ہفتہ وحدت کی مناسبت سے
ہندوستان؛ جموں میں اتحاد بین المسلمین پر عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد+ تصاویر
جموں میں شیعہ فیڈریشن کی جانب سے ہفتہ وحدت کی مناسبت سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ہندوستان کے عہدہ دار حجۃ الاسلام و المسلمین محمد رضا صالح نے مہمان ذی وقار کے طور پر شرکت کی۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کے شہر جموں میں شیعہ فیڈریشن کی جانب سے ہفتہ وحدت کی مناسبت سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ہندوستان کے عہدہ دار حجۃ الاسلام و المسلمین محمد رضا صالح نے مہمان ذی وقار کے طور پر شرکت کی۔
جموں سے ابنا کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق اتحاد بین المسلمین کے عنوان سے منعقدہ یہ کانفرنس دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ جس میں مقررین اور علماء کرام نے امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا ۔مہمان ذی وقار حجۃ الاسلام و المسلمین محمد رضاصالح نے قرآنی آیات کے حوالے سے پیغمبر اسلام(ص) کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ جس نے پیغمبر کی اطاعت کی گویا اس نے خدا کی اطاعت کی ۔انہوں نے آپسی اتحاد کو قرآنی حکم قرار دیتے ہوئے کہاکہ آپس میں نفاق ڈالنے والا قرآن کے منافی کام کررہا ہے،اختلاف انجمنوں، علماء اور شیعہ و سنی میں بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے اسلام پر اثر پڑتاہے ۔آپسی وحدت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امام خمینی ؒ کہتے ہیں کہ اگر تمام انبیاء میں کوئی اختلاف نہیں تو پھر دو لوگ بھی آپس میں ایک جگہ کیوں نہیں بیٹھ سکتے جو افسوسناک بات ہے ۔بچوں کو قرآنی تعلیم دینے پر تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لوگوں کی فکر اور سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے سیرت رسول پر بات کرتے ہوئے کہاکہ رسول اکرم کا اخلاق یہ تھا کہ وہ اپنے دشمنوں سے بھی پیار سے پیش آتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ افواہیں پھیلا کر ملی اتحاد کو نقصان پہنچایا جا رہاہے جیسے کہ یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ ایران میں سنی مساجد کو گرایا جارہاہے جبکہ حقیقت میں وہاں ہر ایک کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور اہل سنت کی سترہ ہزار سے زائد مساجد ہیں ۔
حیدر آباد سے تشریف لائے مہمان خصوصی مولانا تقی عابدی نے کہاکہ آج تمام دشمن متحد ہوچکے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن کہتاہے کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالو اور اتحاد و اتفاق سے رہو لیکن مسلمان ایک دوسرے کیخلاف صف آراہیں ۔ مولانا نے کہاکہ عجیب بات ہے کہ جس رسول نے مشرکین کو مسلمان بنانے کیلئے تمام تر مظالم سہے ، وہی مسلمان آج ایک دوسرے کو کافر بنانے کیلئے فتوے صادر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہودونصاریٰ اور امریکہ اور اسرائیل ایک ہوسکتے ہیں توپھر مسلمانوں کو آپس میں متحد ہونے میں کیا حرج ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو ہتھیار فراہم کررہی ہیں اور وہ ایک دوسرے کیخلاف لڑ رہے ہیں ۔مولانا نے کہاکہ شیعہ اور سنی میں نفاق پیدا کرنے والے دشمن کے ایجنٹ اور ضمیر فروش ہیں جن سے ہر مسلمان کو ہوشیار رہناہوگا۔
مرکزی جامع مسجد بجبہاڑہ کے امام وخطیب مفی ضیا الحق نے کہاکہ دشمنوں نے فروعی مسائل کا سہارا لیکر شیعہ اور سنی کو آپس میں لڑانا شروع کردیاہے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر مسلمانوں کو اللہ اور اپنے رسول کی قربت حاصل کرنی ہے تووہ ایک ہوجائیں اور کسی بھی طور پر اختلاف نہ کریں ۔ ان کاکہناتھاکہ اللہ اور اس کا رسول اسی بات پر خوش ہیں کہ مسلمان آپس میں اتحاد رکھیں ۔مفتی نے کہاکہ اہل بیت ؑ کی محبت ایمان کا جز ہے اوررسول نے اپنے اہل بیت ؑ سے محبت کو اپنی اجرت قرار دیاہے۔
اپنے خطاب میں شیعہ فیڈریشن کے سرپرست اعلیٰ مولانا سید مختار حسین جعفری نے کہاکہ ہمارا کردار ایسا نہیں ہوناچاہئے جو اسلام کی سرنگونی کا باعث بنے بلکہ اسلام کو اپنی جانوں سے عزیز سمجھو ۔ ان کاکہنا تھاکہ ہر مذہب کا ماننے والا اگر صرف اپنے مذہب پر ایمانداری سے عمل کرے تو دنیا سے نفرتیں اور قدورتیں ختم ہوجائیں گی کیونکہ کسی فرقہ کی تعلیم میں قتل و غارت گری کی اجازت نہیں ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہاکہ وہ صرف ایسی چیزوں کو اختیار کریں جو خدا کو پسند ہوں اور ان چیزوں سے دور رہیں جو خدا کو ناپسند ہیں ۔مولانا نے کہاکہ سیرت رسول منعقد کرنے کا فائدہ تب ہے جب ہم پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے راستے اور اسلامی قوانین کے تحت عمل کریںگے ۔انہوں نے کہاکہ دنیا نیوکلر بم والے ایران سے نہیں ڈر رہی بلکہ اُس ایران سے ڈرتی ہے جس کا سائنسدان نماز شب میں مشغول ہوتاہے اور بہترین قاری قرآن ہوتاہے ۔ ان کاکہنا تھاکہ دنیا قرآنی اور اسلامی نیوکلر والے ایران سے ڈرتی ہے۔
انجمن اتحاد بین المسلمین کے سرپرست مولانا مسرور عباس انصاری نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج کے دور میں وحدت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، اور وہ رسول کا ہو ہی نہیں ہوسکتاجو تفرقہ ڈال رہاہے ۔ انہوں نے وی ڈی سی کے معاملے پر بولتے ہوئے کہاکہ حکومت کو فوری طور پر اس فورس کو تحلیل کرناچاہئے کیونکہ اس کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب سرکار کے پاس سیکورٹی فورس ہے توپھر وی ڈی سی جیسی بے اختیار فورس کی کیاضرورت ہے ۔انہوں نے کربلا کمپلیکس جموں سے پولیس تھانے کو ہٹانے پر بھی زور دیا اور کہاکہ جہاں جموں میں اس مذہبی اراضی پر پولیس چوکی قائم کی گئی ہے وہیں کشمیر میں محرم کے جلوس برآمد کرنے پر پابندی عائد ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے دنیا کو سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا ہے جس سے نمٹنے کیلئے ایک ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو خلوص نیت سے کام کرے ۔
فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی فیڈریشن کے قیام کا مقصد بھی واضح کیا۔ انہوں نے کہاکہ فیڈریشن کا مقصد ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق قائم ہو اور وہ ایک نکتہ اتحاد پر جمع ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کی کانفرنسیں منعقد کرنے کامقصد بھی یہی ہے کہ مسلمان آپس میں اتحاد کریں ۔ اس موقعہ پر انہوں نے حکومت پر زور دیاکہ وہ جموں کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں تعمیروترقی کے اقدامات کرے اور وہاں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کانفرنس سے وتر ہل بڈگام سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغنی بٹ نے بھی خطاب کیا اور امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا ۔اس موقعہ پربولتے ہوئے ممبرا سمبلی کرگل اصغر کربلائی نے دہشت گردانہ کارروائیوں خصوصاً نائیجیرین فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے قتل عام کی مذمت کی ۔ ریٹائرڈ جسٹس امتیاز حکیم نے وحد پر زور دیتے ہوئے کہاکہ رسول اور اہل بیت ؑ رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہی فلاح پائی جاسکتی ہے ۔کانفرنس میں ممبر اسمبلی سید باقر رضوی ، سابق ممبرا سمبلی رشید قریشی ،مسلم کوآرڈی نیشن کمیٹی کے صدر پروفیسر ظہور الدین،فیڈریشن سینئر نائب صدر شیخ سجاد حسین کے علاوہ پونچھ ، جموں، چندر کوٹ ، کشمیر اور لداخ سے بھی لوگ موجود تھے ۔نظامت کے فرائض فیڈریشن کے ترجمان اعلیٰ سید فداحسین رضوی نے انجام دیئے۔ آخر پر شکریہ کے کلمات فیڈریشن نائب صدر بشیر احمد میر نے کہے ۔اس کانفرنس کے بعد مہمان ذی وقار حجۃ الاسلام و المسلمین رضا صالح نے جموں کے مختلف علاقوں کادورہ کرکے وہاں نہ صرف شیعہ برادری بلکہ سنی برادری کے علماءسے بھی ملاقات کی اور آپسی اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ انہوں نے اہل سنت کے مدارس کا دورہ بھی کیا۔
رپورٹر؛ سید دلاور حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲