اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ میزائل 250 سے 350 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو بڑی آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کو شدید دھماکہ خیز مواد سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ میزائل کا وزن پانچ سو کلو گرام ہے اور یہ ایک سیکنڈ میں 1.5 کلومیٹر کی رفتار سے پرواز کرنے کے قابل ہے۔
ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ میزائل، مزاحمت کو مسلح کرنے کے تناظر میں لبنان کے مزاحمتی گروہ حزب اللہ کو ایران کی جانب سے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ، فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس و جہاد اسلامی جیسے گروہ، کمزوروں کے حامی اور اسرائیل سے مقابلہ کرنے والے گروہ ہیں۔
ایرانی فوج کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا کہ غزہ پٹی کو دیے گئے میزائل کی تعمیر غزہ پٹی میں اور ایرانی ماہرین کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ ایران کے ایک اور سینئر کمانڈر سید مجید موسوي کا کہنا ہے کہ مزاحمت، اسرائیل کے کسی بھی گوشے کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اسلامی مزاحمتی تحریک کے پاس فاتح میزائل ہے جسے وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتا ہے۔
.......
/169