ کرم ایجنسی کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر تنظیمی رضاکاروں کے علاوہ سرکاری فورسز نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کررکھے تھے۔ جلسے سے خطاب کے لئے علاقائی علماء کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ محمد اقبال بہشتی اور تیراہ اورکزئی ایجنسی کے علامہ سید ثاقب حسین شیرازی کو بھی دعوت دی گئی تھی۔
جلسہ سے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ محمد اقبال بہشتی، مولانا صداقت حسین، علامہ سید ثاقب حسین شیرازی، تحریک حسینی کے سرپرست اعلی اور سابق سنیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی، تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری اور تحریک کے سابق صدر مولانا منیر حسین جعفری نے خطاب کیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اور کہا کہ امام عالی مقام فقط شیعوں کے نہیں بلکہ تمام حریت پسند اقوام کے پیشوا اور امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کو اپنا پیشوا تسلیم کرنے والے کبھی کسی دباو اور ظلم کے سامنے تسلیم نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں حریت پسند تحریکوں کی سرپرستی آج امام حسین علیہ السلام کے متوالیوں کے ہاتھ میں ہے، خواہ وہ لبنان ہو، عراق ہو کہ یمن، نائجیریا کہ دمشق۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر بشمول کرم ایجنسی میں دہشتگردی کی جو کارروائیاں ہوتی ہیں۔ وہ دہشتگردی نہیں بلکہ شیعہ نسل کشی کا بین الاقوامی حصہ ہے۔ انہوں نے عوام کو بیدار رہنے کی ہدایت کی۔ خندق اور بیجا تلاشیوں خصوصا خواتین کی تلاشیوں کے حوالے سے احتجاج کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہتک عزت اور خواتین کی تلاشی لینا دھماکوں میں مرجانے سے بدتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے یہ قوم ڈرنے والی نہیں، نہ ہی ہم شرپسند بھیڑیوں سے اس حوالے سے کوئی شکایت کرتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے پاراچنار کو ریڈ زون قرار دیکر یہاں کے اقتصاد کو مفلوج کرنے اور عوام کو دھماکوں کے ذریعے ڈرا دھمکا کر ہراساں کرنا نہایت قابل افسوس ہے۔
جلسے کے دوران حالیہ دو دھماکوں میں شہید ہونے والوں، نیز گزشتہ سال 3 شعبان کے موقع پر احتجاجی جلوس کے دوران ایف سی کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے ورثاء میں امدادی پیکیج تقسیم کئے گئے۔
جلسے کے آخر میں قرارداد کی شکل میں حکومت کے سامنے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے گئے۔
1: پاراچنار میں جاری بم دھماکے، دہشتگردی نہیں بلکہ پورے ملک میں جاری شیعہ نسل کشی کا حصہ ہے۔
2: ہمارے خلاف دھماکے کرانے والے اور پھر ذمہ داری قبول کرنے والے دشمنوں کا ہمیں بخوبی علم ہے، دشمن کو اس حوالے سے خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ جتنا چاہیں دھماکے کرتے رہیں، یہ سب کچھ انکے کھاتے میں لکھا جائے گا، کوئی ظالم انتقام سے نہیں بچ سکتا۔
3: طوری قوم کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے والوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے کاروبار کو مزید خراب کرتے ہوئے ہمیں مزید تنگ نہ کیا جائے ورنہ ایک گھنٹے کی کال پر پورے ملک کو بلاک کیا جاسکتا ہے۔
4: کرم ایجنسی کے نام پر منظور شدہ ترقیاتی فنڈز کا 90 فیصد حصہ سنٹرل کرم اور لوئر کرم میں استعمال کیا جاتا ہے، جوکہ اپر کرم کے ساتھ واضح ناانصافی ہے۔ چنانچہ مختلف ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں تعصب اور ناانصافی کو ترک کرکے، منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
5: نئے پی اے بصیر خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2011ء میں اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے اور آرڈر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بالش خیل اور خار کلی کے مشترکہ شاملات میں غیر داخل کار پاڑہ چمکنی قوم کی ناجائز آباد کاری کی مسماری کے فوری احکامات صادر فرمائے جائیں۔
6: اگر حکومت جنرل راحیل کو شیعہ مخالف سعودی اتحاد کی کمان کے لئے این او سی دے سکتی ہے تو دنیا بھر کے شیعیان حیدر کرار بشمول پاکستان بھی مکہ، مدینہ، کربلا، نجف اور زینبیہ (دمشق) کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرسکتے ہیں۔ جسکا تعلق کسی سیاست سے نہیں بلکہ ہمارے عقیدے سے ہے۔
7: کرم ایجنسی کے متاثرین (آئی ڈی پیز) میں سے غیر طوری اقوام کو حکومت کی جانب سے ہر ماہ باقاعدہ ATM کارڈ کے ذریعے مراعات ملتے رہتے ہیں، انکی بحالی اور آبادکاری کے لئے تمام تعمیراتی سامان فراہم کیا گیا۔ جبکہ طوری قوم کے متاثرین، اہلیان صدہ، چاردیوال، جیلمئے، خیواص، دڑادڑ، خونسیدئے، آڑاولی (سیدانو کلے) اور گوبزانہ وغیرہ کو آج تک کسی قسم کے مراعات ملے، نہ ہی تعمیراتی سامان کی فراہمی ہوئی۔ اس حوالے سے جب پشاور میں موجود FDMA کے مین آفس سے رابطہ کیا گیا تو انکا دعویٰ تھا اور انکا دعوی انکے کمپیوٹر ریکارڈ میں بھی موجود تھا، وہ یہ کہ خیواص کا سارا گاؤں وہاں سے کلئیر ہے۔ اور کرم سے اوکے رپورٹ ملی ہے، کہ خیواص کو سب کچھ فراہم کیا جاچکا ہے۔ حالانکہ اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی خیواص کو کسی قسم کے مراعات ملے ہیں۔
8: ایف سی آر کی ترمیم میں تاخیر کے حوالے سے FATA کے ایم این ایز کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ترمیم میں تاخیر کی صورت میں ہم بھی انکے شانہ بشانہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
9: لوئر کرم کے علاقوں میں وقتا فوقتا بجلی کے کھمبوں کی تخریب اور ہر سال ایک مخصوص وقت میں مہینوں تک بجلی کی بندش کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متعلقہ علاقے کے لوگوں کو حدود ذمہ داری کے تحت سزا دی جائے، ورنہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
10: کرم ایجنسی کو مفلوج کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں سے سب سے خطرناک، جوانوں کو منشیات کی جانب ترغیب دینا ہے، حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ منشیات فروشوں اور انکے سمگلروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔
11: مردم شماری کے دوران بالشخیل کے علاقوں پر ناجائز قابض قوم پاڑہ چمکنی کا اندراج انکے اپنے ہی علاقے سنٹرل کرم میں کرایا جائے۔ کیونکہ انکا تعلق اس علاقے سے تو کیا اس تحصیل (لوئرکرم) سے بھی نہیں، بلکہ انکا تعلق سنٹرل کرم سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲