2 دسمبر 2014 - 15:35
تکفیریت سے متعلق بعض ممالک کی دہری پالیسیاں قابل مذمت

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی نے علاقائي مسائل منجملہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے تعلق سے بعض ملکوں کی دوہری پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نیکولائي مادنف نے آج قم میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا کہ بعض ممالک داعش کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں لیکن دوسری طرف سے اس دہشتگرد گروہ کے ساتھ تعاون اور مدد بھی کررہے ہیں۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو چاہیے کہ ان ملکوں کو جو داعش کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں اور اسکے ہاتھوں غصب شدہ تیل خرید رہے ہیں سختی سے نوٹس دیں تا کہ وہ داعش کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کی حمایت کرنے سے پرہیز کرنا اور علماء اسلام کی جانب سے اس گروہ کے افکار نظریات کی وضاحت کرنا اور حکومت عراق اور عوام کو مضبوط بنانے سے داعش کو چند مہینوں میں ختم کیا جاسکتا ہے۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہاکہ صیہونی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ داعش کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے تا کہ مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملت ایران داعش کونابود کرنے کےلئے اپنے تمام تر وسائل و ذرايع بروئے کار لائے گي۔ اس ملاقات میں عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے داعش کی آئيڈیا لوجی اور اسکے وجود میں آنے کے عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف صرف فوجی لحاظ سے جنگ نہیں کی جاسکتی بلکہ اس لعنت کو عوام کے ذہن سے بھی صاف کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے داعش کے مقابل، ایران کی جانب سے عراق کی مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب کو مل کر عراق کی مدد کرنی چاہیے۔

.......

/169