22 فروری 2013 - 20:30

علاقے میں دہشتگردی کی نئی شکل وصورت جنم لے رہی ہے کہ جوشام عراق اور پاکستان جیسے ممالک میں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے۔

ابنا: آج کل پاکستان میں تسلسل کے ساتھ شیعوں کا قتل کیا جا رہا ہے اور اس وحشیانہ اقدام کا اہم ترین واقعہ کوئٹہ میں رونما ہوا ہے کہ جسے پاکستان میں موجود شدت پسند گروپوں نے انجام دیا ہے اور ان حالیہ چنددنوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کوئٹہ میں شیعوں کے خلاف ہونے والے دہشتگردی کے اقدامات باعث بنے ہیں کہ بعض مراجع تقلید بیداری اسلامی ورلڈ اسمبلی اورعلی اکبرولایتی سمیت ہمارے ملک کی بعض سیاسی شخصیات نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔پاکستان میں شیعوں کے قتل عام کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ لشکرجھنگوی اور سپاہ صحابہ کی کاروائیوں کی وجہ سے خطے میں انحرافی اسلام کو پروان چڑھایا جا رہا ہے لہذا ہمیں اس مطلب پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اقدامات آخر کار ہمارے ملک کی مشرقی سرحدوں میں تفرقہ ایجاد کا باعث بن سکتے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کےفروغ کا مقصد ایک طرف اسلامی معاشروں کے چہرے کو مسخ کرنے اور دوسری جانب خطے میں یورپی ممالک کی کار کردگی کو بڑھا چڑھا کرپیش کرنا ہے۔ لیکن جو حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے ضمن میں ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان میں آل سعود کی سربراہی میں وہابیت سرگر میں انجام دے رہی ہے۔ان حالیہ سالوں کے دوران پاکستان اور افغانستان میں مذہبی شدت پسندی کی مادی اور معنوی حمایت میں سعودی عرب اورقطرکے کردار کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ شدت پسند اسلام کی اس شکل وصورت کا مقصد فقط خطے میں یورپی ممالک کے مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔پاکستان میں شیعوں کے قتل عام سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے میں دہشتگردی کی نئی شکل وصورت ظہور پذیر ہورہی ہے کہ جو پاکستان شام اور عراق جیسے ممالک میں مذہبی تفرقہ ایجاد کرنے کے درپے ہے۔ بنابرایں اس قتل عام کی حقیقت سیاسی ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے مابین تفرقہ ایجادکرنا ہے یعنی وہی سیاست کہ جس کی یورپ حمایت کرتا ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے پیچھے جوخفیہ ہاتھ کارفرما ہیں اس کا ایک نمونہ میانماراورپاکستان میں قابل مشاہدہ ہے کہ جن سے خطے کے مسلمانوں کو غافل نہیں ہونا چاہیے۔ خطے کی واقعیت اور موجود دستاویزات اوردہشتگرداورشدت پسند گروپوں کی مالی امداد کہ جومخفیانہ دی جارہی ہے وہ اس مطلب سےیہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان خود ایک دوسرے کوقتل کررہے ہیں۔

.......

/169