صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایرانو فوبیا کی ناکامی اور اس کے غلط ثابت ہونے کو جامع ایٹمی معاہدے کا اولین نتیجہ قرار دیا۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بدھ کی شام اسلامی انقلاب کی سینتیسویں سالگر کے موقع پر تہران میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور سفارتی عہدیداروں کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کا سب سے پہلا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ دنیا کو ایرانو فوبیا کی حقیت پتہ چل گئی اور انہوں نے محسوس کیا کہ ایران کے عوام امن و سلامتی کے خواہاں ہیں اور انہوں نے کبھی کسی ملک پر جارحیت نہیں کی۔
انھوں نے ایران کی خودمختاری، آزادی اور اسلامی جمہوری نظام کو انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کی دین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اسلامی انقلاب کی کامیابی بعد سے اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایران پر جارحیت بھی کی گئی لیکن ہمارے ملک کے عوام نے اغیار کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیابی اپنے نام کرلی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ پچھلے برسوں کے دوران ایران کو غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے پیچیدہ ترین مشکلات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات نے ثابت کر دیا کہ تشدد، دباؤ، پابندیوں، محاذ آرائی کے بجائے دنیا کے پیچیدہ مسائل کو منطق، دلیل اور عالمی قوانین کے مطابق تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد پر آسانی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ نہ تو ایران نے کشیدگی کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی کشیدگی جاری رکھے جانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد نئے نئے طریقوں سے ایرانو فوبیا پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس قسم کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ایران خطے پر تسلط جمانا چاہتا ہے اور خطے کے کئی ایک دارالحکومتوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایران نے آج تک کسی بھی ملک کے خلاف للچائی نظروں سے نہیں دیکھا، ایران نے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اور نہ آئندہ کبھی کرے گا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کے لئے خطے کا امن و استحکام اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا سب سے اہم ہے اور ایران نے ہی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تشدد اور انتہا پسندی سے پاک دنیا کی قرار داد کا مسودہ پیش کیا۔
صدر مملکت نے واضح کیا کہ ایران کے لئے مشرق وسطی کا امن و استحکام اہم ہے اور شام و عراق کی حکومتوں کی دعوت پر ہمارے تھوڑے بہت فوجی مشیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشاورت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ صدر نے سوال کیا کہ اپنے ہمسایہ اور دوست ملکوں کی دعوت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشورے دینے والا ملک خطے کے لئے خطرہ ہے یا وہ ملک جو ہمسایہ ملکوں پر جارحیت اور بمباری کرکے عام لوگوں کی زندگی کو تہ و بالا کرکے رکھ دے؟
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایک بار پھر ایران کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ ہم خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم نے کشیدگی کا آغاز نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہم کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے منگل کے دن امریکہ میں تحریک امت اسلام کے سربراہ لوئیس فراخان کے ساتھ ملاقات کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کی۔