اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلادالحرمین کے مشرقی علاقے "منطقۃالشرقیہ" کے شہر القطیف میں آیت اللہ شیخ نمر آل نمر پر آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور زخمی حالت میں ان کے اغوا کے بعد یہ علاقہ تناؤ اور بحران سے دوچار ہوگیا ہے اور شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ بلاد الحرمین کے سیاسی تجزیہ نگار کے "محمد ابراہیم" نے العالم کو بتایا کہ آیت اللہ نَمِر کے اغوا کی وجہ سے منطقۃالشرقیہ کی صورت حال تناؤ کا شکار ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود اور وہابی مولوی مل کر منطقۃالشرقیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں اور آیت اللہ نَمِر پر قاتلانہ حملے اور ان کے اغوا کے سے ایک روز قبل وہابیوں نے الشرقیہ کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آیت اللہ نَمِرکے اغوا کے بعد علاقے کے عوام نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ہیں اور آل سعود کے گماشتوں نے نہتے اور پر امن مظاہرین پر گولی چلا کر تین افراد کو شہید کیا ہے۔ القطیف میں تین افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ العوامیہ میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ شیخ آل نمر کی کار پر فائرنگ کی گئی جس میں وہ زخمی ہوئے اور زخمی حالت میں گرفتار اور اغوا کئے گئے لیکن آل سعود کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے دعوی کیا کہ "شیخ نمر نے سعودی فورسز کے سامنے مزاحمت کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ان پر گولی چلائی گئی اور انہیں زخمی کرکے علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا" لیکن سعودی اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ ایک نہتے عالم دین کی یہ مزاحمت ان پر گولی چلانے کا جواز کیونکر بنی؟ادھر آل سعود کے مخالف سیاستدانوں نے الزام لگایا کہ آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں نے آیت اللہ نمر کو زخمی کرکے اغوا کیا ہے اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ بلاد الحرمین کے سیاستدانوں نے آیت اللہ نمر پر قاتلانہ حملے اور انہیں اغوا کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل سعود کے خلاف وسیع عوامی احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔

ــ شیعیان بلادالحرمین نے عام سوگ کا اعلان کیاآیت اللہ نمر آل نمر کے اغوا اور منطقۃالشرقیہ میں تین افراد کی شہادت کے بعد شیعیان بلادالحرمین نے ایک روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے آٹھ جولائی کی رات کو ہونے والے پرامن احتجاجی ریلی پر بلا اشتعال، گولی چلائی جس کے نتیجے میں تین افراد شہید ہوگئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے جن کی تعداد کے بارے میں تا دم تحریر کوئی اطلاع واصل نہیں ہوئی ہے۔ سعودی فورسز نے آٹھ جولائی 2012 کی شام کو ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیتے ہوئے نامور شیعہ عالم دین آیت اللہ نمر آل نمر کو زخمی کرکے خفیہ مقام پر منتقل کیا ہے۔ ــ شیعہ عالم دین کو اغوا سے قبل گولی مار کر زخمی کیا گیاشیعہ عالم دین، اصلاحی تحریک کے راہنما اور العوامیہ کی مسجد کے امام آیت اللہ نمر آل نمر 8 جولائی کی شام کو آل سعود کے گماشتوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے جس کے بعد انہيں اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کئے گئے۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے آیت اللہ نمر کو آٹھ جولائی کی سہ پہر تین بجے گولی مار کر زخمی کیا اور پھر گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ علاقے کے عوام نے بھی ذرائع کو بتایا کہ انھوں نے آیت اللہ نمر کی گرفتاری سے قبل شدید فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔ العالم نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ آل سعود کے گماشتے آیت اللہ نمر کی گاڑی کا تعاقب کررہے تھے اور اسی حال میں انھوں نے ان کی گاڑي پر فائرنگ کی جس کے بعد شیخ نمر کی گاڑی دیوار سے ٹکرا گئی جس کے بعد سعودی گماشتوں نے انہیں گرفتار اور اغوا کیا۔ شیعہ عالم دین کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ آیت اللہ نمر سعودی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں یا گاڑی کے حادثے کے نتیجے میں!۔

شیعہ عالم دین کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ آیت اللہ نمر سعودی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں یا گاڑی کے حادثے کے نتیجے میں!۔ــ منظر عام پر آنے والی تصویریں: آیت اللہ شیخ نمر کی گاڑی کو کئی گولیاں لگی ہیںآیت اللہ نمر آل نمر آل سعود کے شدید مخالفین میں سے ہیں اور آل سعود کی پولیس اسٹیٹ اور اہل تشیع کے خلاف امتیازی رویوں پر برملا تنقید کرتے آئے ہیں۔ حال ہی میں ان کی گرفتاری کے بارے میں افواہیں اڑائی گئی تھیں اور لگتا تھا کہ گویا حکومت ان پر حملہ کرنے کے لئے ماحول بنا رہی ہے چنانچہ انھوں نے اپنی گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آل سعود کی دھمکیاں بھی اور ان کے ہتھیار بھی، ناکارہ ہوچکے ہیں اسی وجہ سے ان کی حکومت نے پرانے حربے "یعنی تشہیری مہم" اور "پراپیگنڈوں" کا سہارا لینا شروع کیا ہے اور میری گرفتاری جیسی افواہوں کو آل سعود کی خفیہ ایجنسیاں پھیلاتی ہیں۔دستیاب تصاویر:






ــ سعودی حکومت علاقے میں عوام کش اقدامات کی علامتبلادالحرمین کے ایک تجزیہ نگار نے بلادالحرمین میں عوامی تحریکوں کو ظالمانہ انداز میں کچلے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کہ آل سعود کی حکومت جمہوریت اور انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتی اور مصر، تیونس، یمن اور بحرین میں عوامی تحریکوں کو جبر و تشدد بنانے اور انقلابات کا مقابلے کرنے میں آل سعود کو علامتی حیثیت حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق حمزہ الحسن نے پیر کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے منطقۃالشرقیہ میں عوامی تحریک کے جاری و ساری رہنے پر زور دیا اور کہا کہ بلاد الحرمین کے عوام آل سعود کی رو بہ زوال حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ آل سعود نے 35 سال قبل پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور آج نہ صرف اپنے عوام کو کچل رہی ہے بلکہ شام، عراق، بحرین اور دوسرے ممالک میں مداخلت کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے خلا عوامی انقلاب 2 سال قبل منطقۃالشرقیہ سے شروع ہوا ہے جو ابھی تک نہ روکا جاسکا ہے اور بعید از قیاس ہے کہ آل سعود اس انقلاب اور اس عوامی تحریک پر قابو پاسکے۔ انھوں نے کہا: ال سعود کے پاس عوام کو مراعات دینے اور سیاسی اصلاحات انجام دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے اور آل سعود کی موجودہ پالیسیاں عوام اور حکمرانوں کے درمیان موجودہ خلیج کو ہر روز وسیع سے وسیع تر کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود نے شیخ نمر پر قاتلانہ حملہ کیا اور انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا جس کے بعد ملک پر تناؤ کی کیفیت طاری ہوچکی ہے اور آل سعود کے یہ اقدامات عوامی عزم کو تقویت پہنچانے اور حکومت کے مقابلے میں ان کی مزاحمت کو مضبوط بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔ الحسن نے کہا: ال سعود کو متعدد مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے جیسے بادشاہ کی جانشینی پر اندرون خاندان چپقلش، معاشی بحران، شدید غرب اور اصلاحی تحریکیں؛ چنانچہ یہ بات محض ایک نعرہ نہیں ہے کہ آل سعود کی حکومت روبہ زوال ہے۔ ــ لبنانی عالم دین کی طرف سے آیت اللہ نمر کی مذمتلبنان کے جنوبی شہر صیدا کے امام جمعہ "شیخ عفیف النابلسی" نے بلادالحرمین کے شیعہ عالم دین آیت اللہ نمر باقر آل نمر کی آل سعود کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس ملک میں سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لبنان کے جنوبی شہر صیدا کے شیعہ عالم دین و امام جمعہ "شیخ عفیف النابلسی" نے سوموار کے روز بلاد الحرمین کے نامور عالم دین و مفکر شیخ حسن الصفار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ملک حجاز مسلمانان عالم کے لئے بہت اہم ہے، اس ملک کی زیارتگاہیں عظیم اسلامی تمدن کا سرچشمہ ہیں لہذا اس ملک کو تمدن اور مسامحت و تحمل کی فراخی کا مرجع ہونا چاہئے تا کہ اصل اسلام کے جلؤوں کو اجاگر کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا: سعودی پالیسیاں دنیا میں مسلمانوں کا چہرہ بگاڑ رہی ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہیں چنانچہ اس وقت اس ملک میں اصلاحات کے نفاذ کی ماضی سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور اس ملک کے حکام کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کا اہتمام کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کو اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافات کو ہوادینے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اصل اسلام ایسے اقدامات کو قابل قبول نہیں سمجھتا اور ان کے ذریعے اسلام اور امت اسلامی کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے آل سعود کے ہاتھوں آیت اللہ شیخ نمر باقر آل نمر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات موجودہ صورت حال کو خطرناک حد تک گھمبیر کردیں گے۔ اور ضرورت اس امر کی ہے کہ منطق، عقلیت اور حکمت کے ساتھ موجودہ صورت حال کا سد باب کیا جائے۔ النابلسی نے کہا: آل سعود کی طرف سے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا بہت ناپسندیدہ عمل ہے چنانچہ اس ظم و ستم اور ان امتیازی رویوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہئے اور ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس سرزمین سیاسی حل ـ جو کہ فتنوں اور بلؤوں کے خاتمے سبب ہے ـ کو ترجیح دی جائے۔ انھوں نے علاقے کی موجودہ صورت حال کو دھماکہ خیز قرار دیا اور کہا: اس وقت مغرب و مشرق کی طاقتیں علاقے میں اپنے مفادات کے حصول کے درپے ہیں اور ہر