5 جولائی 2012 - 19:30

عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے اپنے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کے بارے میں ایک بار پھر انتباہ دیا ہے۔

ابنا: عراقی وزیر اعظم نے ایسی حالت میں یہ انتباہ دیا ہے کہ جب حالیہ دنوں میں اس ملک میں دہشتگردی اور بدامنی کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ نوری مالکی نے ان واقعات میں خطے کے بعض عرب ممالک کو ملوث قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہےکہ بعض عرب حکومتیں عراق میں قبائلی اختلافات کو ہوا دینے کے درپے ہیں۔ اگرچہ عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے کسی بھی عرب ملک کا نام نہیں لیا ہے لیکن قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ نوری مالکی کا اشارہ سعودی عرب کی طرف تھا۔

سعودی عرب خطے کے ان ممالک میں سے ہے جنھوں نے عراق میں عہدوں کی تقسیم پر اپنی ناراضگي کوکبھی چھپایا نہیں ہے۔ دہشتگرد گروہوں سے رابطہ حتی ان گروہوں کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد عراق میں تشدد کو ہوا دینے اور اس ملک کو خانہ جنگی اور فرقہ واریت کی جانب دھکیلنے کے سلسلے میں سعودی حلقوں کے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔

جب سے عراق میں نائب صدر طارق الہاشمی پر مقدمہ چلائے جانے کی بات کی گئي ہے تب سے سعودی عرب اور قطر نے طارق الہاشمی کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ طارق الہاشمی کے خلاف مقدمے سے متعلق بغداد حکومت کی پالیسی کے خلاف موقف اختیار کر رکھا ہے۔

اب جب کہ شام کا بحران علاقائي اور عالمی سطح پر زیر بحث ہے عراق کی جانب سے یورپ اور عرب اتحاد کا ساتھ نہ دیے جانے کی وجہ سے ریاض نے بغداد کے ساتھ دشمنی کا علم بلند کر رکھا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ ریاض بغداد حکومت پر ضرب لگانےکے لۓ کوئي موقع ہاتھ جانے نہیں دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے عراق میں بدامنی کے مسائل پیدا کر کے نوری مالکی کی حکومت کی کارکردگي کے آگے سوالیہ نشان لگانا چاہتا ہے۔ اس لۓ اس میں شک نہیں کہ عراق میں ہونے والے بدامنی کے حالیہ واقعات ان پالیسیوں کا حصہ ہیں جن کی ڈکٹیشن دوسرے ممالک خصوصا سعودی عرب جیسے عراق کے ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کو دی جاتی ہے۔

القاعدہ عراق میں سرگرم ایک دہشتگرد گروہ ہے جس کے سعودی عرب کے حلقوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انہی حلقوں کی جانب سے اس کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد کی جاتی ہے۔ سعودی عرب کی سرزمین سے دہشتگردوں کا عراق بھیجا جانا بھی عراق کی داخلی صورتحال کو بحران سے دوچار کرنے کےسلسلے میں سعودی عرب کی کوششوں کا حصہ ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے عراق کے گورنروں سے کہا ہےکہ وہ اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے عراق کی سرحدوں پر ہر طرح کے دہشتگردانہ اقدامات کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوری مالکی نے دہشتگرد گروہوں کے ذریعے عراق کے امور میں مداخلت کرنے والے عرب ممالک کو مخاطب کر تے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اچھی ہمسائگي کے اصول کی پابندی کریں وگرنہ ان کو عراقی حکام کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔....... /169