اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں ہزارہ قوم کی مختلف سیاسی و سمجابی تنظیموں نے حال ہی میں اتحاد کا اعلان کیا تھا اور آج کے دن انہيں نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب انہيں معلوم ہوا کہ ان کے اتحاد کی خبر پاتے ہی دشمن نے اپنی قوت کی آزمائش کا فیصلہ کیا ہے اور وہ گستاخی اور بےشرمی کی انتہا کرتے ہوئے ہزارہ ٹاؤن میں واردات کرنے کے بعد پیدل بھاگنا چاہ رہے تھے گویا ان کا خیال تھا کہ سرکاری ایجنسیوں کی طرح عوام بھی ان سے حوفزدہ ہوکر ان کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کریں گے لیکن شیعہ نوجوانوں نے ان کو تعاقب کرکے گرفتار کرلیا۔
میں زخمی ہونےوالے شیعہ باشندے کو سی ایم ایچ ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ واقعے میں شہید ہونے والوں کے نام بومان علی اور محمد حسین بتائے گئے ہیں۔دریں اثناء دو دہشت گرد رنگے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کو ـ جو پیدل فرار ہونے کی کوشش کرہے تھے ـ۔ مقامی شیعہ نوجوانوں نے تعاقب کرکے گرفتار کرلیا جن کے نام "گوہرام خان بگٹی" اور "میاں خان مینگل" بتائے گئے ہیں۔ان افراد کے نام و نشان سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ دو افراد بھی نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گرد ہی ہیں جیسا کہ ابنا نے اس سے فبل بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے نام پر سرگرم گروپ وہابی دہشت گردوں سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی کاروائیاں ہمآہنگ ہوتی يیں اور یہی نہیں بلکہ ان کے اہداف و مقاصد بھی ایک جیسے ہیں یا بالفاظ دیگر یہ دو ٹولے دو مختلف ناموں سے ایک ہی ہدف کے لئے کام کررہے ہیں اور شیعہ باشندوں کو نشانہ بنانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا ہدف پاکستان کے حقیقی حامیوں کی بیخ کنی کرنا ہے یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعلی اور صوبائی حکومت حتی کہ صوبائی گورنر کے اپنے ذاتی مشغلے اور شادمانیوں کے سلسلے اتنے ہیں کہ انہیں پاکستان کی سالمیت سے کوئی اشتیاق ہوہی نہیں سکتا، وہ تو ہر حال میں خوش ہیں اور پاکستان سے وفاداری کی دعویدار ایجنسنیوں کو بھی شاید اپنی باری کا انتظار ہے کیونکہ بلوچستان میں مستقل حکومت تشکیل دینے کے سپنے دیکھنے والے گروپ ان پر بھی رحم نہيں کریں گے لیکن ان ایجنسیوں کا خیال ہے کہ یہ ٹولے تو صرف شیعہ دشمن ہیں چنانچہ شاید یہ فرقہ وارانہ رجحانات رکھنے والے سرکاری اہلکاروں کے اطمینان کا باعث بھی ہوسکتا ہے تاہم خبرمنانے کے دن اخر گذر ہی جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بومان علی کو امامبارگاہ علی ابن علی طالب (ع) ہزارہ ٹاون منتقل کردیا گیا ہے جبکہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہونے والے محمد حسین کو سی ایم ایچ ہسپتال کوئٹۃ سے امام بارگاہ نیچاری علمدار روڈ منتقل کردیا گیا ہے۔دریں اثناء امام جمعہ کوئٹہ و مجلس وحدت مسلمین کے رکن علامہ سید ہاشم موسوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اورانتظامیہ دہشتگردی کی روک تھام میں ناکام ہوگئی ہے لہٰذا انہیں منستعفیٰ ہوجانا چاہیئے۔ .......
بشکریہ از شیعت نیوز
/169