7 مئی 2013 - 19:30
جامعۃ الازہر نے حجر ابن عدی کی نبش قبر کرنے کو اسلام اور اسلامی مقدسات کی انتہائی توہین قرار دیا

قاہرہ/ حجر ابن عدی کی نبش قبر کے سلسلہ میں الاظہر کے علماء کا رد عمل دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سب اس کاروائی کو غیر اسلامی کام کہتے ہیں اور اسے انجام دینے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں ۔

ابنا: جہاں امیر المومنین علی علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی رسول اللہ(ص) حجرابن عدی کی نبش قبرکے واقعہ پر اعلیٰ عہدہ دار افراد خاموش دکھائی دیتے  ہیں وہیں اس عظیم اسلامی یونیورسٹی کے علماء نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔

عبد الشافی: شام کے مسائل کے حل کے لئے شام کے علماء آپس میں ایک میٹنگ کریں گے۔

الازہر یونیورسٹی کے اسلامی اور عربی علوم کالج کے سابقہ پرنسیپل ڈاکٹر ابراہیم عبد الشافی نے اسلام کے نام پر ہونے والی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا :اس جلیل القدر صحابی کی قبر پر ہونے والا حملہ اسلام پر حملہ ہے اور اس کا مقصد عراق کی طرح شام میں فرقہ وارنہ اختلاف پھیلانا ہے کہ جس کا فائدہ امریکہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا : فرقہ واریت کو ہوا دینا صہیونیوں کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، صحابی کی ضریح کی زیارت کے بارے میں شیعہ سنی علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ جہاں کچھ انتہا پسند آئے اور اسے شرک کہنے لگے لیکن یہاں مسئلہ کو بیان کرنے اور سمجھنے میں غور وفکر کی ضرورت ہے ۔

مصر کے بہت سارے لوگ اہلبیت علیہم السلام اور صالح افراد کی ضریحوں کی زیارت کرتے ہیں جو ان کی ان ہستیوں سے محبت اور عشق کی علامت ہے نہ کہ عبادت ہے، قاہرہ میں مسجد امام حسین علیہ السلام یا جناب زینب سلام اللہ علیہا کی زیارت  کرناحج، نماز اور روزہ سےمنع نہیں کرتا ہے۔

آخر میں انہوں نے الاظہر کے تعاون سے صاحبان حل و عقد اور شام کے علماء کے درمیان ایک نشست کا مطالبہ کیا  تاکہ آپس میں مل کر شام میں ہونے والے فتنہ اور قتل عام کو روکاجا سکے ۔

عبد الغفار ہلال: ان تنظیموں کو صہیونیوں کی طرف سے مالی امداد ملتی ہے۔

الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفار ہلال نے بھی دہشت گردوں کی اس کاروائی کو ایک ظالمانہ جرم قرار دیتے ہوئے کہا :یہ کاروائی ہر طرح سے مسترد کی جاتی ہے اس لئے کہ یہ تاریخ اسلام کے بزرگوں کی توہین ہے اور جو لوگ بھی اس جرم کے مرتکب ہو ئے ہیں وہ دین اور قوم سے خارج ہیں ۔

...../169