اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج ظہر کے وقت بھی جنوبی بغداد میں دور کے علاقے میں بھی 17 زائریں وہابی تکفیریوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں ميں شہید اور 35 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ بزدل تکفیریوں نے دھماکہ اس وقت کیا جب نہتے اور بےگناہ زائرین کھانا کھا رہے تھے۔ کل (بدھ کے روز) بھی خالص کے علاقے میں ایک دھماکے میں پانچ زائرین شہید اور 10 زخمی ہوئے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا۔ ادھر "بیداری فوسز" نے صوبہ دیالہ میں اعلان کیا ہے کہ اس فورس کے 500 اہلکار المقدادیہ اور بعقوبہ کے راستے کی حفاظت پر مامور کئے جاچکے ہیں تا کہ زائرین سید الشہداء علیہ السلام، بحفاظت کربلا جاکر اربعین حسینی کے مراسمات میں شرکت کرسکیں۔۔ دیالہ میں بیداری فورسز کے کمانڈر ہژبر عباس نے کہا کہ بعقوبہ اور المقدادیہ کے راستہ ستر کلومیٹر ہے جو طویل ترین راستہ ہے اور ہم اس کا تحفظ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ یاد رہے کہ دیالہ پولیس کے 20 ہزار اہلکاروں کو بھی اربعین کے دوران زائرین کے تحفظ کے لئے ریڈ الرٹ دی گئی ہے۔ پیر کے روز بھی تکفیری وہابیوں کے دو خوکش حملوں میں 24 افراد شہید ہوگئے تھے۔ حالیہ ایام میں کربلا کے لئے زائرین کے قافلے پائے پیادہ کربلا کی جانب روانہ ہوئے ہیں آل سعود کے کرائے کے جلادوں کے دہشت گردانہ حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں سرکاری فورسز اور بیداری فورس کے ہاتھوں شدید ترین ناکامیوں کے بعد بزدل وہابی دہشت گردوں نے ابوغریب کے علاقے میں مؤخر الذکر فورس کے اہلکار کے گھر پر حملہ کرکے اس کی بیوی اور تین بچوں کو شہید کیا۔ سنہ 2013 عراقی عوام کے لئے پر تشدد ترین سال ثابت ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
عراق میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں آل سعود ملوث
عراقی پولیس کے جوان نے جان دےکر زائرین کو بچایا/ کار بم پھٹنے سے قبل ناکارہ/ مزید واقعات