اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین ہیومن رائٹس واچ کے عہدہ دار یوسف الحافظہ نے کہا ہے کہ بحرین کے اٹارنی نے دو نوجوانوں کو سکیورٹی پولیس پر پتھراو کے جرم میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔بحرین اٹارنی کا یہ اقدام ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت بحرین پر دباو ڈالا ہے کہ وہ قید خانوں میں بند بچوں کو آزاد کرے۔بحرین کی جمیعت الوفاق نے اپنے ایک بیانیہ میں اعلان کیا ہے کہ ۱۳ سالہ نوجوان عبد اللہ یوسف البحرانی اور ۱۰ سالہ نوجوان جہاد السمیع کی گرفتاریاں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بچوں کی رہائی کے حکم کے بعد ہوئی ہیں۔ بحرینی حکومت کا یہ اقدام اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دستور کے لیے کسی طرح کی اہمیت کی قائل نہیں ہے۔ادھر دوسری طرف آل خلیفہ حکومت کے مزدوروں نے آج صبح اس ملک کے علاقے الدراز میں ۱۵ گھروں پر چھاپہ مارا کر ایک جوان کو گرفتار کیا ہے۔چند روز قبل نیز بحرینی سکیورٹی فورس نے بنی جمرہ کے گاوں میں لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر لوگوں کو وحشت میں مبتلا کیا۔بحرینی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج صبح مارے گئے گھروں پر چھاپے رات کے ڈھائی بجے شروع اور تین گھنٹے تک جاری رہے۔واضح رہے کہ بحرین کے لوگ دو سال سے آل خلیفہ حکومت کے مظالم جھیل رہے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
18 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490096
بحرین میں آل خلیفہ کے مزدوروں نے گزشتہ شب رات گئے عام لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر ایک جوان کو گرفتار کیا اور عورتوں اور بچوں کو وحشت میں مبتلا کیا۔