سر زمین قم میں واقع مدرسہ حجتیہ میں ہونے والے اس احتجاجی جلسہ میں مقررین نے ہندوستانی اخبار کے ذریعے کی گئی امام خمینی کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی اور بھارتی حکومت سے اخبار کے خلاف اقدام کرنے کا مطالبہ کیا۔

4 اگست 2015 - 20:30

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ١٨ شوال مطابق٣اگست بروز پیر حوزہ علمیہ قم میں ہندوستانی طلاب اور علماء نے ہندوستان ٹائمز میں ہوئی امام خمینی رہ کی توہین اور تحریک تحفظ اوقاف کے سلسلہ میں ہونے والے حالیہ حکومتی تشدد کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔
سر زمین قم میں واقع مدرسہ حجتیہ میں ہونے والے اس احتجاجی جلسہ میں مقررین نے ہندوستانی اخبار کے ذریعے کی گئی امام خمینی کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی اور بھارتی حکومت سے اخبار کے خلاف اقدام کرنے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق اس احتجاجی جلسے میں مولانا سید حیدر عباس دانش نے شایستہ و برجستہ انداز میں ہندوستان کے موجودہ مسائل پر اجمالی روشنی ڈالتے ہوئے دو اہم موضوعات کا تذکرہ کیا۔ مولانا نے ایک طرف معمار انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی شان میں گستاخی کرنے والے روزنامہ ''ٹائمس آف انڈیا''کی بھرپور مذمت کی تو دوسری جانب آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد نقوی کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حاضرین کو لکھنؤ کے حالات سے آگاہ کیا نیزاُن ماؤں کو سلام کیا جن کا جذبۂ ایمانی کسی بھی اسلامی تحریک کی ضمانت ہے۔
 اس احتجاجی جلسہ میں مولانا سید مبین حیدر رضوی نے پیر سیاست علوی حضرت امام خمینی کی شان میں گستاخی پر اظہار افسوس کرنے کے ساتھ قائد ملت کی عاشورائی اور حسینی تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
مولانا رضوی نے اضافہ کیا کہ وہ اناڑی کھلاڑی ہیں جو جنگ کے آخری مرحلے میں تھیلیوں میں کنکریاں بھر کر سادہ لوح عوام کو فریب دینے کی خاطر قرآن کریم کا نام دیتے ہیں ۔ان کا مقصد صرف اور صرف توجہات موڑنا ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ہمارا رشتہ و واسطہ بھی زندوں سے ہے۔ ہندوستان کے تمام ائمہ جمعہ و جماعات سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایف آئی آر درج کرائیں تا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی میڈیا پھر کبھی ایسی غلطی کا مرتکب نہ ہو۔
مولانا سید مبین حیدر نے اپنی تقریر میں کہا:یہ وقت آپس میں الجھنے کا نہیں ہے۔اس موضوع پر بحث ہی نہیں کرنی چاہئے کہ فلاں آیا فلاں تحریک کا حصہ نہیں بنا! کمیوں کی طرف جنگ میں ملنے والی کامیابی کے بعد توجہ کی جانی چاہئے ۔اس وقت پیادہ و سوار کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وجود سے تشیع کی حفاظت کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہیں اور صاف لفظوں میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ حسینی فوج ابھی چھاونی میں ہے جب بھی وقت ہوگا اپنے وجود کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔قائد ملت کے ہر مطالبہ پر ہم ساتھ ہیں۔
جلسے میں دوسری تقریر کرتے ہوئے مولانا سید عاکف زیدی نے وقف کے مسائل پر بیحد متین اور خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی۔ موصوف نے ہندوستان کی تمام تر ترقیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج جس ہندوستان میں ایک امیر اپنی رہائش کے لئے ٢٧فلورز کا مکان تعمیر کرواتا ہے ،جس میں ٦٠٠خدّام اس کی خدمت کے لئے رہتے ہیں جبکہ وہ وقتاً فوقتاً اس میں آتا ہے اسی ہندوستان میں آج ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جن کے پاس سر چھپانے تک کی جگہ نہیں! ہندوستان میں امیر اور غریب کا بڑھتا ہوا فاصلہ اورکسانوں کی صورتحال وغیرہ وغیرہ ہمارے پیش نظر ہیں ۔
مولانا زیدی نے اضافہ کیا کہ مسلمانوں سے قرآن کریم کی توقع ہے کہ وہ ہر معاشرے میں دوسروں کی مشکلات کے سامنے ڈھال اورسپر کا کردار ادا کریں اور تمام معاشروں کی ارتقائی خطوط پر رہبری کریں لیکن ہندوستان میں دوسروں کے کام آنے کے بجائے فی الحال مسلمان خود کو بھی لُٹنے سے نہیں بچا پا رہے ہیں ۔مسلمانوں کی اصل مشکل اس وقت غفلت اور سستی ہے۔قوم کو اسلامی معیارات کے تحت بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہندوستان میں اسرائیل کے بڑے بڑے عہدے دار اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکہ کے بعد جس ملک میں ہمارا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے وہ ہندوستان ہے ۔البتہ ان کا یہ اثر ورسوخ ہندوستان کے عوام تک نہیں بلکہ حکمرانوں تک ہے۔آج کے ہندوستان نے قوانین میں تیزی سے تبدیلی لانا شروع کر دیا ہے ۔آج زمین پر قبضہ کرکے سرمایہ دار طبقے کے سپرد کیا جا رہا ہے ۔
    عاکف زیدی نے کہا: ہندوستان تمام تر ترقی کے ساتھ ساتھ شاید اوقاف کے معاملے میں بھی سر فہرست ہے ۔البتہ اس موضوع پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔ہندوستان میں پانچ لاکھ اوقاف درج ہیں ۔سرکاری رپورٹس جیسے سچر کمیٹی وغیرہ کی رپورٹ کے مطابق اگر وقف کی زمین کو صحیح سے ڈیولپ کیا جائے تو سالانہ ١٢ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ممکن ہے۔توجہ رہے کہ اس میں زمین بکنے کا کہیں نام ونشان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ٢٠٠سال سے اوقاف غارت ہو رہے ہیں ۔انگریزوں نے انیسویں صدی کے آغاز میں بنگال سے وقف کی غارتگری مہم چھیڑی ۔آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔اگر اوقاف کے سلسلہ میں قانونی طور سے بھی عمل ہو (اگر چہ اس کی قانونی صحت اپنی جگہ سوال لئے ہے)تو بھی بہت سے فوائد ہم دیکھ سکتے ہیں ۔
 مولانا عاکف زیدی نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ بعض افراد وقف کے مسئلہ کو صرف لکھنؤ تک محدود رکھتے ہیں یا پھر اسے کسی ایک مولوی سے منسوب کر بیٹھتے ہیں جبکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے جس پر ہم سب کو بولنا بھی چاہئے اور لکھنا بھی چاہئے ۔
اس احتجاجی جلسہ میں مولانا نجیب الحسن زیدی نے رہبر کبیر امام خمینی کے سلسلہ میں ٹائمس آف انڈیا کی نازیبا حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا اس پیپر نے دس ایسے لیڈران کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہا جو جنسیات کے دلدادہ ہیں۔ اور اسی سلسلہ میں امام خمینی کی شان میں یہ گستاخی کر بیٹھا۔
مولانا سید نجیب الحسن نے اس کے پیچھے دو ممکنہ فرضیہ بیان کیئے :(١)دانستہ طور پر یہ حرکت انجام پائی۔(٢)نادانستہ طور پر انجام پائی۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ دونوں صورتوں میں اس شخص کے ماننے والوں کے اپنے کچھ فرائض ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اب ہمارا ردّ عمل کیا ہونا چاہئے؟!دشمن اس تاک میں ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں یا نہیں؟!آج ہمارا یہ احتجاج اور ردّ عمل ہماری زندگی کی دلیل ہے ۔ہندوستان کے مختلف شہروں جیسے چنئی،بنگلور، ممبئی، حیدرآباد اور لکھنؤ میں ٹائمس آف انڈیا کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی جس کے سبب اس پیپر نے معذرت چاہی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی دشمن اپنے خواب و خیال میں کچھ ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جس کے برے نتائج سے اسے بھی خبر نہیں ہوتی ہے۔
 امام خمینی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سید نجیب زیدی نے کہا:امام خمینی کی شخصیت ایک کہکشاں کی شکل میں جبین عالم پر چمک دمک رہی ہے اور اس عظیم شخصیت کے سلسلہ میں جو گستاخی ہے وہ ایسے ہی جیسے کچھ مینڈھک آسمان کی پہنائیوں میں چمکتی کہکشاں کے عکس کو دیکھ کر پانی میں کود کود کر ٹرٹراتے ہوئے ختم کرنے کے در پے ہوں اس بات سے بے خبر کہ کہکشاں کا پانی میں صرف عکس ہے وہ تو ان کی رسد سے بہت دور آسمان کی بلندیوں پر چمک رہی ہے ایسے میں یہ ٹڑ ٹڑ کر کے خود ہی بیٹھ جائیں گے کہکشاں کا کچھ ہونے والا نہیں ہے ، انہوں نے کہا کبھی توہین ایک شخصیت کی ہوتی ہے کبھی ایک فکر کی ہوتی ہے ہم نے امام خمینی کی شخصیت کی ہونے والی توہین پر احتجاج کیا یہ بہت اچھا اور لائق تحسین عمل تھا لیکن اس کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم فکر امام خمینی کی توہین کا سبب تو نہیں بن رہے ،ظالم کے ظلم کے سامنے سکوت امام خمینی کی فکر کی توہین ہے آج تحریک تحفظ اوقاف کے مقابل حکومت جو ظلم کر رہی ہے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا:  ''ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائو ''یہ فکر خمینی ہے۔اب اگر ظلم کے خلاف سکوت ہو تو اس میں بھی امام خمینی کی توہین ہے حقیقی عشق خمینی تو یہ ہے کہ انسان آواز دے اے خمینی تو ہمارے لئے اتنا عزیز ہے کہ ہم نہ تیٍری ظاہری توہین کو برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی تیرے افکار کی توہین ہمیں برداشت ہے۔(کثیر تعداد میں موجود علماء و افاضل نے بیک وقت فلک شگاف نعرے لگائے    زندہ ہے خمینی زندہ ہے)    
    مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے پر جوش انداز میں اضافہ کیا:امام خمینی عالمی سامراج اور استکبار کے خلاف تھے۔ آج خمینی کی فکر سے متصل ایک فرد نے ائمہ اطہار کی پراپرٹی کے تحفظ کی خاطر صدائے احتجاج بلند کی تو کچھ خاموش ہیں!واقعاًجائے تعجب ہے اور لمحۂ فکریہ بھی!
   انہوں نے کہا: شریعت کے اصولوں سے ناواقف شخص چیئرمین بن بیٹھا ہے جبکہ وقف مکمل دینی و شرعی مسئلہ ہے اب اس سلسلہ میں کوئی بولے یا نہ بولے لیکن خمینی مزاج رکھنے والا شخص ضرور بولے گا۔ ظلم کے خلاف آواز حسینیت کا تشخص ہے۔ مولانا نے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ شبہ پیدا کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا جو لوگ کہتے ہیں بڑے بڑے ادارے و بڑی بڑی شخصیتیں خاموش ہیں اگر معاملہ قومی ہے تو وہ کیوں نہیں آگے آتیں ؟ کہ ہر ایک کو قیادت نہیں سپرد کی جا سکتی موصوف نے اس مقام پر علامہ تقی جعفری کی مثال سے استفادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عظیم الشان عمارت کی تعمیر کے لئے اعلیٰ درجے کے انجینئرز ہوں، اچھی کوالٹی کا مصالحہ ہو اور جب کوئی شخص ان انجینئرز کو لے کر جائے ایک ایسی جگہ جہاں آتش فشاں ہو تو انجینئر یہی کہے گا کہ اس آتش فشاں پر بلڈنگ نہیں بن سکتی ہے۔ عمارت وہاں تعمیر ہوگی جہاں زمین اس لائق ہو کہ وہاں عمارت کھڑی ہو سکے قوم کی ترقی کی بلڈنگ ایسی زمینوں پر نہیں ہو سکتی جہاں آتش فشان دھک رہا ہو اور حب نفس کا  دھواں بلند ہو رہا ہو قومی ارتقاء کی عمارت اسی زمین پر بنے گی جہاں کبر ونخوت اور غرور و تکبر کو بالائے طاق رکھ کر شب و روز ایک کر دیا گیا ہو۔کہیں اقتدار،کہیں خواہشات نفسانی ۔۔۔ایسے آتش فشاں پر عمارت تعمیر نہیں ہو گی۔عمارت وہیں بنے گی جہاں ولایت کے آگے سراپا تسلیم ہوا جائے اسی لئے قوم ان آتش فشانوں سے واقف ہے اور انکے پاس نہیں جاتی اس لئے کہ جانتی ہے ان سے دھویں کے علاوہ کچھ نہیں ملنے والا ہے ۔
مولانا نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہم خاندان ،وقف اور شخصیت کو چھوڑ کر یہ دیکھیں کہ کون مظلوم ہے اور کون ظالم؟ ظالم کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور مظلوم کا ساتھ دیں تو یقینا خدا ہماری مدد کرنے والا ہے ان تنصرو اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم ....
  اس احتجاجی جلسے کے آخر میں حجۃ الاسلام مولانا سید مراد رضا رضوی نے اپنے خطاب میں آیۂ ''و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون'' کی تلاوت سے اپنے بیان کا آغاز کیا ۔ساتھ ہی اس بات پر زور ڈالا کہ آج حوزۂ علمیہ قم و نجف میں موجود ہندوستانی علماء و افاضل کو اوقاف کے سلسلہ میں آگے بڑھنا چاہئے۔دشمن تہی دست ہے اسے افواہوں اور پروپگنڈوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا کی غلط بیانی کو کنڈم کرتے ہوئے مولانا نے کہا:دشمن کے حقیقی چہرے کو پہچاننا ہمارا فریضہ ہے۔
    مولانا سید مراد رضوی نے لکھنؤ کے حالیہ واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے درگاہ حضرت عباس میں پیش آنے والے حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ایموشنل بلیک میلنگ ہو رہی ہے۔کاش پہلے غور کیا جاتا کہ اس حادثہ کے پس پردہ اسباب کیا ہیں۔آپ واقف ہیں کہ اس سے ایک ہفتے قبل لکھنؤ میں سعودی عرب اور اسرائیل کے نمائندے بعض شیعوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ وجہ صرف اور صرف اس تحریک و مشن کو ناکام بنانا ہے۔آج لکھنؤ کے احتجاجات میں بعض افراد کا نہ آنا کوئی نئی بات نہیں۔پچھلے برس بھی بلانے پر نہ آئے اور اس بار بھی وہ نظر نہیں آرہے ہیں۔
 انہوں نے انتظامیہ کے ذریعہ بے گناہ بچوں، خواتین اور مردوں پر ظلم و تشدد کو آزاد ہندوستان پر کلنک کا ٹیکہ بتاتے ہوئے اضافہ کیا کہ نمازیوں پر لاٹھی چارج اور عورتوں پر تشدد کے پیچھے اسرائیل و سعودی کا رفرما ہیں۔
  در ایں اثنا حاضرین نے اسرائیل مردہ باد اور آل سعود مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔اسی درمیان مولانا سید مراد رضوی نے نہایت پر جوش انداز میں ان افراد کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو چند ٹکے یا زمین کی لالچ میں خاموش ہیں کہ یاد رکھیں قیادت کے بنا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ایران کے خلاف پھیلائی جانے والی حالیہ افواہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے کہا کہ معلوم ہے کہ دشمن بوکھلایا ہوا ہے اور اسے ناکامی ملی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ قم ونجف کے علماء و طلاب کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ رہنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان ناپاک سازشوں کا شکار ہو جائیں ۔میڈیا کی خاموشی پر اظہار تعجب کرتے ہوئے مولانا سید مراد رضوی نے یمن میں ہونے والے مظالم کا بھی تذکرہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصغر بے شیر کے شعوری لبیک یا حسین نے یزید کو شکست سے ہمکنار کیا۔ ہمارا احتجاج پر امن ہے ہم مرجعیت کے تابع ہیں۔ جس دن ہم میدان میں آئے کوئی بھگوڑا فرار نہ کر سکے گا۔
آخر میں آفتاب شریعت کا قم المقدسہ میں موجود ہندوستانی علماء و افاضل کے نام آڈیو نوٹ بھی سنایا گیا۔
    اس احتجاجی جلسہ کو کامیاب بنانے میں حجج الاسلام والمسلمین مولانا سید عباس باقری، مولانا سید فائز باقری، مولانا سید غلام رضا وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔
جلسہ میں کثیر تعداد میں طلاب و علماء کرام نے شرکت کی جن میں  حجہ الاسلام  والمسلمین مولانا شہوار حیدر سعیدی ،عرفان مہدی ،عابد رضانوشاد، خرم آبادی ،نیر عباس ، انتظار مہدی ، کمیل ، ابوذر، فیضان ،ظہور مولائی ، حسن رضا کریمی ابراہیم روحانی کے علاوہ ہندوستان کے تقریبا ہر خطے سے طلاب موجود تھے بنگال کی کھاڑیوں سے کرگل کی پہاڑیوں تک ہر ایک اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے  اس جلسہ میں حاضر تھا اور  اسی لئے یہ جلسہ اپنی نوعیت کا منفرد اور تاریخ قم کا ایک تاریخ ساز احتجاجی جلسہ کہے جانے کے لائق ہے     
قابل ذکر ہے کہ تقریباً دو گھنٹے کی مدت تک چلنے والا یہ احتجاجی جلسہ امام زمانہ کی سلامتی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲