اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یورپی کمپنیوں اور حکومتوں کی جانب سے ایران میں کام جاری رکھنے کے حوالے سے رینو کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کارلوس گوسن نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی ایران میں اپنی سرمایہ کاری ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
رینو کمپنی نے سن دو ہزار سترہ میں ایران کی سرکاری کمپنی انڈسٹریل ڈیولپمینٹ اینڈ رینویشن کارپوریشن کے ساتھ سات سو اسی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا تھا۔
فرانس اور برازیل کے بعد ایران، رینو کمپنی کی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی شمار ہوتا ہے۔
حکومت جرمنی نے بھی امریکی پابندیوں کے حوالے سے خصوصی مشاورتی دفتر قائم کر دیا ہے جو ایران کے ساتھ لین دین کرنے والی جرمن کمپینیوں کو مشاورت فراہم کرے گا۔
جرمن کمپنیاں وزارت خزانہ کے قائم کردہ رابطہ مرکز سے ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارتی معاملات کے بارے میں اپنے سوالوں کے جوابات حاصل کر سکتی ہیں۔
جرمن وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق جرمنی، ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کا پابند ہے اور اس حوالے سے حکومت کی فراہم کردہ ضمانتیں اب بھی دستیاب ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی دو ہزار اٹھارہ کو ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں اور الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔امریکی صدر نے ایران کے خلاف تمام پابندیاں بھی چھے ماہ کے اندر دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ کی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور رخنہ اندازیوں کے باجود معاہدے کے دیگر فریق ممالک ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر تاکید کر رہے ہیں۔
یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے میں چین کی فعال مشارکت کو اہم قرار دیا ہے اور یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ چین اور یورپی یونین ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو محفوظ رکھنے کے لیے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
ادھر یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ عالمی برادری ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کی حمایت کرتی ہے اور اس معاہدے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
فیڈریکا موگرینی کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے یورپی یونین کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور ہم بدستور خود کو اس معاہدے کا پابند سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران پچھلے تین برس سے ایٹمی معاہدے کی پابندی کر رہا ہے اور آئی اے ای اے کی گیارہ رپورٹوں میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲