قائد انقلاب اسلامي نے سن اسي کے عشرے ميں مسلط کي گئ آٹھ سالہ جنگ ميں ملت ايران کي کاميابيابيوں کو اس کے نقصانات کے مقابلے ميں انتہا‏ئي عظيم قرار ديا ہے-

24 ستمبر 2014 - 15:28

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قائدانقلاب اسلامي آيتہ اللہ سيٹ علي خامنہ اي نے بدھ کي صبح اعلي سيکورٹي اور فوجي حکام اور فوجي کمانڈروں سے اپنے خطاب ميں فرمايا کہ ، ہمارے آٹھ سالہ مقدس دفاع سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے کہ، تمام تر دباؤ اور بڑے پيمانے پر مالي مسائل کے باوجود خدا پر توکل اور عزم ارادے کے ذريعے، عالمي طاقتوں کي دھونس دھمکيوں اور ان کي بے جا توقعات کے سامنے ڈٹا جا سکتا ہے -

قا‏‏ئد انقلاب اسلامي نے سن اسي سے سن اٹھاسي تک جاري رہنے والي جنگ اور اس دوران ملت ايران کے مقدس دفاع کو ايراني عوام کي عظمت و سربلندي کا با‏عث قرارديا اورفرمايا آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران ايراني عوام کي استقامت و پائيداري کي بدولت اسلامي اور غير اسلامي ملکوں کي اہم اور با اثر شخصيات ميں خالي ہاتھوں ليکن پوري قوت کے ساتھ اپنا دفاع کرنے کا جذبہ پيدا ہوا-

قائد انقلاب اسلامي نے ملت ايران کے مقدس دفاع کو ايک ايسے زمانے سے تشبيہ دي کہ جو اہم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں کا بھي حامل ہے-
آپ نے فرمايا آٹھ سال مقدس دفاع کے واقعات اور سبق آموز پہلو، ايک تہذيب و ثقافت کا ابلتا ہوا چشمہ ہے چنانچہ اگر اس کو سمجھ ليا جائے تو بلا شبہ يہ چيز ملت ايران اور ملک کے مستقبل کے لئے انتہائي سود مند ہوسکتي ہے-
آپ نے سن اسي ميں مسلط کردہ جنگ کے زمانے ميں علاقائي سطح پرايران کے مدمقابل محاذ مشرق و مغرب اور ان سے وابستہ ايک بڑے فوجي اتحاد کي تشکيل کي جانب اشارہ کيا اور فرمايا : اس بڑے فوجي اتحاد کي تشکيل کا مقصد اسلامي جمہوريہ کو کمزور، اس کي ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اس کو داخلي مسائل و مشکلات ميں الجھا کر اس مقدس نظام کا شيرازہ بکھيرنا تھا، ليکن اسلامي جمہوريہ ايران اور ملت ايران تمام تر مشکلات اور وسائل کي کمي کے باوجود اس محاذ کے مقابلے ميں ڈٹ گئي اور کاميابي نے ملت ايران کے قدم چوم لئے-

قائد انقلاب اسلامي نے مسلط کردہ جنگ کے بھاري اخراجات نيز اسلامي انقلاب کي راہ ميں اپني جانوں کا نذرانہ پيش کرنے والے جانبازوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ حالانکہ مسلط کردہ جنگ کے مادي و غير مادي نقصانات بہت زيادہ تھے ليکن آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران ايراني عوام کو جو ثمرات حاصل ہوئے ہيں وہ نقصانات کے مقابلے ميں بہت زيادہ ہيں-
.......

/169