اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی ادیب اور مصنف ’’کاوہ افرا ساوی‘‘ نے پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کہ ایران علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کا سُپر پاور ملک جتلانے والے امریکی صدر کے سرکش اور آوارہ برتاؤ سے امریکی حکومت کا مکار و فریبی چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کی تقریر عالمی اعتبار کی حیثیت سے امریکہ کیلئے شرمندگی کا باعث بنی ہے اور اُن کی تقریر امریکی خود مختاری کیلئے ایک چلینج ہے کیونکہ ایران جوہری معاہدے میں ملک کی پوری سفارتی مشینری مصروف تھی۔
موصوف مصنف نے کہا کہ ٹرمپ نہ صرف اوباما بلکہ پوری امریکی سفارتکاری کو کمزور کررہے ہیں اور جتنی جلد امریکی عوام اس بات کو سمجھ لے گی اتنا ہی امریکی معاشرہ ترقی کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنی شکست خوردہ حکمت عملی کا تعاقب کررہے ہیں اور اقوام متحدہ میں اُس کے سرکش برتاؤ نے دنیا بھر میں امریکی ساکھ کو کمزور کردیا ہے۔
انہوں نے قزاکستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام پر ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور میں ایران کے کردار کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ذریعے ایران کو بدنام کرنے کی کوششوں کا مقصد حقیقت سے عام رعایا کو دور رکھنا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بوکھلاہٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کے بعد نیتن یاہو حواس باختہ ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں وہ اپنی چمک کھو رہے ہیں اسلئے وہ ایٹمی بحران پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ عالمی اسٹیج پر اپنے آپ کو پھر سے ابھار سکے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو تہران ایٹمی پروگرام پر واویلا تو مچا رہے ہیں لیکن خود اسرائیل کی ناجائز رژیم نے این پی ٹی کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران ایک پُر امن ایٹمی پروگرام کا تعاقب کررہا ہے جبکہ اسرائیل نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو پوری طرح سے مخفی رکھا ہے اور اُس کی ایٹمی سرگرمیاں ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ تمام دنیا کیلئے ایک خطرہ ہے۔
کاوہ افرا ساوی نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے دوری اختیار کرنے کی حماقت کی تو اسے اپنی کابینہ میں موجود امریکی کانگریس کے ارکان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا جسے اُس کا صدارتی عہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲