8 نومبر 2013 - 20:30
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات، نتن یاھوسیخ پا

جنیوا شہر آج کل عالمی سطح پرگذشتہ عشروں کے ایک نہایت اہم مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق چھ نومبر سے جنیوا میں مذاکرات کررہے ہيں ۔ ایرانی وفد کی قیادت وزيرخارجہ جوادظریف کررہے ہيں۔اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ مہینے کچہ تجاویز پیش کی تھیں جسے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون اور دوسرے مغربی حکام نے بےمثال اورسابقہ تجاویز سے مختلف قراردیاتھا اورمذاکرات کاایجنڈہ بھی یہی تجاویز ہيں۔ایران کی تجویز کی بنیاد پر ایٹمی مسئلہ تین مرحلوں میں پرامن طریقے سےقابل حل ہوگا۔ایران کی تین مرحلوں پرمشتمل تجویز، " مشترکہ مقاصد" "باہمی اقدام " اوراختتامی مرحلے پرمشتمل ہے۔پہلے قدم میں مشترکہ مقاصد مدنظر ہيں اور ایران یورے نیم کی افزودگی اور گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے اسےتسلیم کئےجانے پرتاکیدکرتا ہے۔ اس بنیاد پر ایران کی تاکید ہے کہ یورے نیم کی افزودگی ایران کے اندر انجام پانےکےحق کوتسلیم اور اس کااحترام کیاجاناچاہئے البتہ یورے نیم کی افزودگی کی مقدار اور فیصد کےبارے میں گفتگو کی جاسکتی ہے۔اس تجویزکےبعد کےمرحلوں ميں ایران کی تاکید اس بات پر ہے کہ ایران کے اقدام کےجواب میں گروپ پانچ جمع ایک بھی اقدام کرے جو خاص طور پر پابندیاں اٹھائےجانے پر مبنی ہو۔جمعرات کےدن ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کی مذاکراتی ٹیم جنیوا پہنچی تاکہ گذشتہ مہینے کی مانند مذاکرات شروع کرے جو نائب وزرائےخارجہ کی سطح پرجاری رہے لیکن پہلے ہی دن یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون اور وزیرخارجہ جواد ظریف کی گفتگوحساس مرحلے میں داخل ہوگئی  اور ایران کےنائب وزيرخارجہ عباس عراقچی کے بقول پہلا دن ختم ہوتے ہوتے فریقین نے مشترکہ اتفاق رائے کی خبردے دی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون کی جانب سےوزیرخارجہ جواد ظریف کواٹلی کا دورہ منسوخ کرکے جنیوا میں موجود رہنے کی اپیل اور امریکی وزیرخارجہ کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دیئے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ مذاکرات توقع سے زیادہ  سنجیدگی سے انجام پار ہے ہيں۔ جمعہ کے دن تین یورپی ممالک کے وزرائےخارجہ بھی جنیوا پہنچ گئے تاکہ دوفریقی اور چندفریقی مذاکرات کےذریعے اعلی سطح تک اتفاق رائے حاصل ہوسکے۔عباس عراقچی کے بقول مذاکرات کامحور ایران کا مجوزہ منصوبہ ہے اور مذاکراتی فریق نے، جنرل منصوبے اور مدنظر اقدامات کوتسلیم کرلیا ہے لیکن منصوبے کےمرحلوں پر بحث وگفتگو جاری ہے یہاں تک کہ جوادظریف، جان کیری اوراشٹون نےگھنٹوں تک مذاکرات کئے اور اس کےبعد اعلان کیاگیا کہ اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے گروپ پانچ جمع ایک کے دوسرے وزرائےخارجہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ (سنیچر) آج بھی جاری رہےگا۔ چند مرحلوں پرمشتمل ایسا اتفاق رائے جس کےبارے میں کوئي دستاویز یا مشترکہ اعلامیہ جاری کئے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔جنیوا مذاکرات کے عمل میں پیشرفت سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کےحل کےلئے مثبت قدم موجود ہے جو ایران کی مذاکراتی ٹیم کی سفارتی خلاقیت کی بنیاد پر اٹھایا گیاہے۔وہ اجلاس جو مذاکرات کے ایک مرحلے کے عنوان سے منعقد ہونے والا تھا ایران کی منظم  اور مسلسل سفارتی کوششوں اور استقامت کے نتیجے میں اس وقت ایٹمی مذاکرات کی چندسالہ تاریخ میں سنگ میل میں تبدیل ہوگیا ہے۔مذاکرات کا ایسا حساس اور پیچیدہ مرحلہ جو تمام فریقوں کے بقول دشوار تھا، لیکن اب قابل قبول نتیجے اورمشترکہ مفاہمت تک تک پہنچنے والا ہے۔یہ کوششيں ایسے عالم میں جاری ہیں کہ صیہونی حکومت سمیت مذاکرات کے تمام مخالفین  اپنی تمام سفارتی اورصحافتی توانائیوں کےساتھ میدان میں اتر آئے ہيں  تاکہ مذاکرات کےعمل میں رخنہ ڈال کر ہرطرح کےاتفاق رائے کوروک دیں۔مذاکرات میں پیشرفت سے صہیونی ریاست اس حد تک سیخ پا ہے کہ صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مفاہمت سے نتن یاھو کوزبردست شاک پہنچا ہے۔صہیونی وزیراعظم نتن یاھو جنھوں نے مذاکرات کومعطل کرنے کےلئے ہرممکن کوشش کی اورامریکہ اور روس سمیت تمام فریقوں سےرابطے کئے، آخرکار تھک ہار کرایران کی سفارتی توانائیوں کااعتراف کیااور یہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ ایران نے جنیوا ميں گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات سے کچہ کھوئےبغیر سب کچہ حاصل کرلیا۔جنیوا اجلاس اپنی تمام پیچیدگیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے جیت کا میدان ہے۔مذاکراتی فریقوں کے بقول تہران نے جامع منصوبہ پیش کیا اور جیت – جیت کےکھیل میں تعاون پرآمادگی ظاہرکی ہے اب مغربی فریق کی باری ہے کہ وہ عملی اقدام سے اپنی سنجیدگی ثابت کرے۔

.......

/169