4 اکتوبر 2012 - 20:30

اسٹراٹجک اسٹڈیز و بین الاقوامی تعلقات مرکز کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخطوں کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ بغداد درحقیقت تزویری روابط کے لئے دو ملکوں کے باوقار سیاسی عزم کی علامت ہے/ عراق کی طرف سے ماسکو کے ساتھ فوجی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا عزم سامنے آنے کے بعد ماسکو ـ تہران ـ دمشق کا اتحادی مثلث (سہ فریقی اتحاد)، مربع (چار فریقی اتحاد) میں تبدیل ہوجائے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تزویری مطالعات و بین الاقوامی تعلقات مرکز کے سربراہ سیدامیرالموسوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کے دورہ عراق کو اہم قرار دیا اور کہا: یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے کہ علاقے کی سیاسی صورت حال بہت زیادہ حساس ہے اور امریکہ نے ایران پر متعدد الزامات لگائے ہیں لیکن اس دورے نے ثابت کیا کہ امریکی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے۔انھوں نے کہا: یہ دعوی بھی بے بنیاد ہے کہ ایرانی وزیر دفاع کا دورہ عراق امریکی الزامات اور علاقے کی موجودہ صورت حال کا رد عمل ہے اور کہا: اس دورے کا منصوبہ برسوں پرانا اور عراقی وزیر دفاع سعدون الدلیمی کے دورہ ایران کا جواب ہے جو سات سال قبل انجام پایا تھا اور عراق میں قابض افواج کی موجودگی اور امریکیوں کی رکاوٹیں، اس دورے میں تاخیر کا سبب تھیں۔الموسوی نے کہا: اس دورے سے ایران اور عراق کے تعلقات "صدام کے زمانے میں دوطرفہ جنگ" کی حالت سے "مشترکہ دفاع اور سیاسی و سلامتی کے شعبوں میں تعاون کی حالت" میں بدل گئے ہیں۔انھوں نے کہا: چونکہ ایران اور عراق کے درمیان اسٹراٹجک تعلقات برقرار ہیں اسی وجہ سے ایران کے وزیر دفاع کا دورہ عراق کا واحد مقصد یہ ہوگا کہ دونوں ملک مشترکہ دفاع کے لئے مفاہمت ناموں پر دستخط کرنے کو ممکن بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تزویری تعاون کے راستے میں دو اہم رکاوٹیں تھیں جن میں سے ایک رکاوٹ عراق کی حاکمیت میں امریکی مداخلت اور کسی بھی فیصلہ سازی میں عراقی حکومت کا عدم استقلال و عدم خودمختاری سے عبارت تھی تھی اور تکفیریوں کی ریشہ دوانیاں اور دہشت گردی کا فروغ دوسری اہم رکاوٹ تھا تاہم عراق نے یہ دونوں رکاوٹیں اپنے راستے سے ہٹا دیں اور عراقی قوم و مسلح افواج نے اپنے ملک کو ان رکاوٹوں سے چھڑا لیا؛ اور آج اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان اسٹراٹجک تعلقات کے قیام کے لئے ضروری سیاسی عزم فریقین کے ہاں موجود ہے۔  انھوں نے کہا: تہران اور بغداد میں براہ راست فوجی تعاون کا راستہ دو ملکوں کے وزرائے دفاع کی ملاقات میں طے ہموار ہوچکا تھا اور وزیر دفاع نے عراقی صدر جلال طالبانی کے ساتھ اپنی ملاقات میں ایک اہم دفاعی منصوبہ پیش کیا اور یہ منصوبہ بہت جلد نافذالعمل ہوگا۔ انھوں نے کہا: عراق اور بعض ديگر علاقائی قوتوں کے تعاون سے خلیج فارس میں سلامتی اور امن کے تحفظ کا مشترکہ منصوبہ، خلیج فارس کو اجنبی افواج کی مداخلت سے بے نیاز کرے گا اور یہ موضوع دورہ عراق کے دوران وزیر دفاع کے ایجنڈے کے اہم موضوعات میں سے تھا۔ امیرالموسوی نے شام کے بحران، اس بحران کو پرامن طور پر حل کرنے کے لئے ہونے والی کوششوں کی حمایت، شام کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے، عراق کو شام کے بحران میں الجھنے سے بچانے اور ایران و مزاحمت محاذ کے دوسرے رکن ملکوں کے امن و امان کو بحال رکھنے کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: ان اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے ایران اور عراق کے درمیان اعلی ترین سطحوں پر فوجی ہمآہنگی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں بھی بغداد میں مفاہمت ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا: ایرانی وزیر دفاع کے مذاکرات کا ایک اہم موضوع مشترکہ سرحدوں پر امن و امان کی صورت حال، سے متعلق تھا اور عراقی وزیر دفاع نے ایران کے ساتھ اپنی طویل سرحد کو پرامن ترین عراقی سرحد قرار دیا اور کہا کہ "ایران فوجی مصنوعات میں طول تجربہ رکھتا ہے جبکہ عراق پر بیرونی قبضہ ہونے کے بعد اس ملک کی فوجی صنعت تباہ ہوگئی ہے چنانچہ عراق اس ملک کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے جو اس سلسلے میں عراق کی مدد کرنا چاہے۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی ماسکو کے دورے پر عراق کی طرف سے ماسکو کے ساتھ فوجی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا عزم سامنے آنے کے بعد ماسکو ـ تہران ـ دمشق کا اتحادی مثلث (سہ فریقی اتحاد)، مربع (چار فریقی اتحاد) میں تبدیل ہوجائے گا۔ اطلاعات کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے گذشتہ سوموار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے دورہ ماسکو کا مقصد بغداد ـ ماسکو تعلقات کا احیاء اور معاشی و تجارتی شعبوں میں تعاون کا فروغ نیز بغداد اور ماسکو کے درمیان فوجی تعاون کا فروغ اور عراقی افواج کی تشکیل نو کے لئے ضروری ساز و سامان کی خریداری ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار "الحیات" نے اس سلسلے میں ایک مفصل رپورٹ شائع کرکے بغداد اور ماسکو کے درمیان دیرینہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ عراق نئی مارکیٹوں اور نئے بین الاقوامی حلیفوں کی تلاش میں ہے اور یہ مسئلہ سبب ہوگا کہ ماسکو عراق کو بھی اپنے اتحاد میں شامل کرکے اپنے سہ فریقی اتحاد (ماسکو ـ تہران ـ دمشق) کو چار فریقی اتحاد (ماسکو ـ تہران ـ دمشق ـ بغداد) میں تبدیل کردے۔ امریکی اور عراقی ذرائع کا خیال ہے کہ ایران نے عراق اور روس کے درمیان اسٹراٹجک تعاون کے لئے راستہ ہموار کیا ہے گوکہ اس سلسلے میں موجودہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ترین طیارہ شکن سسٹمز اور جدیدترین روسی جنگی طیاروں کی خریداری کے حوالے سے بغداد کا اشتیاق بھی نظر انداز نہيں کیا جاسکتا۔ عراقی وزیر دفاع سعدون الدلیمی نے گذشتہ جولائی کے مہینے میں عراقی فوجی حکام کے ایک بڑے وفد کے ہمراہ ماسکو کا دورہ کیا اور روس کے ساتھ فضائی دفاعی نظام، ٹینکوں، پیدل افواج کے لئے سازوسامان، لڑاکا اور بمبار طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹرز کی خریدار کے حوالے سے ایک ارب ڈالر کے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کردیئے۔ عراقی وفد نے کہا کہ عراق تازہ ترین قیمتوں پر ہتھیار خریدنے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے بدلے روس کو مفاہمت نامے میں مندرج ہتھیار فوری طور پر عراق کے حوالے کرنے پڑیں گے۔عراقی وفد نے شام اور کردستان کی صورت حال کو اپنے اس مطالبے کا سبب قرار دیا۔ 2006 میں عراق سے بھاگ امریکہ میں پناہ لینے والے ایک مبصر نے کہا ہے عراق نے ایران کے دباؤ کے تحت ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی خریداری کے لئے روس سے رجوع کیا ہے۔امریکہ کی شہریت حاصل کرنے والے اس مفرور عراقی نے دعوی کیا کہ ایران "تہران ـ بغداد ـ دمشق" الائنس کے ذریعے علاقے میں روس کو تقویت پہنچانا چاہتا ہے۔

دریں اثناء روسی اخبار "پراودا: روس عراق کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کرے گاروس عراقی وزیر اعظم کے دورہ ماسکو کے دوران اس ملک کو ہتھیار فروخت کرنے والے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہوجائے گا ۔پراودا نے لکھا کہ روس عراق کو 5 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کرے گا جن میں مگ لڑاکا طیارے، جنگی ہیلی کاپٹرز، طیارہ شکن میزائل سسٹمز، بکتر بند گاڑیاں اور دوسرے ہتھیار شامل ہیں۔ اس روسی اخبار کے مطابق روس نے 2008 سے 2011 تک کے تین برسوں میں 24 کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کے ہتھیار نئی عراقی حکومت کو فروخت کئے ہیں جن میں زیادہ تعداد ہیلی کاپٹرز کی تھی۔ جبکہ اسی دوران چھ ارب پچاس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کا امریکی فوجی سازوسامان بھی عراق کو فروخت کیا گیا۔

یہ دورہ اگست 2012 میں موصول ہونے والی روس کی سرکاری دعوت پر انجام پارہا ہے اور اس میں وزیر اعظم کے ساتھ عراقی کابینہ کے پانچ وزراء بھی ہونگے۔ یہ نوری المالکی کا بطور عراقی وزیر اعظم ماسکو کا پہلا دورہ ہوگا۔ نوری المالکی نے اس دورے کے حوالے سے رشیا ٹوڈے ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد عراقی افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا اور پہاڑی علاقوں میں بہتر کردار ادا کرنے والے جنگی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی خریداری ہے۔ اور اس دورے میں وہ روسی حکومت کے ساتھ ہتھیاروں کے پانچ ارب ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کریں گے۔ اس معاہدے کا ابتدائی مرحلہ گذشتہ سال عراقی وزیر دفاع کے دورہ ماسکو میں طے پایا تھا۔ دریں اثناء بعض ذرائع نے کہا کہ روس نے عراقی وزیر اعظم کے دورہ ماسکو کے موقع پر ہی عراقی کردستان کے گورنر مسعود بارزانی کو بھی روس آنے کی دعوت دی ہے۔ واضخ رہے کہ مسعود بارزانی حال ہی میں ترکی کے فتنہ پرور وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کی تحریک پر مرکزی حکومت کے خلاف بعض خودسرانہ اقدامات کرنے کے ملزم ٹہرے ہیں جن میں ترکی کے ساتھ مستقل طور پر تعلقات اور عراقی کے پھانسی یافتہ سابق نائب صدر طارق الہاشمی کو فرار کروانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ بارزانی ماسکو میں وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات بھی کرسکتے ہیں۔ ادھر کردستان کے بعض حکام نے اس بات سے تشویش ظاہر کی ہے کہ عراقی وزیر ا‏عظم ماسکو کے دورے میں کسی بھی کرد وزیر کو اپنے وفد میں شامل نہیں کررہے ہیں!........./110