اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں، کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی فتح کے بعد کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی، ایران کے لئے فریم ورک کا مشورہ پیش کر سکتے ہیں جس کی بنیاد پر ایران، پرامن جوہری توانائی کی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جوہری مذاکرات، مشکل سفارتی راستہ ہے کیونکہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ امریکی صدر نے کانگریس پر رپبلكنس کے کنٹرول اور ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات پر اس کے پڑنے والے اثرات کے بارے میں کہا کہ اگر ہم ایران کے ساتھ اچھے معاہدے تک پہنچ گئے تو اس کے بعد ہم کانگریس میں مذاکرات کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر کانگریس نے ساتھ نہ دیا تو کیا وہ یک طرفہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو کم کرنے کی توانائی رکھتے ہیں، کہا کہ پابندیاں کئی قسم کی ہیں اور ان میں فرق بھی ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کو کہا تھا کہ مذاکرات کی مدت بڑھانے کے بارے میں غور نہیں کیا گیا ہے، ہم ایران کے ایٹمی مسئلے کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے اور اس خیال سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔
.......
/169