25 جولائی 2014 - 13:24
افغانستان، ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع

افغانستان ميں صدارتي اليکشن کے دوسرے مرحلے کے ووٹوں کي دوبارہ گنتي کا عمل پھر سے شروع ہوگيا ہے ۔

ابنا: افغانستان کے اليکشن کميشن کے ترجمان نور محمد نور نے ميڈيا کے نمائندوں کو بتايا کہ جمعرات کي صبح سے ووٹوں کي دوبارہ گنتي کا عمل پھر سے شروع ہوگيا ہے۔ ووٹوں کي دوبارہ گنتي کا عمل بدھ کو رک گيا تھا اور اليکشن کميشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ووٹوں کي گنتي کا عمل اس لئے روک ديا گيا تھا کہ دونوں اميدواروں کے اليکشن دفاتر کے درميان غلط فہمياں پيدا ہوگئيں تھيں ۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے کچھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ملک کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی کرنے والوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کی بات کہی ہے۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن کے ترجمان نے جمعرات کو کابل میں پریس کانفرنس میں کہا کہ صدارتی عہدے کے انتخاب کے دوسرے مرحلے کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی کرنے والوں کی تعداد 200 کی جا رہی ہے۔ نور محمد نور نے کہا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لئے ایک معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل بہت سست رفتاری سے چل رہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں صدارتی امیدواروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے کچھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانی پڑ رہی ہے۔
يہ پہلي بار ہے جب سوفيصد ووٹوں کي دوبارہ گنتي کا عمل رک گيا اور پھر شروع ہوا ۔ افغانستان کے صدراتي اليکشن کے دوسرے دور کے ووٹوں کي دوبارہ گنتي کا عمل صدارتي اميدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کي جانب سے اليکشن اور ووٹوں کي گنتي کے عمل ميں دھاندلي کے الزامات کے بعد شروع ہوا ہے ۔
اس سے پہلے اليکشن کميشن نے اشرف غني کو دوسرے دور کے اليکشن ميں کامياب اميدوار قراردے ديا تھا جس کو عبداللہ عبداللہ نے ماننے سے انکار کرديا تھا۔ عبداللہ عبداللہ نے دھمکي دي تھي کہ اگر ان کے مطالبات تسليم نہ کئےگئے تو وہ ايک متوازي حکومت تشکيل دے ديں گے۔

.......

/169