17 دسمبر 2013 - 20:30
دیر الزور میں فوجی کاروائی/ مغربی عرب اتحاد ختم ہورہا ہے/ عدرا میں کاروائی کی تفصیل

دیر الزور میں سرکاری افواج کی کاروائیاں جاری ہیں/دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا/ عدرا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی جاری/ عدرا کی کہانی ایک شامی ڈاکٹر کے زبانی/ عدرا کی سڑکوں پر شامی باشندوں کے سر قلم کئے گئے/ عینی شاہدوں کا مشاہدہ۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ دیرالزور ـ جو صوبہ حمص کے بعد سب سے بڑا صوبہ ہے ـ میں سرکاری افواج کی کاروائیا جاری ہیں۔ اس صوبے میں ہونے والی کاروائیوں کو ذرائع ابلاغ میں زیادہ کوریج نہیں جارہی ہے لیکن بہرحال یہ صوبہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ صوبہ شام کے جنوب کو شمال اور شمال مشرقی علاقوں کے درمیان واقع ہوا ہے جبکہ گیس اور آئل فیلڈز بھی شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں واقع ہوئے ہیں اور یہ صوبہ جس کے کنٹرول میں ہوگا وہ حلب اور ترکی کی طرف جانے والوں کی نگرانی کرسکتا ہے کیونکہ یہ صوبہ ایک طرف سے ترک سرحدوں اور دوسری طرف سے عراق کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ حالیہ چند دنوں کے دوران دو تکفیری تنظیموں یعنی دانش اور جبہۃالنصرہ کے دہشت گردوں نے دیر الزور اور اس کے نواح کے اندر بعض فوجی مراکز پر حملے کئے تاکہ ان فوجی مراکز پر قبضہ کرنے کے بعد دیر الزور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کرسکیں جبکہ اس سے قبل دہشت گردوں کو اس صوبے میں پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور ان حملوں میں انہیں دانت کھٹے کردینے والی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سرکاری افواج نے اپنا کنٹرول مستحکم کررکھا ہے۔ داعش کے تکفیریوں نے 137 بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر اور قریبی واقع ہتھیاروں کے بڑے سرکاری ذخیرے پر حملہ کیا اور فوج نے ان کا حملہ ناکام بنایا۔ داعش نے صبح کے وقت اپنے حملے کا آغاز کیا اور ابتداء میں ایک کار بم دھماکہ الصاعقہ ہیڈکوارٹر کے قریب اور ایک کار بم دھماکہ ہتھیاروں کے ذخیرے کے قریب کیا اور 3000 دہشت گردوں نے حملہ شروع کیا جن کی غالب اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ اس حملے کے دوران ہی دہشت گردوں نے الحویقہ، الرشدیہ اور الجبیلہ میں بھی جھڑپوں کا آغاز کیا جو کہ دہشت گردوں کے مواصلاتی نکات ہیں۔ ان جھڑپوں میں جندالعزیز، جبہۃالنصرہ، الفاتحون من ارض الشام اور لواء الاخلاص نامی دہشت گرد تنظیموں نے شرکت کی جو القاعدہ سے وابستہ ہیں۔ ان محلات میں جھڑپوں کا مقصد یہ تھا کہ القصور اور الجورہ پر قبضہ کرسکیں اور فوجی فورس کو تقسیم کریں لیکن فوجی دستے بہت زیادہ مربوط اور ہمآہنگ انداز سے ان کے مقابلے سے عہدہ برآ ہوئے اور دشمن کے حملے کو ناکام بنایا کیونکہ وہ فوجی مراکز کو ترک نہ کرنے کی حکمت عمل پر عمل پیرا تھے اور دہشت گردوں کو ان مراکز اور مذکورہ محلات میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بعض فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں 800 دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے جن کی اکثریت کا تعلق برطانیہ، بلجئیم، تیونس، مراکش، افغانستان، چیچنیا اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں سے ہے۔  ان ذرائع نے کہا کہ فوجی دستے دیر الزور میں خاص قسم کی حکمت عملی کی بنیاد پر کاروائیاں کررہے ہیں اور چونکہ یہ صوبہ پڑوسی ممالک سے متصل ہے اسی لئے اس علاقے میں دہشت گردوں کے لئے صوبہ الرقہ اور ریف حلب سے ممکنہ سامان رسد کا سد باب کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

با اختلاف نظر آمریکا با عربستان و قطر: شام: دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیانام نہاد "فرینڈز آف سیریا" کے درمیان شام کے حوالے سے شدید اختلافات رونما ہوئے ہیں اور اس اتحاد کو اپنی پسند کے دہشت گردوں کو منظم کرنے میں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں جیش الاسلام نامی سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم کی طرف سے شام کے شمال میں ہونے والی کاروائیوں اور فری سیرین آرمی کے ٹھکانوں اور اس تنظیم کے لئے بھجوائے جانے والے جدید امریکی ہتھیاروں پر اس تنظیم کے قبضے، فری سیرین آرمی کے کمانڈر سلیم ادریس کے قطر بھاگ جانے اور امریکی و مغربی حمایت یافتہ دھڑے کی شدید کمزوری کی بنا پر امریکہ ـ سعودی ـ ترکی ـ قطر اتحاد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ واضح رہے کہ جیش الاسلامی نامی دہشت گرد تنظیم نے ترک سرحد پر باب الہوی کے سرحدی علاقے پر قبضہ کرکے وہاں موجود نام نہاد آزاد شامی فوج کی بساط لپیٹ لی اور اس تنظيم کے لئے امریکہ سے بھجوائے گئے جدید ترین ہتھیاروں پر سعودی حمایت یافتہ جیش الاسلام کا قبضہ ہوا۔ سرحد پر فری سیرین آرمی کے گوداموں میں جدید ترین ہتھیاروں، مواصلات آلات و اوزار، اور جدید ترین گاڑیاں اور ہتھیاروں کو مؤثر بنانے والے آلات اور بعض ہتھیار موجود تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قطر نے بھی جیش الاسلام کی حمایت کی ہے۔ اور یہ موضوع اس وقت امریکہ اور سعودی نیز امریکہ اور قطر کے درمیان اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔

تفصیل کے لئے کلک کریں:

شام: دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا

شام: عدرا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی جاری شامی افواج نے ریف دمشق کے شہر عدرا میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور دہشت گردوں کا صفایا کیا جارہا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد ٹولے جبہۃالنصرہ نے کچھ دن قبل عدرا نامی شہر پر قبضہ کرکے وہاں انسانیت سوز اقدامات کئے جس کے بعد شامی افواج نے اس شہر کا محاصرہ کیا اور اس شہر میں داخل ہوکر دہشت گردوں کے ساتھ دست بدست لڑائی کا آغاز کیا۔ شامی افواج نے معلومات حاصل کرکے دہشت گردوں کے بعض اہم ٹھکانوں نشانہ بناکر مکمل طور پر تباہ کیا اور شہر میں داخل ہوئيں۔ جبہۃالنصرہ اور جیش الاسلام نامی خونخوار دہشت گردوں نے ابھی تک اس شہر میں سو سے زائد مکینوں کے سر تن سے جدا کئے ہیں۔

تفصیل کے لئے کلک کریں:

شام: عدرا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی جاری

شام: عدرا کی کہانی ایک شامی ڈاکٹر کے زبانی ایک شامی ڈاکٹر اپنی بیوی اور بچـی کو لے کر عدرا پر مسلط دہشت گردوں کے چنگل سے بحفاظت نکل کر اپنے آبائی شہر طرطوس پہنچا تو طرطوس کے گورنر نے اس کو ضیافت دی۔ ڈاکٹر نے بالفطرہ مجرم دہشت گردوں کی درندگیوں کی داستان سنائی ہے جو ذیل میں قارئین و صارفین کے پیش خدمت ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ بدھ کے دن سے داعش، جبہۃالنصرہ اور احرار الشام نامی وہابی ـ تکفیری دہشت گردوں نے مزدوروں کے شہر عدرا پر قبضہ کیا اور اس کے سینکڑوں خاندانوں کے خلاف انتہائی ہولناک اقدامات کئے اور درجنوں افراد کے سر قلم کرکے سڑکوں پر پھینک دیئے اور شہر بھر سے کھانے پینے کی اشیاء اور نانبائیوں سے آٹا چوری کرکے اپنے ٹھکانوں کی طرف لے گئے۔ ڈاکٹر مظہر ابراہیم عدرا کے جیولاجیکل سروے ڈپارٹمنٹ میں طب کے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصرف تھے۔ وہ ریف طرطوس کے شہر صافیتا کے نواحی گاؤں عین بشریتی کے رہائشی ہیں۔

تفصیل کے لئے کلک کریں:

شام: عدرا کی کہانی ایک شامی ڈاکٹر کے زبانی

شام: عدرا کی سڑکوں پر شامی باشندوں کے سر قلم کئے گئے/ عینی شاہدوں کا مشاہدہتکفیری ـ وہابی دہشت گردوں نے عدرا شہر پر حملہ کرنے کے بعد درجنوں شامی باشندوں کے سر قلم کردیئے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تکفیری وہابیوں نے سرکاری افواج کا سامنے کرنے سے بے بس ہوکر عدرا العمالیہ نامی شہر کے نواح میں خونریز حملے کرکے درجنوں شامی باشندوں کے سر قلم کئے اور ان کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے سڑکوں پر پھینک دیا اور شہداء کے خاندانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس علاقے سے دہشت گردوں کو نکالے جانے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ 100 شہری وہابی درندگی کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ الحقیقہ نامی نیوز ویب سائٹ نے شہر کی صورت حال شہر سے فرار ہونے والے افراد کے زبانی، بیان کی ہے: انسانیت کے خلاف یہ جرائم سعودی کارندے زہران علوش کی جیش الاسلام، الجبہۃالاسلامیہ، جبہۃالنصرہ اور داعش نے انجام دیئے ہیں حن یے 1000 سے 1500 تک دہشت گرد شہر میں داخل ہوئے اور بےگھر افراد کے بھیس میں سینکڑوں مسلح افراد، جو پہلے سے اس شہر میں آبسے تھے، بھی ان سے جا ملے۔ تکفیری دہشت گردوں نے 11 دسمبر بروز بدھ، صبح کے وقت عدرا اور اس کے اطراف میں خودکار نانبائی، ڈسپنسری اور پولیس تھانے پر حملے کئے اور شہربوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا یا پھر خنجروں اور چھریوں سے ان پر حملہ آور ہوئے۔ ان حملوں میں خاص طور پر سرکاری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا اور مقتولین کے سر تن سے جدا کرکے شہر کے مرکزی چوک کے ستونوں پر لٹکا دیئے۔

مزید تفصیل کے لئے رجوع کریں:

شام: عدرا کی سڑکوں پر شامی باشندوں کے سر قلم کئے گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭