قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے غزہ پر صہیوني ریاست کي پچاس روزہ جارحيت کے دوران فلسطيني قوم کي استقامت وفتحمندي نيز صہیوني ریاست کي جانب سےغزہ کے محصور عوام کے مقابلے ميں عاجزي کے اظہار کو ايک بڑي کاميابي اور نصرت الہي کا وعدہ پورا ہونے کا مصداق نيز اس سے بھي عظيم تر کاميابي کي بشارت قرار ديا ہے -

16 اکتوبر 2014 - 14:46

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فلسطين کي تحريک جہاد اسلامي کے سربراہ رمضان عبداللہ سے ملاقات ميں غزہ کي حاليہ پچاس روزہ جنگ ميں صيہوني حکومت کے خلاف فلسطيني عوام اور مزاحمتي گروہوں کي کاميابي پر بيحد خوشي کا اظہار کرتے ہوئے فرمايا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ايراني عوام نے فلسطين کي کاميابي اور استقامت پر فخر کا اظہا رکيا ہے اور ہم اميد کرتے ہيں کہ حتمي فتح تک فلسطيني گروہوں کي کاميابي کا سلسلہ جاري رہے گا -

آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا کہ عام طورپر کئے جانے والے تجزيئے و تحليل کے مطابق صيہوني حکومت کو ، جس کے پاس طاقتور فوج اور جديد ترين ہتھيار ہيں جنگ کے ابتدائي ايام ميں ہي کاميابي حاصل کرليني چاہئے تھي ليکن آخر کار وہ اپنے مقاصد کے حصول ميں بھي ناکامي کا اعتراف کرنے اور فلسطيني گروہوں کي شرطوں کے سامنے گھٹنے ٹيکنے پر بھي مجبور ہوگئي -
قائد انقلاب اسلامي نے مجاہدوں کي مدد و نصرت کے بارے ميں الہي وعدوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ مزاحمتي گروہوں کے لئے عوام کي حيرت انگيز حمايت اور دشمن کے ہوائي حملوں اور اس کے ذريعے کئےجانے والے قتل عام سے جس ميں دوہزار سے زيادہ فلسطيني بچے خواتين اور عام شہري شہيد ہوئے مرعوب نہ ہونا، يہ خداوندعالم کے لطف و کرم کے علاوہ اور کچھ بھي نہيں ہے-

قائدانقلاب اسلامي آ يت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ اسرائيل کي طرف سے اس قسم کے حملے دوبارہ ہوسکتے ہيں فرمايا کہ مزاحمتي گروہوں کو چاہئے کہ وہ روز بروز اپني طاقت و قوت کوبڑھائيں اور غزہ کے اندر اپني طاقت کے ذخائر ميں اضاہ کريں -

قائدانقلاب اسلامي نے صہيوني حکومت کے مقابلے ميں غرب اردن کے بھي فلسطيني باشندوں کو غزہ کے باشندوں کے ساتھ شامل کرنے کو ايک بنيادي منصوبہ بتايا اور فرمايا کہ صيہوني حکومت کے ساتھ جنگ آر پار کي جنگ ہے جس ميں حتمي صورتحال کا فيصلہ ہونا ہے اس لئے ايسے کام کرنے کي ضرورت ہے کہ دشمن کو، جو خوف غزہ سے لاحق ہے وہي غرب اردن سے بھي لاحق رہے.

.......

/169