اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ سینٹرل کمانڈ امریکہ کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شام دھشتگردوں اور القاعدہ سے وابستہ افراد کی پناہگاہ بن چکا ہے کہا: گزشتہ ایک سال میں شام میں بیرونی دھشتگردوں کی تعداد میں ۱۰ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
رای الیوم اخبار کی رپورٹ کے مطابق آسٹن نے وضاحت کی کہ گزشتہ ایک سال میں شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے جنگجووں جو پہلے ۸۰۰ افراد تھے کی تعداد آٹھ ہزار ہو گئی ہے۔
انہوں نے ایک کانفرنس میں کہا ایک سال پہلے جب میں نے اس عہدے کو سنبھالا تھا تو ہم شام میں ۸۰۰ بیرونی دھشتگردوں کی بات کرتے تھے لیکن اب ہمارے اینٹلیجنس ادارے آٹھ ھزار بیرونی دھشتگردوں کی رپورٹ دیتے ہیں۔
امریکی جنرل نے کہا: بیرونی جنگجو ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور شام کے مسئلے کو اس بات نے زیادہ پیچیدہ کر دیا ہے میں اپنی ۳۹ سالہ سروس میں اتنی بڑی مشکل سے دوچار نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ، جیمز کلاپر نے رواں سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ شام میں ۵۰ ملکوں کے لوگ لڑ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲