19 دسمبر 2013 - 20:30
شام: داعش سعودیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹارہی ہے/ کویتی مولوی: داعش غاصب ہے

کویت کے سلفی مولوی اور شیعیان شام کے قاتل شافی العجمی نے سعودی دہشت گردوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے، مصریوں اور تونسیوں کو مقدم رکھنے اور ایمن الظواہری کے احکامات سے نافرمانی کی بنا پر داعش پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شافی العجمی نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں شام کی صورت حال اور ابوبکر البغدادی کی سرکردگی میں دہشت گرد تنظیم "دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) پر نکتہ چـینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس عدالت کے قاضی داعش کے بہی خواہ نہ ہوں اس کے اراکین اس کو تسلیم نہیں کرتے اور اس تنظیم کی یہ پالیسی امریکی قانون سے مشابہت رکھتی ہے جس کے مطابق امریکی فوجیوں پر دوسرے ممالک کی عدالتوں میں مقدمہ نہيں چلایا جاسکتا۔ داعش والے اس پالیسی کے تحت اپنے اراکین کے لئے استثنی کے قائل ہوجاتے ہیں تاکہ وہ مطمئن رہیں کہ ہر قسم کے حالات میں وہ اپنا مطلوبہ نظام قائم کریں گے! دوسری اہم بات یہ ہے کہ البغدادی نے بھی شرعی بورڈز کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا ہے اور ان بورڈز کو مشرکانہ بورڈز کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان بورڈز پر قبضہ کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ العجمی نے کہا ہے کہ البغدادی نے شام کے شہر دیر الزور اور شہر الباب میں شرعی بورڈز کے اراکین کا قتل عام کیا؛ سعودی شہریوں کو اہم اور کلیدی عہدوں سے ہٹا رہا ہے اور اپنے عراقی، تیونسی اور مصری ساتھیوں کو ان پر ترحیح دیتا ہے اور اس نے ایمن الظواہری کے اس فرمان کی خلاف ورزی کی ہے کہ داعش کی عراقی اور شامی شاخوں کو الگ الگ رکھا جائے اور انہیں ایک تنظیم کے طور پر متعارف نہ کرائے اور شام کی حدتک جبہۃالنصرہ کو سرگرم رہنے دیا جائے اور داعش شام میں اپنی مستقل سرگرمیاں روک دے۔ العجمی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ کہ جب داعش اور اس کے سرغنے اپنے اعلی راہنما ایمن الظواہری کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے تو ان کی طرف سے شرعی بورڈز اور ان کے مخالف علماء کے سامنے ڈٹ جانے کی پالیسی پر حیرت زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ العجمی نے کہا: داعش تنظيم مسلمانوں کے حقوق کی غاصب ہے؛ ابو مصعب زرقاوی اور ابوبکر البغدادی میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اگر بغدادی اور اس کے ساتھی شرعی احکامات کی تعمیل کرتے تو ان کے ہاتھ کبھی بھی مسلمانوں کے خون سے آلودہ نہ ہوتے۔ العجمی کویت کا جانا پہچانا شدت پسند سلفی مولوی ہے جس کے شام میں برسر پیکار زيادہ تر دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جس نے کویت کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام کے ضمن میں شام کے تکفیری گروپوں کو ہتھیار اور امداد فراہم کرنے پر زور دیا تھا جس پر کویتی حکومت نے اس کے ٹی وی پروگرام پر پابندی لگادی۔ العجمی کچھ عرصہ شام میں بھی رہا اور وہاں خاص طور پر شیعہ باشندوں کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں میں ملوث رہا اور ایک گاؤں پر حملے اور اس کے شیعہ امام جماعت اور ان کے بیٹے کو ذبح کرنے کی کاروائی میں شریک رہا اور بعد میں ایک محفل میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔ العجمی شیعیان شام کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں شریک ہونے کی بنا پر شیعہ نوجوانوں کی طرف سے قتل کی دھمکی ملی تو شام سے بھاگ کر کویت واپس چلا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭