3 اکتوبر 2014 - 12:15
داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں خواتین کی سر عام نیلامی

عراق اور شام میں دہشت گردی کی علامت پن چکے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے تمام تر انسانی اور جنگی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسانیت کو شرمندہ کرنے والے وحشیانہ مظالم جاری رکھےہوئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش نے شام میں گرفتار کیے گئے 35 انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو فائرنگ کرکے بہت ہی بے رحمی سے قتل کر دیا ہے۔ مارے گئے تمام افراد گزشتہ کئی ماہ سے داعش کی قید میں تھے۔

سوشل میڈیا پر داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی اور سماجی کارکن احمد الاصمعی کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

الاصمعی ان 35 کارکنوں میں شامل تھے جنہیں داعش نے دوران حراست قتل کیا ہے۔

الرقہ سے تعلق رکھنے والے الاصمعی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جب یہ اطلاع ملی کہ ان کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے داعش سے رابطہ کر کے ان کی لاش کو اہل خانہ کے سپرد کرنے کی درخواست کی، تاہم تکفیری دہشت گردوں نے لاش دینے سے صاف انکار کر دیا۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں داعش اور اس کے حامی تکفیری دہشت گرد گروہوں پر عراق میں انسانی حقوق کی منظم طور پر خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دہشت گرد بے گناہ عوام کا قتل عام کر رہے ہیں، خواتین کو یرغمال بنا رہے ہیں اور لڑکیوں کا کنیزوں کی طرح جنسی استحصال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے عراق اور شام میں داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں خواتین کی سر عام نیلامی، مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر مخالفین کے وحشیانہ قتل عام، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے سرقلم کرنے کو انسانیت کے خلاف جرم یا جنگی جرائم قرار دیا کيا ہے اور مجرمین کو انصاف کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا گيا ہے۔
.......

/169