شام کے صدر بشار اسد نے حلف برداری کی تقریب میں زور دیا کہ شام کی قوم نے انتخابات میں شرکت کر کے ہشت گردی کو چیلنج دیا ہے۔
ابنا: بشار اسد نے بدھ کو پارلیمنٹ میں حلف برداری کے بعد، حلف برداری کی تقریب میں موجود لوگوں کے درمیان کہا کہ اصلی انقلابی شامی قوم ہے جس نے اپنے پیش نظر صدر، پارلیمنٹ اور آئین کا انتخاب کیا اور صدارتی انتخابات میں حصہ لے کر دہشت گردی کو چیلنج کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملت شام کے دشمن اسکے ارادے کو کمزور نہیں کر سکے، کہا کہ سیاست، تیل اور میڈیا کا استعمار شامی عوام کے برین واش کرنے میں ناکام ہو گیا۔
شامی صدر نے قوموں کے حقوق اور جمہوریت کے سلسلے میں مغربی ممالک کے دوہرے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور قوموں کے حقوق کے سلسلے میں مغرب کا دوہرا رویہ ہے اور اسی رویے کی وجہ سے مغربی ممالک میں رہنے والے شامی شہریوں کو صدارتی انتخابات میں شرکت سے روک دیا گیا۔
انہوں نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کی سخت مذمت کرتے ہوئے شام کے سلسلے میں ان کے نقطہ نظر کو شرمناک قرار دیا۔
بشار اسد نے عراق کے حالات کے سلسلے میں کہا کہ عراق کے حالات نے یہ بات ثابت کر دی کہ شام کا وہ انتباہ صحیح تھا کہ سازش شام کی حدود تک محدود نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شام نے عراق پر حملے کی مخالفت کی کیونکہ یہ حملہ اختلافات، فرقہ واریت اور دہشت گردوں کی سرگرمی کا ابتدائی نقطہ بنا۔
شام کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مغرب، علاقے کے سب سے بدعنوان اور ظالم ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، زور دیا کہ شام میں دہشت گردی کے حامی مغربی اور عرب ملک، دہشت گردانہ حملوں کی بڑی قیمت ادا کریں گے۔
انہوں نے اسی طرح شام کے مختلف علاقوں میں قومی آشتی کے عمل میں شامل ہونے پر زور دیتے ہوئے دھوکہ کھانے والوں سے ہتھیار زمین پر رکھنے کی اپیل کی۔
.......
/169