اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے مصر میں فوجی جرائم کی تفتیش کے لیے معزول صدر محمد مرسی کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی جانب سے دائر کردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔ آئی سی سی کے ایک بیان کے مطابق "عالمی فوجداری عدالت، مصر کے معاملات میں سماعت کا اختیار نہیں رکھتی کیوں کہ تفیتش کی درخواست متعلقہ ریاست نے نہیں بلکہ ایک جماعت نے ارسال کی ہے۔" یہ ایسی حالت میں ہے کہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کی شکایت قانونی ہے کیوں کہ ان کی نظر ميں محمد مرسی بدستور اس ملک کے قانونی صدر ہیں ۔ یاد رہے کہ جولائی 2013 میں مصر کی فوج نے ملک میں پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت اور سیکورٹی فورسز نے اخوان المسلمین اور محمد مرسی کے حامیوں کے لیے زمین تنگ کر دی اور انہیں جیلوں میں بھرنا شروع کر دیا۔ محمد مرسی کی سیاسی جماعت نے عالمی عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں جون 2013ء کے بعد سے مصر میں ہونے والے مبینہ انسانیت سوز جرائم کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے مبینہ قتل، غیر قانونی حراست، تشدد اور تنظیم کے ارکان کو اغوا کرنے کے شواہد بھی فراہم کئے گئے تھے۔ درخواست میں مظاہرین کو نشانہ بنا کر قتل کئے جانے اور بلڈوزروں تلے کچلے جانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ واضح رہے کہ چودہ اگست 2013 کو مصری سیکورٹی فورسز نے قاہرہ کے رابعہ العدویہ اسکوئر میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کے ایک دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے کیے گئے کریک ڈاؤن میں کم از کم 627 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ گذشتہ ہفتے ایک مصری عدالت نے اخوان المسلمین کے مرشد عام ، محمد بدیع سمیت 683 کارکنوں کو سزائے موت سنائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲