اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا کے ساتھ شامل ہونا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کی وجہ سے ستر ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے جبکہ بعض پاکستانی ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایک سو پچاس ارب سے زائد اور بعض کا کہنا ہے کہ دوسو ارب سے زیادہ معیشت کو نقصان ہوا۔
افغانستان میں امریکی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پہلے جہادی پیدا کیے گئے اور پھر ان کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسی لاکھ کشمیری پچاس روز سے محصور ہیں جنہیں نو لاکھ ہندوستانی فوج نے گھروں میں محصور کردیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ کشمیرعالمی قوانین سے منسلک ہے اور یہ خطہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان متنازع ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے عوام کو خود ارادیت کا حق دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 'مجھے عالمی برادری سے کم از کم یہ توقع ہے کہ وہ کرفیو ہٹانے کے لیے کہیں گے جو غیر انسانی ہے اور یہ کشمیر کے تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
/129
24 ستمبر 2019 - 05:43
News ID: 977652
پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی