افغانستان کے عوام کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور آج ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی میں افغانستان کے نئے صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا

29 ستمبر 2014 - 17:38

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان کے عوام کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور آج ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی میں افغانستان کے نئے صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ پانچ مہینوں کی کشمکش کے بعد، افغانستان کے دو نامزد صدارتی امیدواروں اشرف غنی احمد زئی اور عبداللہ عبداللہ نے بلآخر الیکشن کمیشن کی جانب سے اشرف غنی احمد زئی کو نئے صدر کے عنوان سے متعارف کرائے جانے کے ساتھ ہی متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کے لئے اتفاق کرلیا۔ طے پانے والے سمجھوتے کی بنیاد پر عبداللہ عبداللہ نے حلف برادری کے تقریب میں صدر اشرف غنی احمد زئی کے بعد ایکزیکٹیو کونسل کے سربراہ کے عنوان سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک کے دو اہم انتظامی عہدیداروں کی حلف برداری کے بعد اس ملک کے عوام کو یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ اقتدار کی پر امن منتقلی سے ملک میں امن و استحکام کی برقراری اور ترقی و پیشرفت میں مدد ملے گی۔ افغانستان کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اشرف غنی احمد زئی اور عبداللہ عبداللہ آئندہ حکومت کے دو اہم رکن کے عنوان سے ملک کی ترقی اور پیشرفت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور دونوں شخصیات کو سیاسی، جہادی اور ملک کے مختلف مذہبی اور قومی گروہوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ افغانستان میں مختلف اقوام اور مذاہب کی موجودگی کے باوجود اس ملک کے عوام ملک دشمنوں اور غاصبوں کے مقابلے میں صف بستہ نظر آتے ہیں اور افغان عوام اپنی قومی حاکمیت اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہی عمل افغان عوام میں قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق پر منتج ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اشرف غنی احمد زئی پشتون قوم اور عبداللہ عبداللہ تاجیک قوم کے نمائندوں کے عنوان سے افغانستان میں قومی اتحاد و تعاون کے لئے  مثالی نمونے میں تبدیل ہوسکتے ہیں اور یہ باہمی اتحاد افغانستان کو برسوں سے جاری خانہ جنگی کے بعد ترقی و پیشرفت کے راستے پر گامزن کرسکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کا شک و شبھہ نہیں کہ دونوں رہنما کی جانب سے اٹھائے جانے والے حلف کی پاسداری کے لئے، افغانستان میں تمام سیاسی، قبائلی، قومی اور مذہبی گروہوں کے تعاون کی ضرورت ہے اور سب ملکر ہی ملک کی ارضی حاکمیت کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ افغانستان کے نئے صدر نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں افغانستان میں غیرملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی کے استحکام کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں سے قرار دیا اور کہا کہ یہ دو موضوع اقتصادی اور سماجی ترقی کی بنیاد شمار ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امن کی اعلی کونسل کے دائرے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات، افغانستان کی نئی حکومت کے لئے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ بہرحال افغانستان میں پرامن اقتدار کی منتقلی اس ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے نئے باب کا اضافہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲