7 اکتوبر 2013 - 20:30
سعودی دارالحکومت ریاض میں مظاہرے اور کروڑوں عوام کی ناراضگی

دنیا بھر میں امریکی و صہیونی مفادات کے لئے اربوں ڈالر خرچ کرنے والی سعودی حکومت کو شدید عوامی ناراضگی کا سامنا ہے، ریاض میں مظاہرے ہوئے ہیں اور ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک کروڑ ستر لاکھ باشندے تنخواہوں کی قلت کی وجہ سے حکومت سے ناراض ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے دارالحکومت ریاض میں حکومت مخالف مظاہرے میں عوام نے شیخ سلیمان ناصر العلوان پر مقدمہ چلائے جانے کے حوالے سے شدید احتجاج کیا۔مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ "سیکورٹی عدالت غیر قانونی ہے"۔ مظاہرین سعودی وزارت داخلہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ آل سعود کی جیلوں میں بند اسیر عوام کے نزدیک سرخ لکیر ہیں اور انہیں فوری طور پر اور غیر مشروط طور پر رہا کرنا چاہئے۔ شیخ سلیمان ناصر العلوان پر الزام ہے کہ انھوں نے سعودی قاضیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ حاکم کی اطاعت کو خدا کی اطاعت پر ترجیح دیتے ہیں اور سعودی مفتی اور قاضی سب درباری مولوی ہیں اور سعودی اذیتکدوں میں اسیر بعض قیدیوں سے ملے ہیں چنانچہ سکیورٹی عدالت نے انہیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے جس پر عوام معترض ہیں۔ شیخ سلیمان ناصر العلوان نے اپنے خلاف تشکیل یافتہ عدالت کی قانونی اور شرعی حیثیت کو چیلنج کیا ہے کہ یہ عدالت ایک کھیل ہے جس میں کھلاڑیوں کے بجائے جج کھیل رہے ہیں اور اس عدالت کی کوئی حیثیت نہيں ہے اور سب کچھ ایک نمائش ہے۔ ادھر ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ ستر لاکھ سعودیوں کو کم تنخواہوں اور کم اجرتوں پر اعتراض ہے۔ سعودی نوجوانوں نے ٹویٹر پر کم اجرتوں اور تنخواہوں پر احتجاج کے لئے عوام کو کال دی تھی جس کے جواب میں ایک کروڑ ستر لاکھ اور چھ لاکھ سعودی اس کمپین میں شریک ہوئے ہیں۔ اس کمپین میں سعود بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مزدوروں اور سرکاری و غیر سرکاری ملازموں کی تنخواہ میں اضافہ کریں۔ راصد نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کی کل آبادی تقریبا تین کروڑ ہے اور اس ملک کی ایک تہائی غیر ملکی تارکین وطن پر مشتمل ہے چنانچہ اس ملک کی اصل آبادی دو کروڑ کے قریب ہے اور حالیہ ہفتوں میں سترہ ملین اور چھ لاکھ افراد یعنی اٹھاسی فیصد آبادی نے اس کمپین میں شرکت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی تنخواہیں اور اجرتیں کافی نہيں ہیں اور ان کی ضروریات زندگی کو پورا نہیں کرتیں۔ سعودی عرب کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 5/11 فیصد ہے گوکہ خواتین کو اعداد و شمار میں جگہ نہیں دی گئی ہے جن کی مطلق اکثریت بےروزگار ہے۔  عالمی بینک نے حال ہی میں سعودی وزارت معاشیات و منصوبہ بندی کے تعاون سے ایک سروے رپورٹ تیار کی تھی جس کے مطابق اس ملک کے نجی شعبے میں کارکنوں کی تنخواہیں خلیج فارس تعاون کونسل کی دوسری عرب ریاستوں سے کم ہیں اور یہاں نجی شعبے کا ایک ملازم کی اوسط ماہانہ 6400 سعودی ریال (تقریبا 1700 ڈالر) ہے جبکہ تعاون کونسل کی دوسری ریاستوں میں ان شعبوں میں ہر ملازم کی اوسط تنخواہ 15200 سعودی ریال ہے۔ یہاں خواتین کی اوسط تنخواہ 3900 سعودی ریال ہے جبکہ خلیج فارس کی دیگر ساحلی ریاستوں میں خواتین کی اوسط تنخواہ 8700 سعودی ریال بنتی ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے مطالعات کے مطابق سعودی عرب میں سرکاری شعبے کے ملازم کی اوسط تنخواہ 3945 ریال ہے۔  تنخواہوں میں کمی کے ساتھ ساتھ کئی سالوں سے جاری افراط زر اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے سعودی معاشرے کے درمیانی طبقے کے شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے اور اس ملک میں غرباء کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ادھر ایک سعودی سرکاری اہلکار نے اپنا کام کاج چھوڑ کر سعودی حکومت کی درخواست پر شام کا سفر اختیار کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ وہ شام میں نظام خلافت کے لئے گیا ہے۔ واضح ہے کہ سعودی عرب قطر کے ساتھ مل کر اسرائیل اور امریکہ کے مفاد میں شام کی حکومت کے خلاف اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں اور آل سعود کی حکومت اپنے عوام کا پیٹ پھاڑ کر یہ اخراجات برداشت کررہی ہے جبکہ قطری آل ثانی حکومت غیر ملکی مزدوروں اور ملازمین سے غلاموں جیسا سلوک کرکے اور اس کے حقوق غصب کرکے امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔  ایشیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرک انجنئیر مطلق بن مقطوف القوادی البقمی جو سعودی عرب کے علاقے "التربہ" میں بجلی کے ادارے کا چیف انجنئر ہے ترکی کے راستے شام پہنچا ہے اور اس نے دعوی کیا ہے کہ وہ شام میں اسلامی خلافت کے قیام کے لئے شامی افواج کے خلاف لڑنے اس ملک میں پہنچا ہے۔ ادھر کم سن ترین سعودی دہشت گرد بھی شام پہنچا ہے جس کی عمر سولہ سال بتائی گئی ہے۔ اس لڑکے کا نام عبداللہ الشمری ہے اور شام جانے سے چند روز قبل اس نے ابوالمعتز الجزری" کا لقب اختیار کیا ہے۔ قبل ازیں شام میں کم سن ترین سعودی دہشت گرد "معاذ الہاملی" کی عمر سترہ سال تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭