9 جون 2012 - 19:30

حالیہ ہفتوں میں تیل کی عالمی قیمتوں میں کافی کمی آئی ہے اور اس ہفتے کے اختتام پر برنٹ تیل کی قیمت گذشتہ اکتوبر سے پہلی بار سو ڈالر سے بھی کم فی بیرل تک جاپہنچی ہے اور لندن کی منڈی میں برنٹ تیل کی قیمت بھی فی بیرل 97 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ اوپک کے تیل کی قیمت بھی سو ڈالر سے کم ہوگئی ہے ۔

ابنا: رواں سال کے آغاز سے ابتک تیل کی قیمت 17 فیصد سے زائد کم ہوچکی ہے جبکہ اوپک کے تیل کی پیداوار مئی کے مہینے میں سنہ 2008 کے بعد سے ابتک سب سے زیادہ رہی ہے اور رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مئی کے مہینے میں خام تیل کی پیداوار بیس ہزار بیرل اضافے کے ساتھہ اپریل کی یومیہ پیداوار 575۔31 ملین بیرل کے مقابلے میں یومیہ 595۔31 ملین بیرل تک پہنچ گئی جو اکتوبر سنہ 2008 کے بعد ابتک کی سب سے بڑی شرح شمار ہوتی ہے ۔

سعودی عرب جو اوپک میں تیل استعمال کرنے والے ملکوں کے مفادات کے محافظ کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے سو ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت تیل برآمد اور تیل درآمد کرنے والے ملکوں کیلئے منصفانہ قیمت سمجھتا ہے البتہ اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم علی النعیمی نے ایک بیان میں تاکید کے ساتھہ کہا تھا کہ ریاض شمالی سمندر کے برنٹ تیل کی قیمت سو ڈالر سے کم ہونے کا خواہاں ہے ۔

توانائی کے ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافے کے ساتھہ توانائی کی عالمی منڈی میں تیل کی بھرمار رکھنا چاہتا ہے اور اس وقت بھی قرائن و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے تیل کی اپنی پیداوار میں اضافہ کرکے تیل کی عالمی منڈی میں غیر روائتی کمی کا اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے ۔

اوپک میں ایران کے نمائندے محمد علی خطیبی نے بعض رکن ملکوں کی جانب سے تیل کے پیداواری کوٹے میں خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپک کے بعض رکن ملکوں اور خاصطور سے سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں اضافہ منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام اور ممکنہ طور پر تیل کی قیمتوں میں کافی کمی آنے کا باعث بنے گآ اور یہ عمل اوپک کے مقاصد کے خلاف ہے ۔

اوپک میں ایران کے نمائندے محمد علی خطیبی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سعودی عرب اور اس کے دو اتحادی ممالک یعنی کویت اور متحدہ عرب امارات اوپک کے ضوابط کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتے ہیں، کہا ہے کہ سعودی عرب تیل استعمال کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں کے دباؤ میں آکر تیل زیادہ برآمد کرنے کے بارے میں ان کی درخواست ماننے پر مجبور ہوگیا ہے ۔

اوپک نے جو دنیا کی ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ خام تیل پیدا کرتی ہے اپنے ایک سوساٹھویں اجلاس میں تیل کی پیداوار یومیہ تیس ملین بیرل تیل رکھنے سے اتفاق کیا اس وقت ایسی صورت حال میں اوپک کے بارہ رکن ممالک منجملہ ایران ۔ عراق ۔ سعودی عرب ۔ کویت ۔ ونیزوئیلا ۔ قطر ۔ لیبیاء ۔ متحدہ عرب امارات ۔ الجزائر ۔ نائیجیریا ۔ انگولا ۔ اور اکواڈور تیل کی پیداواری پالیسی کیلئے ایکبار پھر 14/ جون کو ویانا میں جمع ہورہے ہیں تاکہ اس تنظیم کے خام تیل سے متعلق عالمی منڈیوں میں ضرورت اور تقاضے کا اندازہ لگاکر اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرسکیں ۔ ویانا اجلاس میں تیل کی پیداواری شرح ۔ تیل کی منڈیوں کی آئندہ کی صورت حال ۔

اور سعودی عرب سمیت بعض رکن ملکوں کی جانب سے اوپک کے قوانین و ضوابط سے ہٹ کر تیل کی پیداوار جیسے مسائل کا جائزہ لیا جائیگا ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی اوسطا عالمی قیمت کو غیر حقحقت پسندانہ طریقے سے نیچے لانا ایک شکست خوردہ پالیسی ہے اسلئے کہ پیداواری عمل میں ایک انتخاب کی حیثیت سے یہ جاری پالیسی غیر منطقی ہے جس سے تیل کی پیداواری منطق کی بنیاد سوالات کے دائرے میں آجا رہی ہے ۔

تیل کی پیداوار میں کمی و اضافے کا دارومدار عالمی منڈیوں کی صورت حال پر ہے اور ظاہر ہے کہ اوپک کے رکن ملکوں کے وزراء پٹرولیم کا فیصلہ جو منڈیوں میں توازن کے تحفظ کے دائرے میں ہوتا ہے اس صورت حال سے الگ نہیں ہے اور یہ کہ پیداواری پالیسی میں تیل پیدا اور اس کا استعمال کرنے والے ملکوں کے مفادات کو مّد نظر رکھے جانے کی ضرورت ہے اور ایران بھی اسی کا خواہاں ہے اور اوپک کے بعض رکن ملکوں کی جانب سے پیداواری کوٹے کی خلاف ورزی پر ایران کا اعتراض و احتجاج بھی اسی اصول پر تاکید کے مترادف ہے ۔

اس رو سے ایران اوپک کے آئندہ ویانا اجلاس میں اس بات کی کوشش کریگا کہ تیل کے پیداواری کوٹے پر پابندی کو عملی جامہ پہنا کر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کی روک تھام کرے۔.......

/169