9 مئی 2012 - 19:30

انتقال سے قبل مقتول عالم دین نے کہا تھا: "مجھے مارنے والے میرے اپنے ہی تھے۔ لہذا حکومت سے گزارش ہے کہ اس قسم کےخطرناک واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائی"۔

ابنا: حکومت اور انتظامیہ اس قسم کی خطرناک سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ان واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے عوام کے سامنے پیش کریں۔

یاد رہے قاری رحمت اللہ کو گزشتہ رات یزدان خان سکول کے روبرو کوچہ حسن کے آخری حصے میں واقع مسجد کے پاس نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سے پہلے بھی سبزی روڈ کے کارنر پر واقع مسجد کے پیش امام کو زخمی کیا گیا تھا ۔

مقتول عالم دین نے اپنے انتقال سے کہا تھا: "مجھے اہل تشیع نے نہیں مارا، بلکہ میرے اپنے ہی تھے۔ لہذا حکومت سے گزارش ہے کہ اس قسم کےخطرناک واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائی"۔

.......

/169